مسلم لیگ (ن) کا الیکشن کمیشن معاملات اور آرمی ایکٹ میں مجوزہ ترمیم کا حصہ نہ بننے کا اعلان 

      مسلم لیگ (ن) کا الیکشن کمیشن معاملات اور آرمی ایکٹ میں مجوزہ ترمیم کا حصہ ...

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) پاکستان مسلم لیگ (ن) نے الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری اور آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے مجوزہ ترمیم کے حوالے سے حکومت سے رابطے نہ رکھنے کا اعلان کردیا۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے لیگی رہنما خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کی بصارت ہے نہ سماعت، حکومت اس تکلیف دہ صورتحال کو کہاں تک لے کر جائے گی؟  انہوں نے کہا کہ سیاسی دشمنی کو ذاتی دشمنی میں تبدیل نہ کریں، دشمنی ہم بھی نبھانا جانتے ہیں، ہمیں جنگ کا پیغام دیا جارہا ہے، ہم اس کے لیے تیار ہیں لیکن پھر سسٹم لپیٹا جائے گا۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مخالفین کے گھروں کا تقدس پامال کرنے کی روایت لائی گئی ہے، گھروں کا تقدس پامال نہ کیا جائے، ایسے رویوں سے تشدد کی لہر شروع ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں کبھی ایسا نہیں ہوا، یہ خطرناک روایت ہے، ہم جانتے ہیں مظاہرہ کرنے والوں کی سرپرستی کس نے کی، پی ٹی آئی کارکنوں نے رہائش گاہ پر حملہ کرنے کی کوشش کی، ہم ایسے رویے رکھنے والوں کے چہرے نہیں بھولیں گے۔خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے قائد کے گھروں پر حملہ ہوسکتاہے تو سب کے گھروں پر ہوسکتاہے، ہم دشمنی بڑھانا نہیں چاہتے  تاہم اب ہم الیکشن کمیشن کے معاملات اور آنے والی ترمیم کا حصہ نہیں بنیں گے۔لیگی رہنما نے الیکشن کمیشن تقرریوں سمیت کسی بھی قانونی ترمیم کے لیے حکومت سے رابطہ قائم نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایسی صورتحال میں حکومت سے رابطے برقرار نہیں رکھے جاسکتے، جو کانٹے بکھیر رہے ہیں، ان کو یہی چنیں۔انہوں نے مزید کہا کہ نوازشریف کے گھر کا تقدس پامال کرنے کی کوشش کی تو ہم ویسا ہی جواب دیں گے، حملے کی منصوبہ بندی کرنے والوں کا پتہ ہے، آخری حد تک ان کا پیچھا کریں گے۔خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ہم سیاسی دشمنی کو ذاتی میں نہیں بدلنا چاہتے، ہمارے قائد کو کسی قسم کا نقصان پہنچا تو آخری حد تک جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف حکومت نہیں بلکہ عدالتی فیصلے سے لندن گئے۔ لندن میں جنہوں نے احتجاج کیا، وقت آنے پر سب کے نام بتاؤں گا۔انہوں نے کہا کہ لندن میں حملے کی کوشش کی گئی۔ ماضی میں کبھی ایسا نہیں ہوا، یہ خطرناک روایت ہے۔ یہ سلسلہ شروع ہو گیا تو بند نہیں ہوگا۔ نواز شریف یا کسی اور سیاستدان کے گھر کا تقدس پامال ہوگا تو آخری حد تک جائیں گے۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہماری سیاسی روایات میں ایسی چیزیں شامل نہیں، سیاست میں یہ چیزیں چار سے پانچ سال میں متعارف کرائی گئیں، گھروں کے تقدس کو پامال نہیں کرنا چاہیے۔ اس طرح کے رویے سے تعاون نہیں بلکہ ہمیں جنگ کا پیغام دیا جا رہا ہے، پھر یہ سارا سسٹم لپیٹا جا رہا ہے۔ ہم اپنے ورکرز کو کسی کے گھر کے باہر مظاہرے کی ہدایت نہیں دیں گے۔وفاقی وزیر مراد سعید نے کہا ہے کہ قرضوں کے پیسوں سے بیرون ملک جائیدادیں بنائی گئیں لیکن ہمیں کہا جاتا ہے کہ کرپشن کے خلاف بات نہ کرو۔ ہم ان کی طرح مک مکا نہیں کر سکتے۔ شہباز شریف کو ٹی ٹیز سکینڈل کا جواب دینا ہوگا، دھمکیوں کا کلچر نہیں چلے گا، ان کو پتا تھا لندن سے واپسی پر سوال ہوں گے۔ خواجہ آصف کی تقریر کے ردعمل میں مراد سعید کا قومی اسمبلی سے خطاب میں کہنا تھا کہ اپوزیشن کے رہنما تقریریں کرتے ہیں لیکن جواب نہیں سنتے۔ لندن مظاہرے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ یہ اس گھر کی بات ہو رہی ہے جس کو ثابت کرنے میں ہمیں پانچ سال لگے۔وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا کہ پہلے یہ لیکچر دیتے تھے کہ لندن میں قائد کی جائیداد نہیں، اب وہیں پر میٹنگ کرتے ہیں۔ یہ بڑے بڑے محلات پاکستان کے پیسوں سے بنے۔ آپ نے کہا ”ووٹ کو عزت دو“ پھر خود ”کہا مجھے اجازت دو“۔وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور ڈویژن حماد اظہر نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ لندن میں نواز شریف کے بیٹے کے گھر پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہیں لیکن وہ پی ٹی آئی کے لوگ نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ خاندانوں کی غلامی قبول کی جارہی ہے لیکن جنرل جیلانی، اور ضیاء کی سلیکٹ کرنے کی بات بھول گئے ہیں یہ کوئی جمہوریت نہیں ہے کہ ایک خاندان کے بچوں کی غلامی کی جائے، چار سال کے بعد کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں آیا ہے، اب ملک بہتری کی طرف جارہا ہے، 15ماہ کی کامیابی ہے، کرپشن کا حساب عدالتوں میں دیا جائے لیکن اس فورم کو استعمال نہ کیا جائے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما و سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف کے بیٹے کی رہائش گاہ پر حملہ افسوس ناک ہے،ا وزیر اعظم سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس واقعہ کی تحقیقات کروائی جائیں۔ راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ لندن میں نواز شریف کے بیٹے کی رہائش گاہ پر حملے کے واقعہ بہت افسوسناک ہے، سیاست میں برد باری کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے ایسا نہیں ہوتا توپھر ہم تباہی کی طرف جائیں گے اور اگر آپ کسی کے گھر حملہ کریں گے تو پھر آپ کے گھر پر بھی حملہ ہوگا اگر کسی کو عزت دیں گے تو آپ کو بھی عزت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں لاء اینڈ آرڈر کی بُری صورتحال ہے قتل و غارت عام ہوچکی ہے، اہم ایشو پر ایوان میں بات ہونی چاہیے  لیکن ہم صرف سیاسی مخالف کے گھر پر جا کر حملہ کروا رہے ہیں۔ اگر یہ صورتحال رہی اور حکومت کہے کہ ہم حکومت کی اسمبلی میں سپورٹ کریں تو یہ ناممکن ہے۔میاں جاوید لطیف نے کہا ہے کہ احتساب کے ادارے آزاد ہیں تو پھر وزیراعظم کیوں کہتے ہیں کہ فلاں کو پکڑ لو اور فلاں کو چھوڑ دو، میں نے پہلی مرتبہ سنا ہے کہ ڈی جی نیب بھی سوموٹو لیتا ہے، آج کے وزیر فرماتے ہیں کہ پرویز مشرف ہمارا ہیرو تھا، آئین توڑنے والے کو ہیرو کہا جا رہا ہے لیکن فاطمہ جناح کو غدار کہا گیا، حکومتی وزیر نے مجھے کہا کہ پہلے فیصل آباد میں منشیات بکتی تھیں اور اب شیخوپورہ میں منشیات فروخت ہو رہی ہیں،فارن فنڈنگ کے ستائیس اکاؤنٹس کے بارے میں سٹیٹ بینک بتا رہا ہے اس حوالے سے عوام کو بتایا جائے۔وزارت مذہبی امور نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ حجاج کی جمع کروائی گئی رقم پر بینکوں سے سود لیا جاتا ہے۔ایوان کو بتایا گیا کہ گزشتہ برس 3لاکھ 74 ہزار 857 پاکستانیوں نے حج درخواستیں جمع کروائیں، 106ارب 41 کروڑ روپے سے زائد رقم اکٹھی ہوئی،جن سے 21کروڑ روپے کا سود حاصل ہوا۔ایوان کو بتایاگیاکہ گزشتہ پانچ سال کے دوران 1ارب 17 کروڑ روپے کا سود حاصل ہوا۔وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے بتایاکہ کوئٹہ،زیدان سیکشن پر ایک مال گاڑی ہی چلتی ہے جو ایران پاکستان کیلئے درآمدی، برآمدی اشیاء  لیجاتی ہے۔ شیخ رشید احمد نے کہاکہ ٹریک کی حالت کی وجہ سے سیکشن پر رفتار 20 تا 30 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے،ٹرین کا آپشن انتہائی موسمی حالات سے متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ریت کا طوفان ٹریک کو ڈھانپ لیتا ہے جبکہ بارش کی وجہ سے بھی وجہ ہے،مذکورہ سیکشن پر فیزیبیلیٹی جائزہ جاری ہے، یہ ٹریک فیزیبیلیٹی اسٹڈی کی بنیاد پر اپ گریڈ کیا جائے گا۔وزارت صنعت و پیداوار نے بتایاکہ پاکستان سٹیل ملز میں 9 ہزار 477 ملازمین کام کر رہے ہیں،سال 2013 سے اب تک 5 ہزار 661 ملازمین ریٹائرڈ ہوئے،مالی سال 2019 اور 2020 کی تنخواہوں کے لئے وفاقی حکومت نے 4 ارب 10 کروڑ روپے کی منظوری  دی ہے،سٹیل ملز کے ملازمین کو ستمبر 2019 تک کی تنخواہیں ادا کی جا چکی ہیں،اکتوبر نومبر 2019 ء کی تنخواہیں فنانس ڈویژن جاری کر رہا ہے،مالی مشکلات کے باعث 2013 سے ریٹائرڈ افراد کو ادائیگیاں نہیں کی جا سکیں۔پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر نوشین نے کہاکہ شاہد خاقان عباسی کی جون کے آخری ہفتے میں ہوئی کابینہ نے قیمتیں بڑھانے کی منظوری دی،ادویات کی قیمتوں میں کمی یا اضافہ ڈرگ پر آئسنگ کمیٹی کرتی ہے۔ڈاکٹر نوشین حامد نے بتایاکہ اس مرتبہ ڈینگی سے مقابلے کے لئے پوری طرح تیار ہیں،پچھلی دفعہ ڈینگی سے نمٹنے کے لئے پوری تیاری نہیں۔ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئیپارلیمانی سیکرٹری برائے پورٹس اینڈ شپنگ جمیل احمد خان نے کہا ہے کہ بابا بھٹ کی جیٹی کی تعمیر کیلئے این او سی جلد جاری کر دیئے جائیں گے، اس حوالے سے 2014تک بابا بھٹ کی جیٹی کا کام مکمل نہ ہو سکا، اب کنٹریکٹ 100ملین اضافے مانگ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے دورہ کر لیا ہے، بورڈ کے ممبران کی میٹنگ میں ان کے این او سی جاری کر دیئے جائیں گے، قادر پٹیل نے کہا کہ 20ہزار لوگوں کا جزیرہ تھا کنٹریکٹ کے جھکڑے میں عوام کے پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جب سندھ حکومت نے کام شروع کیا تو اس کو روک دیا گیالیکن علی زیدی ایوان میں کہہ کر گئے ہیں کہ دو دن پہلے این او سی دے دیاگیا۔

قومی اسمبلی

مزید : صفحہ اول