کورونا، الخدمت فاؤنڈیشن کا تمام طبی اداروں کو ایمبولینس اور رضا کار دینے کا اعلان 

کورونا، الخدمت فاؤنڈیشن کا تمام طبی اداروں کو ایمبولینس اور رضا کار دینے کا ...

  

 پشاور(سٹی رپورٹر)الخدمت فاؤنڈیشن خیبر پختونخواکے صدر خالد وقاص نے عالمی وباء کورونا کی دوسری لہرمیں شدت کے نتیجے میں ایک بار پھر صوبہ بھر میں الخدمت فاؤنڈیشن کے تمام چھوٹے بڑے ہسپتالوں،ہیلتھ یونٹس اور دیگر اداروں، 91 ایمبولینس گاڑیاں اورلاکھوں تجربہ کار رضاکاروں کی خدمات غیر مشروط طور پر حکومت کو پیش کرنے کا اعلان کردیا ہے تاکہ اجتماعی کاوشوں کے نتیجے میں اس وباء پر قابو پایا جاسکے۔پشاور  کلب میں  الخدمت فاؤنڈیشن کے صوبائی صدر خالد وقاص نے الخدمت فاؤنڈیشن کے صوبائی ہیلتھ منیجر ڈاکٹر شکیل احمد،صوبائی میڈیا منیجر نورالواحدجدون،الخدمت ہسپتال نشتر آباد پشاور کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اقتدار احمد روغانی اور الخدمت فاؤنڈیشن پشاور کے جنرل سیکرٹری افتخار احمدکے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کورونا وباء سے دنیا بھر میں 6کروڑ80لاکھ افراد متاثر ہیں جبکہ دنیا بھر میں اس وباء کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعدادساڑھے 15لاکھ سے تجاوز کر گئی ہیں۔پاکستان میں اس وباء سے متاثرہ مریضوں کی تعداد چار لاکھ23ہزار سے بڑھ گئی ہیں جن میں اب بھی لگ بھگ 45ہزار فعال کیسز شامل ہیں پاکستان میں ساڑھے 8ہزارہلاکتوں کی تعداد اگرچہ دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلہ میں کم ہے لیکن کورونا وباء کی اس دوسری لہر میں ہلاکتوں کا تناسب پہلے کے مقابلے میں بتدریج بڑھ رہاہے جس کی بنیادی وجہ عوام کاکوروناکے حوالے سے احتیاطی ایس او پیز کو نظر انداز کرنا ہے وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ کورونا کی دوسری لہر میں شدت کے پیش نظرعوام پہلے کے مقابلے میں زیادہ اختیاط کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود کو اور اپنے پیاروں کو اس وباء سے محفوظ رکھنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔انہوں نے کہا کہ الخدمت فاؤنڈیشن نے کورونا وباء کی دوسری لہر میں تیزی کے تناظر میں صوبائی سطح پر ممتاز معالج امراض قلب پروفیسر ڈاکٹر عبدالمالک کی سربراہی میں کورونا ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لایا ہے جس میں صوبائی جنرل سیکرٹری محمد شاکر صدیقی،ڈاکٹر اشفاق احمد،ڈاکٹر اقتدار احمداور الخدمت پشاور کے صدر ارباب عبدالحسیب شامل ہیں۔تمام اضلاع کے ضلعی صدور کو ہدایت کی ہے کہ الخدمت کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے اضلاع کی سطح پر متعلقہ ریاستی اداروں کی بھر پورمعاونت کر یں اور اس سلسلے میں اضلاع کی سطح پر اداروں کے اعلی حکام سے ملاقاتیں کی جائیں۔اس کے ساتھ ساتھ موجودہ صورتحال اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں۔صوبہ بھر میں الخدمت فاؤندیشن کے تحت91ایمبولینس اورلاکھوں تربیت یافتہ رضاکاروں کی ٹیم موجود ہے جن کی خدمات ایمرجنسی کی صورت میں حکومت کو پیش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ الخدمت فاؤنڈیشن ملک بھر کی طرح صوبہ خیبر پختونخوا میں بھی کورونا وباء کے پہلے مرحلے میں لاک ڈاون والے علاقوں میں تقریبا ڈیڑھ لاکھ گھرانوں تک فوڈ پیکجز اور81ہزار سے زائد گھرانوں تک ایمرجنسی کے دوران پکاپکایا کھانا پہنچایا ہے۔تین لاکھ 22ہزارسے زائد فیس ماسک اور ہینڈ سیناٹائزر عوام میں تقسیم کئے گئے ہیں۔14ہزار سے زائدمساجد، چرچز، مندروں، گودواروں، سکولوں، دفاتراور419ہسپتالوں میں جراثیم کش سپرے کئے گئے ہیں۔لاکھوں کی تعداد میں صابن،دستانے،آگاہی بروشرز،تقسیم کئے گئے ہیں۔18آئیسولیشن سنٹرز کو مطلوبہ سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔اسی طرح ہسپتالوں اور طبی عملہ کو پی پی ایز کٹس،ادویات اور تجربہ کار رضاکاروں کی خدمات بھی فراہم کی گئی ہیں۔الخدمت نے اپنے بڑے ہسپتالوں میں وینٹی لیٹرز اور دیگر ضروری سہولیات سے آراستہ آئی سی یو زبھی تیار کئے ہیں جبکہ مردان،پشاور،چارسدہ اور چترال میں کورونا سپیشل کیئر یونٹ کا قیام عمل میں لایاگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ گھروں پر زیر علاج کورونا سے متاثرہ مریضوں کو ایمرجنسی کی صورت میں آکسیجن سلینڈرز،آکسی میٹرز اور دیگر ضروری آلات کی فراہمی سمیت پشاور اور مانسہرہ میں کورونا ٹسٹنگ کے لئے HOME SAMPLINGکا آغاز کر دیا گیا ہے۔کورونا وباء کی اس دوسری لہر میں الخدمت ہسپتال نشتر آباد میں پشاور قائم کئے گئے جدید پی سی آر لیب میں کورونا تشخیص کے پی سی آر ٹسٹ سمیت ریپڈٹسٹ ٹیکنالوجی کی سہولت بھی فراہم کر دی گئی ہے جبکہ پشاور سمیت،کوہاٹ،مانسہرہ،دیر لوئر،مردان،چارسدہ،بونیر میں پی سی آر ٹسٹ کے لئے کلیکشن پوائنٹس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اور عنقریب بنوں،چترال،صوابی،ایبٹ آباد،لنڈی کوتل،اوگی سمیت دیگر علاقوں میں کلیکشن پوائنٹس کا قیام عمل میں لایاجائے گا۔اضلاع کی سطح پر کورونا سے متعلق ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جن میں کم از کم ایک ڈاکٹرشامل ہوگا۔الخدمت فاؤنڈیشن کورونا وباء کی اس دوسری لہر میں بھی اپنی بھر پوری خدمات جاری رکھے ہوئی ہے اس مقصد کے لئے الخدمت فاؤنڈیشن نے خصوصی طور پر ایمرجنسی ریلیف فنڈ قائم کردیاہے جس میں اہل خیر افراد سے معاونت کی اپیل کی ہے۔

مزید :

صفحہ اول -