ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس شا ہ محمود کا بھارتی وزیر کی تقریر کا بائیکاٹ

ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس شا ہ محمود کا بھارتی وزیر کی تقریر کا بائیکاٹ

  



استنبول (مانیٹرنگ ڈیسک،آن لائن) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے استنبول میں جاری ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے دوران بھارتی وزیر کی تقریر کا بائیکاٹ کر دیا۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں جاری بھارتی مظالم کے پیش نظر انڈین وزیر کی تقریر کا بائیکاٹ کیا۔ وہ انڈین وزیر کی تقریر شروع ہوتے ہی احتجاجاً ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے دوران اجلاس سے آٹھ کر باہر چلے گئے۔بعدازاں کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیاء کی معاشی ترقی اور خوشحالی کیلئے افغانستان میں قیام امن کا استحکام ضروری ہے، ہماری کوشش ہے کہ اس کانفرنس کے شرکاء کے ساتھ مل کرمستحکم اور محفوظ افغانستان کے قیام کے ہدف کو حاصل کرلیں۔ وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ امر حوصلہ افزائی کا باعث ہے کہ استنبول عمل کاآغاز 2011ء میں ترکی اور افغانستان نے مشترکہ طورپر کیا تھا جو افغانستان کے معاملے پر کثیرالجہتی طریقہ ہائے کار کا کلیدی حصہ بن چکا ہے۔ مختصر مدت میں اس عمل نے بڑی تیزی سے ترقی کی ہے اور تقویت پائی ہے۔ اس سمت میں آگے بڑھتے ہوئے مجھے اعتماد ہے کہ ہم مستحکم اور محفوظ افغانستان کے قیام کے لئے اس یکساں ہدف کو پالیں گے جو خطے کی معاشی ترقی اور خوشحالی کے لئے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایشیاء ایک جسم کی مانند ہے جو پانی اور مٹی سے وجود میں آیا اور افغانستان اس جسم میں ایک دل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر افغانستان میں امن ہوگا تو پورے ایشیاء میں امن ہوگا۔ اگر افغانستان میں بدامنی ہوگی تو پورے ایشیاء میں انتشار ہوگا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان سے بدامنی کا پاکستان میں داخل ہونا، منشیات فروشوں اور دہشت گرد گروہوں کے درمیان گٹھ جوڑ، خطے کو باہم جوڑنے کے منصوبہ جات کو عملی شکل دینے کے عمل کا فقدان کی وجہ سے پاکستان متاثر ہوا۔ شا ہ محمود قریشی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان مسائل سے قطع نظر پاکستان کے افغانستان  کے ساتھ تمام شعبہ جات میں تعلقات کی مضبوطی اور گہرائی ہماری اولین ترجیح ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ تجارت اور معاشی تعلقات میں اضافہ ہو، عوامی سطح پر دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کو بڑھایاجائے اور خطے میں رابطوں کا فروغ ہو۔ طورخم کراسنگ پوائنٹ کا چوبیس گھنٹے کے لئے کھل جانا ہماری سوچ اور اس واضح مقصدکے حصول کے لئے واضح اظہار ہے کہ ہم افغانستان میں امن اور ترقی کی کوششوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ زوردیا ہے کہ افغان تنازعے کا کوئی فوجی حل نہیں،ہماری نظر میں اس مسئلے کا واحد حل بات چیت کے ذریعے سیاسی تصفیہ ہے جبکہ طاقت کے استعمال کی سوچ عام افغانوں کے دکھوں کو مزید بڑھانے کے مترادف ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان صدر ٹرمپ کے افغانستان میں سیاسی تصفیہ کے لئے بیان کا بھرپور خیرمقدم کرتا ہے جس میں طالبان سے مذاکرات کی بحالی بھی شامل ہے۔ مذاکرات کی حالیہ بحالی مثبت پیش رفت ہے جس سے افغانستان اور خطے میں پائیدار امن واستحکام کی راہ ہموار ہوگی۔ ہم امن عمل کے نتیجے میں بین الافغان جامع مذاکرات کے خواہاں ہیں۔ پاکستان تمام فریقین، علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کوششیں جاری رکھے گا تاکہ سیاسی تصفیہ ممکن ہو اور تمام افغانوں کے مفادات اور تحفظات کا اطمنان بخش حل میسرآسکے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ ہمیں ’شرپسندوں‘ کے کردار سے بھی ہوشیار رہنا ہوگا جن کے اپنے مفادات ہیں۔بعدازاں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے درمیان  ملاقات  میں دو طرفہ تعلقات اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیاگیا۔وزیر خارجہ نے ترک صدر کو پاکستانی قیادت کی طرف سے تہنیتی پیغام پہنچایا۔وزیر خارجہ نے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے انعقاد، بھرپور میزبانی اور پرتپاک خیرمقدم پر ترک صدر کا خصوصی شکریہ ادا کیاجبکہ ترک صدر نے وزیر اعظم عمران خان اور پاکستانی قیادت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔دریں اثناء وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود نے امریکہ کی قائم مقام معاون وزیر خارجہ ایلس ویلز سے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران پاکستان اور افغانستان کے مابین دو طرفہ تجارت سے متعلقہ امور تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ (APAPPS) کے تحت افغانستان پاکستان تجارت و سرمایہ کاری ورکنگ گروپ، موجود ہے جو دو طرفہ تجارت کے فروغ میں اہم کردار ادا کریگا۔

بائیکاٹ/شاہ محمود

مزید : صفحہ اول