طلبہ یونین کی بحالی کی تحریک سے مہاجر دور رہیں: ڈاکٹر سلیم حیدر

  طلبہ یونین کی بحالی کی تحریک سے مہاجر دور رہیں: ڈاکٹر سلیم حیدر

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر)مہاجر اتحاد تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر سلیم حیدر نے کہا ہے کہ مہاجر پاکستان مخالف قوتوں کی جانب سے چلائی جانے والی طلبہ یونین بحالی تحریک سے دور رہیں، اس کا نہ تو حصہ بنیں اور نہ ہی ان عناصر کا کسی سطح پر ساتھ دیں کیونکہ کچھ قوتیں پے درپے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی سازشوں میں مصروف ہیں، مہاجروں نے پاکستان بنایا اور پاکستان بچانے کیلئے بھی ہراول دستے کا کردار ادا کریں گے۔ وہ مختلف طلبہ کے وفود سے بات چیت کررہے تھے۔ ڈاکٹر سلیم حیدر نے کہاکہ یہ معاملہ ایک اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کی جانب سے چند دنوں قبل شروع ہوا ہے اور ملک کے 8شہروں سے بیک وقت مظاہرے ہوئے ہیں۔ اس پوری تحریک کے پیچھے ریاست مخالف عناصر ہیں، جو مختلف طریقوں سے پہلے کوششیں کرچکے ہیں، ایک کوشش لانگ مارچ کے ذریعے طالبان کو یہاں لانے کی کوشش کرچکے ہیں جس کا نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑرہا ہے۔ ایک کوشش وہ اس ملک میں مسلسل کررہے ہیں جو پاکستان اور فیڈریشن کا سب سے زیادہ مضبوط گروہ ہے جو پاکستان کی فیڈریشن، ریاست جس کی وجہ سے یہ ریاست جڑی ہوئی ہے جو سب سے بڑے بانیان پاکستان ہیں، انہیں مسلسل پاکستان سے مایوس کروایا جارہا ہے تاکہ جب یہ لوگ پاکستان کی فیڈریشن سے مایوس ہوجائیں تو انہیں پاکستان کو توڑنا آسان ہوجائے۔ اسی طریقے سے ان ریاست مخالف عناصر نے سوچا ہے کہ نوجوانوں کی طاقت کو استعمال کیا جائے اس سے پہلے وہ مذہبی فرقے کو استعمال کرچکے ہیں، پھر نسلی طورپر پاکستان کی تمام قومیتوں اور فرقوں کو مہاجروں کیخلاف کھڑا کرکے ہمیں دیوار سے لگایا اب کوشش ہورہی ہے کہ نوجوانوں کو استعمال کرکے ملک کو عدم استحکام کا شکار کریں۔ اس لئے ان اس تحریک کے پیچھے منفی مقاصد ہیں اور منفی قوتیں ان کو سپورٹ کررہی ہیں۔ ان ریاست مخالف تنظیموں کے لیڈران اس میں آگے آگے نظر بھی آرہے ہیں اور بلاول بھٹو جیسے لوگ اس کی حمایت میں سب سے آگے ہیں، انہوں نے کہاکہ مطالبہ یہ ہے کہ طلبہ یونین کو بحال کیا جائے ہوسکتا ہے مطالبہ صحیح ہو لیکن جو پیچھے ذہن ہے وہ پاکستان مخالف ہیں کیونکہ مہاجر پاکستان کی وفاق پر یقین رکھتے ہیں اور پاکستان کو مستحکم اور محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں، ہم اس طرح کی پاکستان مخالف کسی تحریک یا سازش کا نہ تو حصہ بنیں گے اور نہ ہی اس طرح کے کسی عمل کو برداشت کریں گے۔

مزید : صفحہ آخر