کورونا نے باہر سے آئے پاکستانیوں کے لیے نئی مصیبت کھڑی کردی

کورونا نے باہر سے آئے پاکستانیوں کے لیے نئی مصیبت کھڑی کردی
کورونا نے باہر سے آئے پاکستانیوں کے لیے نئی مصیبت کھڑی کردی

  

اسلام آباد(ویب ڈیسک) کورونا سے جہاں مقامی شہری پریشان ہیں وہیں اس وبا نے باہر سے آئے ہوئے پاکستانیوں کو ایک نئی مصیبت میں ڈال دیا ہے۔

کورونا کے باعث فضائی سفر کی بندش کی وجہ سے باہر سے آئے ہوئے پاکستانی وطن میں اپنا قیام طویل کرنے پر مجبور ہوگئے۔ طویل قیام کی وجہ سے ان پر انکم ٹیکس واجب الادا ہوگیا۔ انکم ٹیکس آرڈیننس2001 کے تحت ایک فرد کو پاکستان کا رہائشی سمجھا جائے گا اگر وہ ایک ایک ٹیکس ایئر کے دوران پاکستان میں 120 دن یا زائد قیام کرتا ہے۔

گذشتہ برس جون میں ایف بی آر کے سابق چیئرمین شبرزیدی نے انکم ٹیکس قانون میں ترمیم کی تھی جس کی رو سے کسی فرد کی قابل ٹیکس رہائشی مدت 182 دن سے کم کرکے 119 دن کردی گئی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور یورپ میں کام کرنے والے بہت سے پاکستانی اس قانونی ترمیم کی گرفت میں آگئے ہیں۔ بین الاقوامی پروازوں کی بندش اور پروازیں محدود کیے جانے کی وجہ سے وہ کئی مہینے پاکستان میں ’ پھنسے‘ رہے اور ان پر انکم ٹیکس واجب الادا ہوگیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سمندرپار پاکستانی سید ذوالفقار علی بخاری نے یہ معاملہ ایف بی آرکے سام نے اٹھایا ہے۔

واضح رہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی شہری سوائے وطن بھیجی جانے والی رقوم پر ٹیکس کے ان تمام ٹیکسوں سے آزاد ہیں جو وطن میں رہنے والے پاکستانی شہری ادا کرتے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان میں رہائش پذیر شہری کو اپنی عالمی ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی پر بھی ٹیکس دینا ہوگا۔

ٹیکس ماہر ڈاکٹر اکرام الحق کہتے ہیں کہ انکم ٹیکس قانون ایف بی آر کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ ہنگامی اور غیرمتوقع حالات جیسے کووڈ 19 کی صورتحال میں قابل ٹیکس ہونے کے لیے وطن میں قیام کی مدت سے صرف نظر کرسکتا ہے۔

ڈاکٹر اکرام الحق کے مطابق ایف بی آر سیکشن 214-A کے تحت کووڈ کی وجہ سے وطن میں پھنس جانے والے ان شہریوں کو ٹیکس سے استثنیٰ دے سکتا ہے۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -