مریم نواز کی قیادت اور لاہور 

 مریم نواز کی قیادت اور لاہور 
 مریم نواز کی قیادت اور لاہور 

  

لاہور کا اپنا مزاج ہے اب ہم بھی اس کے ہم مزاج بن چکے ہیں لاہوریے کھلے دِل کے لوگ ہیں ہم باہر سے آنے والے لوگوں نے حقیقی لاہوریوں کو اقلیت میں بدل دیا ہے، مگر لاہوریے بہت فراخ دل ہیں کسی بھی طرح کے تعصب سے بے نیاز ہر ایک کا لحاظ کرتے ہیں دوست داری اور مہمان نوازی میں اپنی مثال آپ ہیں آپ نے اگر حقیقی لاہور اور لاہوریے دیکھنے ہیں تو پھر آپ کو موچی دروازہ کے اندر جھانکنا پڑے گا۔ بادشاہی مسجد اور داتا دربار کی زیارت کو جانا ہو گا، گوالمنڈی اور لکشمی چوک کی سیر کرنی ہو گی چوبرجی اور مینار پاکستان کے ارد گرد گھومنا ہو گا۔دسمبر میں بھی اگر آپ کو کسی لسی کی دکان پر لسی کے لئے قطار میں کھڑے لوگ نظر آئیں تو سمجھ لیجئے آپ کے سامنے جیتا جاگتا لاہور کھڑا ہے آج کل لاہوریے بہت پرجوش ہیں اور جگہ جگہ رونق لگائے نظر آتے ہیں اور روز بروز اس رونق میں اضافہ ہو تا نظر آتا ہے مریم نواز کی ریلیاں اس رونق کو جنون میں بدل رہی ہیں مریم نواز جس علاقے میں جاتی ہیں ایک ہجوم انہیں سننے اور دیکھنے کو باہر نکل آتا ہے مریم نواز کی یہ پذیرائی ایک تو ظاہر ہے نواز شریف کی وجہ سے، کیونکہ نواز شریف کو لاہور کے لوگ اپنا لیڈر سمجھتے ہیں اور ہر طرح کے حالات میں اپنے ووٹ کی طاقت نواز شریف کے حق میں استعمال کرتے ہیں شہباز شریف نے بھی لاہور کو بدلنے کے لئے بہت سے منصوبے مکمل کئے اور کوشش کی کہ ایک نیا لاہور  تعمیر کیا جائے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ لاہور کے مختلف مقامات کو دیکھنے کے بعد ایسا نظر آتا ہے کہ شہباز شریف نے لاہور کو بدلنے کی پوری کوشش کی،

مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ پنجاب کو نظرانداز کیا انہوں نے پنجاب کے ہر ضلع کی تعمیر و ترقی کے لئے بھی بہت کام کیا، مگر لاہور کو تعمیر و ترقی کا ماڈل بنانے کی بہرحال اچھی کوشش کی، جس کی وجہ سے ان پر یہ الزامات بھی لگائے گئے کہ انہوں نے پورے پنجاب کے فنڈز لاہور پر لگا دیئے موجودہ وزیر اعلیٰ بھی یہی الزام لگاتے ہیں، مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار بھی ترقیاتی کاموں کے حوالے سے ڈیرہ غازی خان کو ہی اہمیت دے رہے ہیں اور لاہور سمیت پنجاب کے دیگر اضلاع کو نظر انداز کر رہے ہیں،حالانکہ کہا جارہا تھا کہ ایک پنجابی وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے بعد اب سرائیکی وزیراعلیٰ آیا ہے تو  سرائیکی وسیب ترقی کرے گا، مگر اب تین سال کے بعد خود سرائیکی کہہ رہے ہیں کہ عثمان بزدار پنجابیوں کے ایجنٹ ہیں اور انہیں سرائیکی وسیب سے کوئی دلچسپی نہیں یہی بات نواز شریف کے بارے میں بھی کہی جاتی ہے کہ وہ پنجابی لیڈر ہیں،مگر حقیقت یہ ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف لاہور کے پیدائشی ہونے کی وجہ سے لاہوری لیڈر ہیں اور لاہور کے لوگ انہیں اپنے شہر کا فخر سمجھتے ہیں اور اپنے اسی فخر کے اظہار کے لئے13دسمبر کے جلسے کو کامیاب بنانے کے لئے گلی گلی پھیل چکے ہیں دن رات نواز شریف کے نعرے اور ترانے لگا اور گا رہے ہیں، جگہ جگہ کھابے چل رہے ہیں اور جلسے سے پہلے جلسے کا سماں بن چکا ہے،  لاہوریے مریم نواز کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں گو کہ مریم نواز کے ساتھ نواز شریف کی طاقت بھی ہے،

مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ذاتی طور پر بھی لوگ مریم نواز سے متاثر نظر آتے ہیں اور مریم نواز کی جرأت مندی کی وجہ سے انہیں پسند کرتے ہیں بہت سے لوگ مریم نواز کو بے نظیر کی سی لیڈر سمجھتے اور مانتے ہیں،مگر میری رائے مختلف ہے میرا خیال ہے کہ مریم کے اندر جو جرأت ہے وہ انہیں اپنی والدہ کلثوم نواز سے ورثے میں ملی ہے اور انہوں نے پہلی سیاسی جدوجہد جنرل مشرف کے خلاف ماں کے ساتھ کی اور دیکھا کہ ایک عورت ہوتے ہوئے کلثوم نواز نے کس جرأت کے ساتھ ایک آمر کا مقابلہ کیا اور پھر کس طرح کلثوم نواز نے اپنے خاندان کو ایک سیاسی جدوجہد کے ذریعے جنرل مشرف کو اس قدر مجبور کیا کہ انہیں اس خاندان کو ”جبری جلا وطنی“ پر بھیجنا پڑا سو مریم نواز اپنی ماں کی دلیری اور باپ کی سیاسی سوچ کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ مریم نواز نے سوے ہوئے لاہور کو جگا دیا ہے اور وہ مینار پاکستان کے جلسے کو ایک یادگار جلسے میں بدلنے کے لئے بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں ادھر حکومت بھی جلسے کو ناکام بنانے کے لئے سرکاری ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے مختلف علاقوں سے کارکنوں اور گلی محلے کے متحرک کارکنوں کو گرفتار بھی کر رہی ہے۔ کرونا کے نام پر لاک ڈاؤن کا بھی اشارہ دے رہی ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مینار پاکستان کا جلسہ یقینی طور پر بہت بڑا جلسہ ہوگا اور یہ بھی طے شدہ بات ہے کہ جب لاہور جاگتا ہے تو پھر پاکستان بھی جاگتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -