پلان بی سے زیڈ پر چلا گیا، کرپشن کیخلاف جہاد میں قوم بھی حصہ لے نوجوان کرپٹ لوگوں کا پیچھا کرینگے تو نیا پاکستان بنے گا، خاندانی سیاست جمہوریت کی نفی ہے: عمران خان

    پلان بی سے زیڈ پر چلا گیا، کرپشن کیخلاف جہاد میں قوم بھی حصہ لے نوجوان ...

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قوم بھی کرپشن کے خلاف جہاد میں حصہ لے، کرپٹ آدمی ملک اور عوام کا دشمن ہے۔ نوجوان جب کرپٹ لوگوں کا پیچھا کریں گے تو نیا پاکستان بنے گا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار بدعنوانی کے خاتمے کیلئے اقدامات اجاگر کریں، وزیراعلیٰ پنجاب ان کامیابیوں کا پرچار ہیں تا کہ عوام کو پتہ چلے، پاکستان میں کرپٹ افراد پر پھول نچھاور کئے جاتے ہیں۔جب کرپٹ لوگوں کا پیچھا کریں گے تو نیا پاکستان بنے گا، جس ملک میں کرپشن نہیں ہے وہ ترقی یافتہ ہیں،پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ اوورسیز پاکستانی ہیں پیر کو انسداد بدعنوانی کا عالمی دن کے موقع پراینٹی کرپشن ایپ لانچ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ بدعنوانی سے متعلق ایپ لانچ کر کے بڑی خوشی ہوئی، اینٹی کرپشن پنجاب کی کارکردگی متاثرکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں تیس سال بعد بھی کرپٹ افراد کو پکڑا جاتا ہے، کرپٹ لوگ پیسہ بینکوں کے ذریعے نہیں ٹی ٹیز کے ذریعے باہر بھجواتے ہیں، کرپٹ لوگ پیسہ باہر بھجوا کر ملک کا دوگنا نقصان کرتے ہیں، پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ اوورسیز پاکستانی ہیں، منی لانڈرنگ سے ملک کا نقصان ہوتا ہے، کرپٹ معاشروں میں سرمایہ کاری نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ بڑے بڑے کک بیکس کیلئے بنائے جاتے ہیں، وزیراعظم نے کہا کہ لوگوں کو سمجھ نہیں کہ پیسہ چوری کرنے سے ملک کو کتنا نقصان ہوتا ہے، کرپشن ہوتی ہے تو لوگوں کو پتہ چل جاتا ہے، پہلے کرپشن ہوتی تھی تو لوگوں کو علم نہیں ہوتا تھا، بیروت، چلی اور عراق میں لوگ کرپشن کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں کہتے ہیں کہ اگر کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے، ایسی باتیں وہ لوگ کرتے ہیں جنہوں نے دنیا نہیں دیکھی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کرپشن کے خلاف جہاد میں قوم کو بھی حصہ لینا ہو گا،نوجوان جب کرپٹ لوگوں کا پیچھا کریں گے تو نیا پاکستان بنے گا، کرپٹ آدمی ملک اور عوام کا دشمن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملتان میٹرو غیر ضروری منصوبہ ہے یہ منصوبہ پیسوں کیلئے بنایا گیا، کرپشن کے خلاف نوجوانوں کو خاص شرکت کرنا ہو گی، کرپشن سے متعلق عوام کو بتائیں کہ اس سے کیا نقصان ہوتا ہے، ہم نے ایپ لانچ کی ہے تو اس کے بارے میں بھی عوام کو بتانا ہو گا،ضرورت ہو تو اشتہار کے ذریعے عوام کو بتائیں اس سے کیا فائدہ ہو گا۔وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ ملکی معیشت کے استحکام کی حکومتی کوششوں کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے ہیں، اقتصادی اعشاریوں کے اعتبار سے سنگین مشکلات میں گھری معیشت میں آج واضح استحکام نظر آ رہا ہے، استحکام سے آگے کا سفر معیشت کی بہتری اور ترقی ہے، موجودہ حکومت کی جانب سے سماجی تحفظ اور تخفیف غربت کی غرض سے شروع کیا جانے والا کثیر جہتی پروگرام احساس حکومتی ترجیحات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پیر کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی معاشی ٹیم کا اجلاس ہوا جس میں ملکی معاشی صورتحال، ایف بی آر سے متعلقہ عدالتوں میں زیر التوا کیسز میں پیش رفت، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے حوالے سے مراعات، پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی، معیشت کے ثمرات کو عوام تک پہنچانے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے سلسلے میں اقدامات جیسے اہم معاملات زیر غور کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملکی معیشت کے استحکام کی حکومتی کوششوں کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی اعشاریوں کے اعتبار سے سنگین مشکلات میں گھری معیشت میں آج واضح استحکام نظر آ رہا ہے۔ استحکام سے آگے کا سفر معیشت کی بہتری اور ترقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام اور اقتصادی اعشاریوں میں بہتری کا اعتراف بین الاقوامی اداروں کی جانب سے بھی کیا جا رہا جس سے نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ ٭ وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ بعض مخصوص عناصر کی جانب سے ذاتی مفادات کی خاطر ملکی معیشت جیسے اہم قومی معاملے پرغلط بیانی پر مبنی اور گمراہ کن پراپیگنڈہ کیا جانا افسوس ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے مافیاز کا مقابلہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ حقائق پر مبنی معلومات کی عوام تک رسائی کو یقینی بنایا جائے۔ وزیرِ اعظم نے حکومتی معاشی ٹیم کو ہدایت کی کہ معیشت کی اصلاح کے لئے کی جانے والی ہر کوشش اور پیش رفت سے عوام کو آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام بذات خودبے بنیاد پراپیگنڈے کو رد کردیں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ معاشی استحکام کے حصول کے بعد حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ محدود وسائل کے باوجود عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ کم آمدنی والے اور غریب افراد پر پڑنے والے بوجھ میں کمی آئے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے سماجی تحفظ اور تخفیف غربت کی غرض سے شروع کیا جانے والا کثیر جہتی پروگرام احساس حکومتی ترجیحات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت مجموعی طور پر معاشی ترقی کے لئے دن رات کوشاں ہے وہاں بنیادی اشیائے ضروریہ کی مناسب قیمتوں پر فراہمی، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف انتظامی اقدامات پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے کی تمام تر کوششوں کا مقصد شفافیت اور کرپشن کا خاتمہ ہے۔ وزیرِ اعظم نے معاشی ٹیم کو ہدایت کی معیشت کے حوالے سے حل طلب معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے تاکہ معاشی ترقی کا عمل بلا تعطل رواں دواں رہے۔

اینٹی کرپشن ایپ

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،آئی این پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا بڑے مقصد کیلئے کشتیاں جلانا پڑتی ہیں، جنون ٹیلنٹ کو ہرا دیتا ہے، انسان کا وژن جتنا بڑا ہوگا اتنی ہی کامیابی حاصل کرے گا، کچھ دن پہلے بھی ایک پلان ہوا تھا، پھر بی اور سی ہوا، پھر زیڈ پر چلا گیا، مسلمانوں کے پیچھے رہ جانے کی ایک وجہ جمہوریت کا نہ ہونا اور بادشاہت کا قائم ہونا تھا جس میں احتساب نہیں ہوتا، فواد چودھری کو سائنس و ٹیکنالوجی کا وزیر بنا دیا، اچھے کپتان کو پتہ ہوتا ہے کس کھلاڑی کو کس نمبر پر کھیلانا ہے، سائنس و ٹیکنالوجی کیلئے فواد چودھری کی کوشش کو سراہتا ہوں، ماضی میں میرٹ نہ ہونے کی وجہ سے ملکی ترقی رک گئی، کچھ لوگ برے وقت میں دلبرداشتہ ہو جاتے ہیں،جب کرکٹ کھیلتا تھا تو میرے بھی رول ماڈلز تھے، جمعہ کی نماز کیلئے والد زبردستی لے کر جاتے تھے، دنیا کے رول ماڈل نبی کریم ہیں۔ پیر کو نیشنل یونیورسٹی فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) میں ایک تقریب میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ جب وفاقی حکومت نے فواد چوہدری کو وزیرسائنس و ٹیکنالوجی بنایا تو بہت سی باتیں ہوئیں اور کہا گیا کہ فواد چوہدری وزارت کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں اور مجھے کہا گیا کہ آپ فواد چوہدری کو وزیرسائنس و ٹیکنالوجی بنادیا ہے لیکن ایک اچھا کپتان وہی ہوتا ہے جسے معلوم ہو کہ کس کھلاڑی کو کس وقت کھیلنا ہے لیکن آج فواد چوہدری داد کے مستحق ہیں اور وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی وزارت کو کوئی توجہ نہیں دیتا تھا لیکن آپ نے جنون کے ساتھ کام کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج پہلی پرنیشنل ڈیفنس یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں آیا ہوں اور خود پر شرمندہ ہوں کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ یونیورسٹی کتنے زبردست انداز میں کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسان اگر کسی چیز کو تصور کر سکتا ہے تو اللہ نے ہر انسان کو طاقت دی ہے کہ وہ اس کو حاصل بھی کر سکے، اگر کوئی قوم کسی دوسرے پر انحصار کرنے لگے تو وہ قوم محتاج ہو جاتی ہے، وہ اپنے نظریے اور ضابطوں کے بجائے دوسرے قوموں کے نظریے اور آئیڈیاز پر چلنے کی عادت بنالیتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ1960میں پاکستانیوں میں خود اعتمادی تھی اور اس دور میں بھارت میں خود اعتمادی پر کمپلیکس تھا، اس دور میں ملک میں ادارے مضبوط تھے اور میرٹ کا بہترین نظام تھا لیکن جب آہستہ آہستہ میرٹ سٹم نیچے گیا تو ملک بھی آہستہ آہستہ نیچے چلا گیا، آج کے نوجوانوں پر بڑی ذمہ داری ہے اور ان کیلئے جو ہائر ایجوکیشن میں پڑھنے والے طلباء ہی اس ملک کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ نے انسان کو تصور کو پورا کرنے کی طاقت دی ے اور فرشتوں کو کہا تھا کہ انسان کو سجدہ کرے اور جب شیطان نے انسان کو سجدے سے انکار کیا تو اللہ نے فرمایا کہ تمہیں نہیں معلوم کہ انسان کو میں نے کیا طاقت دی ہے، علم یک طاقت دی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ انسان دنیا سے گزر جاتا ہے لیکن اسے معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کیاکر سکتا تھا، مولانا رومی کی حکایت ہے کہ جب انسان تو پرملا ہے تو کیونکہ چیونٹیوں کی طرح زمین پر رینگتا ہے، اللہ نے انسان کو بہت طاقت دی ہے اور طاقت کو حاصل کرنے کیلئے بڑے خوا کاہونا ضروری ہے اور بڑی وژن وہی ہوتا ہے جو اپنی ذات سے بڑھ کر ہو اور دنیا میں جو بھی آج بڑا انسان بنا ہے وہ ہمیشہ اپنی ذات س نکل کر بڑا بنا ہے، دنیا کی تاریخ کسی امیر آدمی کو نہیں جانتی ہے لیکن جس نے انسانوں کیلئے کام کیا دنیا انسان کو جانتی ہے، آج بل گیٹس دنیا میں بڑا آدمی ہے کیونکہ وہ انسانوں کیلئے کام کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیشہ جنون دل میں ہوتا ہے اور دل کی سننی چاہیے، دل انسان کے ڈرائیونگ فورس ہوتی ہے اور کامیابی کا راز ہی یہ ہے کہ آپ کشتیاں جلا کر جاتے ہیں، کوئی پلان بی نہیں ہوتا لیکن ابھی پلان ہوا تھا اور پھر سی ہو گا اور زیڈ تک چلا جائے گا، انسانی طاقت تب کامیاب ہوتی ہے جب وہ پیچھے واپس جانے کا سوچنا چھوڑ دیتے ہیں۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ کبھی ہار آپ کوہار انہیں سکتی جب تک آپ ہار نہ مانتے ہیں اور جب وقت انسان اپنے آپ کو چیلنج کرنا چھوڑ دیتا ہے تو وہ نیچے کی طرف جانا شروع ہوجاتی ہے اور انسان کی زندگی میں ایک سنگ میل کے بعد دوسری سنگ میل ہے، ہمیں ہمیشہ اپنی طاقت کو جاری رکھنا چاہیے، ہمیں اپنے رول ماڈل بنانے کی ضرورت ہے اور دنیا میں سب سے بڑے رول ماڈل حضرت محمدؐ ہیں، حضرت محمدؐ کی زندگی سے سیکھنے کا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، جب ہم حضرت محمدؐ کی زندگی کو پڑھتے ہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ کیوں رحمت العالمین ہیں، ساری زندگی اپنی زندگی مشکلات برداشت کیں لیکن کمپرومائز نہیں کیا، حضورؐ کے دنیا سے وصال کرنے کے بعد ان کے تمام ساتھی دنیا کے بڑے انسان بنے، حضورؐ نے معاشرے میں میرٹ لائے تھے لیکن جب معاشرے سے میرٹ ختم ہو جائے تو معاشرے تباہ ہونے لگتے ہیں، وزیراعظم نے بلاول بھٹو پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ جب بارش آتا ہے تو زیادہ پانی آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بار بار کہا جاتا ہے کہ آپ کیوں کہتے ہیں معیش تکوت باہ کر کے لوگ گئے ہیں میں کہتا ہوں کہ چار سال تک یہ بتاتا رہوں گا کیوں کہ اس حکومت کا موازنہ ہوتا ہے جو پچھلی حکومت چھوڑ گئی اس ملک کو جس حال میں۔

عمران خطاب

مزید : صفحہ اول


loading...