بچوں سے زیادتی کا کیس، ملزم سہیل ایاز کے کمپوٹرسے کیا کچھ ملا؟ شرمناک تفصیلات سامنے آگئیں

بچوں سے زیادتی کا کیس، ملزم سہیل ایاز کے کمپوٹرسے کیا کچھ ملا؟ شرمناک ...
بچوں سے زیادتی کا کیس، ملزم سہیل ایاز کے کمپوٹرسے کیا کچھ ملا؟ شرمناک تفصیلات سامنے آگئیں

  



اسلام آباد(آئی این پی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے بچوں سے زیادتی کے واقعات میں ملوث ملزم سہیل ایاز کے کیس پر جے آئی ٹی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ جے آئی ٹی میں چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے لوگوں کو بھی شامل کیا جائے،راولپنڈی پولیس حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ بچوں سے زیادتی کے کیس میں ملوث سہیل ایاز کے کمپیوٹر کے ریکارڈ سے ایک لاکھ کے قریب تصاویر نکلی ہیں ،جبکہ سہیل ایاز اور متاثرہ بچوں کا ڈرگ ٹیسٹ بھی مثبت آیا ہے، بچوں کو زبردستی نشہ کروایاجاتا تھا ، بچوں کے مطابق چرس اور آئس کا نشہ کروا کر زیادتی کی جاتی تھی ، وہ بات بھی کنفرم ہو گئی ہے، سہیل ایاز خیبر پختونخوا میں تین لاکھ روپے کی تنخواہ پر ملازمت کررہا تھا، ڈی این اے رپورٹ آئی ہے ایک بچے کا ڈی این اے میچ ہو گیاہے ۔

کمیٹی نے ایف آئی اے کی جانب سے ازخود نوٹس لینے کے حوالے سے قانون میں ترمیم کے لیئے تجاویز بھی طلب کر لیں، پیر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس سینیٹر روبینہ خالد کی صدارت میں ہوا،جس میں بچوں سے زیادتی کی ویڈیوز ڈارک ویب پر اپلوڈ ہونے کا معاملہ زیر غور آیا،چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر روبینہ خالد نے ریمارکس دیئے کہ ایسے کیسوں میں اگر سزا ہو تو صلح کی گنجائش نہیں ہونی چاہیئے،سہیل ایاز دو مرتبہ ڈی پورٹ ہو کر آیا تو کیوں اس کی شناخت نہیں ہوئی؟ خیبرپختونخوا حکومت میں نوکری کیسے کی؟ہم چاہتے ہیں اس کیس کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں،چاہے کسی کی بھی پشت پناہی ہو اس کو نہیں جانے دینا۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد