" عمران خان اگر مائنس ہوئے تو حکومت چار دن بھی نہیں چل سکے گی مگر پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہاں مائنس کوئی بھی نہیں ہوتا۔ جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا تو ۔ ۔ ۔ "

" عمران خان اگر مائنس ہوئے تو حکومت چار دن بھی نہیں چل سکے گی مگر پاکستان کی ...

  



لاہور(کالم:  نسیم شاہد) جہانگیر ترین نے بالآخر سچ بول دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ عمران خان ہیں تو تحریک انصاف ہے، وگرنہ اس کا کوئی وجود نہیں۔ وہ مائنس عمران خان کے مطالبے کا جواب دے رہے تھے۔ اِدھر مولانا فضل الرحمن بضد ہیں کہ دسمبر میں عمران خان حکومت کا دھڑن تختہ ہو جائے گا۔ ان کا استدلال ہے کہ جو لوگ عمران خان کو لائے تھے، انہوں نے دسمبر میں تبدیلی کی یقین دہانی کرائی ہے۔

اب وزراء ان کی باتوں کو دیوانے کا خواب اور بلی کو خواب میں نظر آنے والے چھیچھڑوں سے تعبیر کر رہے ہیں۔ احسن اقبال نے تو یہ پیش گوئی بھی کر دی ہے کہ پی ٹی آئی کے ٹکڑے ہونے والے ہیں۔ ایک بڑا دھڑا عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے والا ہے۔ اب ان سب باتوں کا جہانگیر ترین نے بڑا مسکت جواب دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ عمران خان ہیں،تو تحریک انصاف ہے۔

یہ سچ بیانی شاید اس لئے ضروری تھی کہ جو لوگ پارٹی کے اندر اور باہر یہ سوچتے ہیں کہ مائنس ون فارمولا لگا تو وہ کہاں کھڑے ہوں گے؟ ان کے دماغ کا فتور دور کر دیا جائے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ عوام نے جب تحریک انصاف کو ووٹ دیئے تو وہ عمران خان کے لئے دیئے تھے۔ اب بھی اگر انہیں امیدیں ہیں تو عمران خان سے ہیں، باقی سب تو انہیں چھان بورا نظر آتا ہے، بلکہ وہ تو یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کو اگر اچھے وزیر مشیر مل جاتے تو ان کی کامیابی یقینی تھی، یہ سارا کیا دھرا ہی ان کے اردگرد موجود لوگوں کا ہے،جنہوں نے انہیں ناکام بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

اب اس بیان کی توفیق بھی جہانگیر ترین کو ہوئی ہے، حالانکہ وہ عملاً حکومت سے باہر ہیں، ان کے پاس پارٹی یا حکومت کا کوئی عہدہ نہیں۔ شاہ محمود قریشی کی زبان سے ایسا کوئی بیان سننے میں نہیں آیا، جس میں انہوں نے عمران خان کے بغیر تحریک انصاف کے وجود کو نا ممکن قرار دیا ہو۔ کسی میں اتنی صلاحیت نہیں کہ تحریک انصاف کے وجود کو عمران خان کے بغیر برقرار رکھ سکے۔ خاص طور پر موجودہ سیٹ اَپ کے تناظر میں یہ بات بالیقین کہی جا سکتی ہے کہ عمران خان اگر مائنس ہوئے تو حکومت چار دن بھی نہیں چل سکے گی۔

یہ بات اپوزیشن بھی جانتی ہے، اس لئے وہ ”وزیر اعظم تبدیلی کرو“ کا مطالبہ کر رہی ہے۔ نیا وزیر اعظم لانے کی باتیں عمران خان کو منظر سے ہٹانے کے لئے کی جا رہی ہیں۔ ان باتوں کا مقصد یہ بھی ہے کہ تحریک انصاف کے اندر اور اس کے اتحادیوں میں عمران خان کے حوالے سے بے یقینی کی صورت حال پیدا کی جا سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ مائنس عمران خان کے فی الوقت کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔ہاں نئے انتخابات کا بگل بجے تو شاید یہ حکومت گھر چلی جائے، مگر وہ بھی ممکنات سے دور ہے۔ عملاً صورت حال یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت پاکستان کے منظر سے غائب ہو چکی ہے۔

بی کیٹگری کی قیادت پاکستان میں رہے گی اور اس کی موجودگی میں حکومت کو کسی بڑے چیلنج کا سامنا نہیں ہو سکتا…… اگر مریم نواز بھی لندن چلی جاتی ہیں، تو سوائے حمزہ شہباز کے شریف فیملی کا اور کوئی فرد پاکستان میں نہیں بچے گا۔ کسی لندن پلان کے ذریعے حکومت کو گرانا فی الحال بے وقت کی راگنی ہے۔ رہی بات مولانا فضل الرحمن کی تو وہ صرف اپنی ساکھ بچانے کے لئے ایسے بیانات دے رہے ہیں۔ انہیں دسمبر تک حکومت جانے کی یقین دہانی کون کرا سکتا ہے، فی الوقت تو آرمی چیف کی توسیع کے قانون کا مسئلہ در پیش ہے اور تحریک انصاف ہی وہ واحد جماعت ہے جو اس میں سر گرم کردار ادا کر رہی ہے۔

ایسا تو ہرگز ممکن نہیں کہ صرف اس مسئلے کی بنیاد پر حکومت کو چلتا کیا جائے، جبکہ اپوزیشن اس معاملے کو واضح طور پر بارگیننگ کے لئے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ کیا بارگیننگ کے نتیجے میں جنرل قمر جاوید باجوہ توسیع کا قانون بنانے کی حمایت کریں گے؟ ایسا تو ناممکن نظر آتا ہے۔ پھر یہ بات بھی قرین قیاس نہیں کہ کسی نے مولانا کو یقین دہانی کرائی ہو۔ یہ بات وہ صرف اپنے آزادی مارچ اور دھرنے کی ساکھ بچانے کے لئے کر رہے ہیں۔

پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہاں مائنس کوئی بھی نہیں ہوتا۔ جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا تو کوشش کی گئی بھٹو خاندان کے بغیر پیپلزپارٹی کو پاکستانی سیاست میں اِن کیا جائے۔ بے نظیر بھٹو کو ملک سے باہر رکھ کر ضیاء الحق نے اپنی سیاسی حمایت کے لئے مختلف حربے آزمائے، مگر بات نہ بنی، بالآخر بے نظیر بھٹو کو وطن واپس آنے کی اجازت دی گئی اور پھر پیپلزپارٹی بھٹو کے نام سے اقتدار میں آ گئی۔

شریف خاندان کو پرویز مشرف نے دس سال تک باہر رکھنے کی کوشش کی،مگر وہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اس کے تعلق کو ختم نہ کر سکے۔ مائنس شریف خاندان پاکستانی سیاست نہ چلی اور سلسلہ وہیں سے شروع ہو گیا، جہاں سے ٹوٹا تھا۔ جب نوازشریف سپریم کورٹ کے حکم سے نا اہل ہوئے تو کہا یہ گیا کہ نوازشریف کا پاکستانی سیاست سے کردار ختم ہو گیا،لیکن سب نے دیکھا کہ نوازشریف کو سیاست سے آؤٹ نہیں کیا جا سکا اور آج بھی مسلم لیگ (ن) کا سب سے بڑا حوالہ نوازشریف ہی ہیں۔ حقائق سے صاف عیاں ہے کہ مسلم لیگ (ن) شریف خاندان کے بغیر کچھ نہیں۔

پیپلزپارٹی بھٹو خاندان کے حوالے سے زندہ ہے اور اب تحریک انصاف عمران خان کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، بلکہ یہاں تو معاملہ ون مین شو جیسا ہے، کیونکہ عمران خان خاندانی سیاست پر یقین نہیں رکھتے۔ ان کے بیٹے سیاست میں نہیں، نہ ہی کبھی آئیں گے۔ وہ اگر مائنس ہو جاتے ہیں تو ان کی جگہ ان کے خاندان کا کوئی فرد نہیں لے گا، بلکہ پارٹی کا دوسرا رہنما ان کی جگہ لے گا۔ کیا پارٹی میں کوئی ایسی قد آور شخصیت ہے جو ان کی جگہ لے سکے،نیز پارٹی اورحکومت کو چلا بھی سکے؟

مَیں تو اس کا جواب نفی میں دینے پر مجبور ہوں۔ اس حوالے سے مجھے جہانگیر ترین کی یہ بات درست لگتی ہے کہ تحریک انصاف اور عمران خان لازم و ملزوم ہیں۔ اب جہاں تک اس مطالبے کا تعلق ہے کہ مائنس عمران خان حکومت چلائی جائے تو یہ اور بھی زیادہ نا ممکن بات ہے۔ موجودہ صورت حال میں،جب حکومت کی کارکردگی کے بارے میں کچھ اچھے تاثرات موجود نہیں اور صرف عمران خان کی شخصیت عوام کو ڈھارس دیئے ہوئے، عمران خان کے بغیر پی ٹی آئی کی حکومت کیسے قائم رہ سکے گی؟ اب تو معاشی محاذ پر کچھ اچھی خبریں بھی آ رہی ہیں؟

صورت حال میں بہتری کے اشارے ہیں، عالمی سطح پر عمران خان کی شخصیت کو سراہا جا رہا ہے اور ملک میں بھی سیاسی استحکام پیدا ہور ہا ہے،ایسے میں مائنس عمران خان مطالبے کو ماننا ممکن نہیں۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ کون سی قوت ہے جو عمران خان کو مجبور کرے گی کہ وہ خود کو حکومت سے مائنس کر لیں۔ پھر اس بات کا کتنا امکان ہے کہ عمران خان کو دباؤ کے ذریعے حکومت چھوڑنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے؟

چھڑی گھمانے والے دور تو گئے۔ اب تو واحد راستہ یہی ہے کہ اسمبلی کے اندر سے وزیر اعظم پر تحریک عدم اعتماد کی تلوار چلا دی جائے۔ اس کے لئے تو پہلے اپوزیشن کو متحد ہونا پڑے گا، جو موجودہ حالات میں ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ایسے میں یہ امید رکھنا احمقانہ سوچ ہو گی کہ تحریک انصاف کے اندر سے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف کوئی بغاوت ہو جائے گی اور اپوزیشن اسے سپورٹ کرے گی۔ بغاوت کیوں ہو جائے گی؟ اس بارے میں زمین پر تو کوئی جواز اور دلیل نظر نہیں آتی، ان سب باتوں کے تناظر میں لگتا یہی ہے کہ اپوزیشن وزیر اعظم پر دباؤ بڑھانے کے لئے وزیر اعظم کی تبدیلی کا مطالبہ کر رہی ہے اور اسے مائنس عمران خان فارمولے کے تحت عملی جامہ پہنانا چاہتی ہے۔ جہانگیر ترین نے اپوزیشن کی اس خواہش کا بڑا مؤثر جواب دے کر اس غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔

۔

نوٹ:یہ کالم نویس کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور