جمعۃ المبارک کے مسنون اعمال۔۔۔!!!!

جمعۃ المبارک کے مسنون اعمال۔۔۔!!!!
جمعۃ المبارک کے مسنون اعمال۔۔۔!!!!

  

قرآن مجید میں اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں کہ ترجمہ !اے میرے حبیب ﷺ! فرما دیجیئے کہ اے لوگو! اگر تم اللہ تعالی سے محبت رکھتے ہو تو میری اطاعت کرو اللہ تعالی تم سے محبت فرمائیں گے اور تمہارے گناہ معاف فرما دیں گے اور اللہ تعالی بخشنے والے بہت مہربان ہیں۔ (سورت آل عمران) اور اسی طرح سورت الاحزاب میں ارشاد فرمایا کہ یقیناً تمہارے لئے رسول اللہﷺ کی ذات مبارکہ میں بہترین نمونہ ہے۔ 

ترمذی شریف میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ حضور نبی کریمﷺنے ارشاد فرمایا ؛ جس نے میری سنت سے محبت کی اُس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ میرے ساتھ جنت میں ہوگا ۔  مشکوۃ المصابیح میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص نے میری امت کے فساد کے وقت میری سنت کو تھام لیا تو اس کیلئے سو شہیدوں کا اجر ہے۔ 

؀ ہر سنت پہ چل سر کے بل اے دل !

کر دے جو خدا تجھ کو ادبِ دان محمدﷺ

 اللہ تعالیٰ نے جمعۃ المبارک کے دن کو باقی دنوں کا سردار بنایا ہے۔ اس نام کی مستقل ایک سورۃ مبارکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں نازل فرمائی۔ جمعۃ المبارک کی قرآن و سنت میں بہت فضیلت مذکور ہے اس لیے اس دن مسنون اعمال کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ اللہ تعالیٰ ہمیں جمعۃ المبارک کی فضیلتیں و برکتیں نصیب فرمائیں۔ 

جمعۃ المبارک کی فضیلت

حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہیکہ حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ان سارے دنوں میں جن میں کہ آفتاب نکلتا ہے(یعنی ہفتہ کے سات دنوں میں) سب سے بہتر اور برتر جمعہ کا دن ہے جمعہ ہی کے دن اللہ تعالی نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور جمعہ ہی کے دن وہ جنت میں داخل کیے گئے اور جمعہ ہی کے دن وہ جنت سے اس دنیا میں بھیجے گئے اور قیامت بھی جمعہ ہی کے دن قائم ہو گی۔(مسلم شریف)

نمازِ جمعۃ المبارک کی فرضیت و اہمیت

حضرت طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہیکہ حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا جمعہ کی نماز جماعت کیساتھ ادا کرنا ہر مسلمان پر لازم و واجب ہے۔ اس وجوب سے پانچ قسم کے آدمی مستثنٰی ہیں۔ 1-غلام 2-عورت 3-نابالغ لڑکا4- بیمار 5-مسافر ۔ (سنن ابوداؤد) اسی طرح حضرت ابو الجعد ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہیکہ حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا جو آدمی بلا عذر تین جمعہ تساہل ( سستی) وسہل انگاری کیوجہ سے چھوڑ دے گا اللہ تعالی اُس کے دل پر مہر لگا دے گا۔(یعنی پھر وہ شخص نیک عمل کی توفیق سے محروم ہی رہے گا)۔(ترمذی و ابوداؤد)

نمازِ جمعۃ المبارک کا اہتمام اور گناہوں کی بخشش

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہیکہ حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو آدمی جمعہ کے دن غسل کرے اور جہاں تک ہو سکے صفائی پاکیزگی کا اہتمام کرے،جو تیل و خوشبو اس کے گھر میں ہو اسے لگائے،پھر وہ گھر سے نماز کیلئے جائے اور مسجد پہنچ کر اس کی احتیاط کرے کہ جو دو آدمی پہلے سے ساتھ بیٹھے ہوں ان کے درمیان نہ بیٹھے پھر جو نماز یعنی سنن و نوافل کی جتنی رکعتیں اسکے لئے مقدر ہوں، وہ پڑھے پھر جب امام خطبہ دے تو توجہ و خاموشی کیساتھ اس کو سنے تو اللہ تعالی کیطرف سے اس جمعہ اور گزشتہ جمعہ کے درمیان کے اسکے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔ (بخاری)

جمعۃ المبارک کے دن کے سات اعمال 

حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص جمعہ کے دن سات اعمال کر لے،اس کو مسجد جاتے ہوئے ہر قدم پر ایک سال کی نفلی نمازوں کا ثواب اور ایک سال کے نفلی روزوں کا اجر وثواب ملے گا وہ سات اعمال یہ ہیں۔ 1-غسل کرنا،2-اچھے کپڑے پہننا،3-مسجد جلد جانے کی فکر کرنا،4-مسجد پیدل جانا،5-امام کے قریب بیٹھنے کی کوشش کرنا،6-خطبہ غور سے سننا،7-کوئی بیہودہ لغو کام نہ کرنا۔(ترمذی،-ابن ماجہ،سنن ابوداؤد،سنن نسائی)

جمعۃ المبارک کے دن سورت کہف کی تلاوت کا اہتمام ۔۔۔۔!!!

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہیکہ حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص جمعہ کے دن سورت کہف پڑھے اس کیلئے نور روشن ہو جائے گا،دو جمعوں کے درمیان۔(دعوات الکبیر للبیہقی) امیرالمؤمنین حضرت سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا،جس شخص نے جمعہ والے دن سورۃ الکہف کی تلاوت کی تو وہ آئندہ جمعہ تک ہر طرح کے فتنے سے بچایا جاتا ہے، یہاں تک کہ اگر دجال بھی نکل آئے تو اس سے بھی محفوظ رہے گا۔( الاحادیث المختارۃ للمقدسی) اسی طرح حدیث مبارکہ میں آتا ہیکہ جس شخص نے سورت کہف کی پہلی دس آیتیں حفظ کر لیں اور پابندی سے پڑھتا رہا وہ دجال کے فتنہ سے بچا دیا جائے گا اسی طرح آخری دس آیتوں کے متعلق بھی روایت آتی ہے اور اسی طرح ایک روایت میں یہ بھی آتا ہیکہ جو شخص سورت کہف کی پہلی تین آیتیں پڑھتا رہے گا وہ بھی دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا۔ ( مسلم،ترمذی،مشکوۃ)

جمعۃ المبارک کے دن درود شریف کی کثرت

حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے مجھ پر صبح وشام دس مرتبہ درود شریف بھیجا اسے روزِ قیامت میری شفاعت نصیب ہو گی۔(صحیح الجامع الصغیر للالبانی)۔ جمعہ کے روز کثرت کیساتھ حضور نبی کریم ﷺ کی ذاتِ گرامی پر درود شریف پڑھنا چاہیئے۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا جمعہ کے دن کثرت کیساتھ مجھ پر درود(شریف) پڑھا کرو۔جو کوئی مجھ پر جمعہ کے دن درود(شریف)پڑھتا ہے میرے سامنے اسکا درود ( شریف) پیش کیا جاتا ہے۔( المستدرک للحاکم ) درود شریف چاہے دن کو پڑھا جائے یا رات کو، ثواب برابر ہے۔چنانچہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا جمعہ کے دن اور رات کو مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو ، کیونکہ جس نے مجھ پر ایک مرتبہ درود( شریف ) پڑھا اللہ تعالی اس پر در رحمتیں نازل فرماتے ہیں۔ (سنن البیہقی )۔حضرت سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہیکہ میں نے حضور نبی کریمﷺ کی خدمت میں عرض کیا میں چاہتا ہوں آپﷺ کو درود شریف زیادہ بھیجا کروں، آپﷺ مجھے بتا دیجیئے کہ میں اپنی دعا میں سے کتنا حصہ آپﷺ پر درود شریف کیلئے مخصوص کر دوں۔۔۔؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا جتنا چاہو۔میں نے عرض کیا اس وقت کا چوتھائی حصہ۔۔؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا جتنا تم چاہو اور اگر اور زیادہ کر دو گے تو تمہارے لئے بہتر ہی ہو گا۔ میں نے عرض کیا کیا نصف حصہ ۔؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا جتنا تم چاہو اور اگر اور زیادہ کر دو گے تو تمہارے لئے بہتر ہی ہو گا۔میں عرض کیا تو پھر اس میں سے دو تہائی۔۔؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا جتنا تم چاہو اور اگر اور زیادہ کر دو گے تو تمہارے لئے خیر ہی کا باعث ہو گا۔تو میں نے عرض کیا میں اپنی دعا کا سارا وقت ہی آپﷺ پر درود شریف کیلئے مخصوص کرتا ہوں۔آپﷺ نے ارشاد فرمایا اگر تم ایسا کرو گے تو تمہاری ساری فکروں اور ضرورتوں کی اللہ تعالی کیطرف سے کفایت کی جائے گی اور تمہارے گناہ و قصور ختم کر دیئے جائیں گے۔( ترمذی شریف )

جمعۃ المبارک کے دن صلاۃ التسبیح کا اہتمام کرنا

صلاۃ التسبیح بڑی اہم اور عظیم اجر و ثواب کی حامل نفی نماز ہے۔آپ ﷺنے حضرت سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا جعفر رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ نماز بڑی تاکید کے بعد بطورِ تحفہ سکھائی تھی۔  چنانچہ حضرت سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہیکہ آپﷺ نے ایک دن اپنے چچا حضرت سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا:اے عباس رضی اللہ عنہ!اے میرے محترم چچا! کیا میں آپ کی خدمت میں ایک گراں قدر عطیہ اور ایک قیمتی تحفہ پیش کروں؟ کیا میں آپ کو خاص بات بتاؤں؟ کیا میں آپ کے دس کام اور آپ کی دس خدمتیں کروں (یعنی آپ کو ایک ایسا عمل بتاؤں جس سے آپ کو دس عظیم الشان منفعتیں حاصل ہوں، وہ ایسا عمل ہے کہ) جب آپ اس کو کریں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کے سارے گناہ معاف فرما دے گا، اگلے بھی اور پچھلے بھی،  پرانے بھی اور نئے بھی، بھول چوک سے ہونے والے بھی اور دانستہ ہونے والے بھی، صغیرہ بھی اور کبیرہ بھی،  ڈھکے چھپے بھی، اور اعلانیہ ہونے والے بھی، (وہ عمل 'صلاۃ التسبیح 'ہے) (میرے چچا) اگر آپ سے ہو سکے تو روزانہ یہ نماز پڑھا کریں اور اگر روزانہ نہ پڑھ سکیں تو ہر جمعہ کے دن پڑھ لیا کریں، اور اگر آپ یہ بھی نہ کر سکیں تو سال میں ایک دفعہ پڑھ لیا کریں اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو کم از کم زندگی میں ایک بار ہی پڑھ لیں۔ (ابوداؤد و ابن ماجہ)

صلاۃ التسبیح کے فضائل مندرجہ ذیل ہیں

پہلی فضیلت!صلاۃ التسبیح وہ نماز ہے جس کے پڑھنے سے دس قسم کے گناہ معاف ہوتے ہیں۔

1-اگلے گناہ.2-پچھلے گناہ.3-پُرانے گناہ.4-نئے گناہ.5-غلطی سے کیے ہوئے گناہ.6-جان کر کیے ہوئے گناہ.7-چھپ کر کیے ہوئے گناہ.8-کھلم کھلا کیے ہوئے گناہ.9-چھوٹے گناہ.10۔بڑے گناہ ۔(ابوداؤد)

دوسری فضیلت! صلاۃ التسبیح سے بکثرت گناہوں کا معاف ہونا

صلاۃ التسبیح کی برکت سے اللہ تعالیٰ بندوں کے بکثرت گناہ معاف کرتے ہیں،احادیث طیّبہ میں اِس کثرت کی کئی مثالیں ذکر کی گئی ہیں:

1-کل اِنسانیت کی تعداد سے بھی زیادہ گناہ ہوں تو مغفرت ہوجائے گی.(ابوداؤد)2-ریت کی تعداد سے زیادہ بھی گناہ ہوں تو معاف ہوجائیں گے۔(ابن ماجہ)

3-سمندر کی جھاگ سے بھی زیادہ گناہ ہوں تو معاف ہوجائیں گے۔(طبرانی کبیر) 4-ستاروں کی تعداد سے زیادہ گناہ ہوں تو معاف ہوجائیں گے۔(مصنف عبد الرزاق) 5۔قطروں کی تعداد سےزیادہ گناہ ہوں تو معاف ہوجائیں گے۔(مصنف عبد الرزاق) 6-دنیا کے کل ایام سے زیادہ گناہ ہوں تو معاف ہوجائیں گے۔(مصنف عبد الرزاق)

3-تیسری فضیلت! ایک بہترین تحفہ،بخشش اور خوشخبری۔ حضور نبی کریمﷺنے اپنے چچا حضرت سیدنا عباس رضی اللہ تعالی عنہ کو جب یہ نماز  تلقین فرمائی تو اُنہیں اِس نماز کی تاکید بھی فرمائی اور اِس نماز کو تحفہ ، بخشش اور خوش خبری قرار دیا۔(ابوداؤد)

چوتھی فضیلت- صلاۃ التسبیح کی ایک بڑی فضیلت یہ ہے کہ اِسے اداء کرتے ہوئے بندے کو تین سو مرتبہ تیسرے کلمہ طیبہ (سُبْحَانَ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَآ اِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَکْبَرُ) کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا پر مشتمل بہترین کلمہ پڑھنے کی سعادت حاصل ہوتی ہے ، اور تیسرا کلمہ بذاتِ خود ایک انتہائی بابرکت اورعظیم الشان اجر و ثواب کا حامل کلمہ ہے، جن کا خلاصہ ملاحظہ کیجیے۔1-مذکورہ کلمہ ایک مرتبہ پڑھنے پر جنت میں درخت لگ جاتا ہے۔(مستدرکِ حاکم) 

2-یہ کلمہ اللہ تعالی کے نزدیک سب سے محبوب کلمہ ہے۔(مسلم) 3-جنت ایک چٹیل میدان ہے اور مذکورہ کلمہ جنّت کے پودے ہیں ۔(ترمذی)

4-اس کلمے کے اندر  پائے جانے والے ہر ایک کلمہ کا ثواب اُحد پہاڑ سے زیادہ ہے۔(طبرانی کبیر)

5-اس کلمے کے پڑھنے پر ہر حرف کے بدلہ دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔(طبرانی اوسط)

6-اس کلمے کا وِرد جہنم کی آگ سے بچنے کے لیے بہترین ڈھال ہے۔(طبرانی اوسط)

7-مذکورہ کلمہ پڑھنے والے کے لیے فرشتے اِستغفار(دعائے مغفرت) کرتے ہیں۔(مستدرکِ حاکم)

8-اس کلمے کا کثرت سے وِرد کرنے والا افضل ترین مؤمن ہے۔(سنن کبریٰ نسائی)

9-اس کلمے کا پڑھنا گناہوں کی مغفرت اور بخشش کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔(ترمذی)

10-اس کلمے کا ہر کلمہ صدقہ کرنے کے برابر ثواب رکھتا ہے۔(مسلم) 11-یہ کلمہ میزانِ عمل میں بہت بھاری ثابت ہونے والا کلمہ ہے۔(صحیح ابن حبان)

12-یہ کلمہ قرآن کریم پڑھنے سے عاجز شخص کے لیے بہترین بدل ہے۔(ابوداؤد)

9-صلاۃ التسبیح پڑھنے کا طریقہ :

چار رکعت صلاۃ التسبیح کی نیت باندھنے کے بعد ثناءپڑھے اور اس کے بعد 

1-پندرہ مرتبہ یہ تسبیحات (سُبْحَانَ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَآ اِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَکْبَرُ) پڑھیں۔ 

2-پھر ( تعوذ و تسمیہ ) پڑھ کر سورہ فاتحہ اور دوسری سورت کی قراءت سے فارغ ہونے کے بعد رکوع میں جانے سے پہلے دس مرتبہ مذکورہ بالا تسبیحات پڑھیں۔

3-رکوع میں جانے کے بعد حسبِ معمول تین مرتبہ ’’ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ‘‘پڑھ کر پھر دس مرتبہ مذکورہ بالا تسبیح پڑھیں، اس کے بعد رکوع سے اٹھیں۔ 

4-رکوع سےاٹھتے ہوئے پہلے حسب معمول ’’سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ  ‘‘کہے اور کھڑا ہو کر ’’ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ‘‘کہے ، پھرکھڑے کھڑے دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھیں۔ 

5-پھر ’’ اَللہ أَکْبَرُ‘‘ کہتے ہوئے سجدے میں جائے اور حسب معمول ’’ سُبْحَانَ رَبِّیْ الْأَعْلیٰ‘‘تین مرتبہ پڑھیں،پھر سجدے میں دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھیں۔ اس کے بعد ’’ اَللّٰهُ أَکْبَرُ‘‘ کہہ کر سجدے سے اٹھیں۔ 

6-سجدے سے اٹھ کر بیٹھ جائیں اور دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھے، پھر ’’ اَللّٰهُ أَکْبَرُ‘‘  کہہ کر دوسرے سجدے میں چلے جائیں۔ 

7-دوسرے سجدے میں جا کر حسب معمول پہلے ’’ سُبْحَانَ رَبِّیْ الْأَعْلیٰ‘‘  تین مرتبہ پڑھیں، پھر سجدے میں دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھیں۔ 

اس طرح ایک رکعت میں پچھتر(75)مرتبہ یہ تسبیحات پڑھی گئیں، اسی طرح باقی تین رکعتیں بھی پڑھ لیں۔یوں چار رکعتوں میں کل تین سو تسبیحات ہو جاتی ہیں۔ 

دعا ہے کہ اللہ کریم ہمیں مسنونہ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائیں ۔۔۔

آمین یا رب العٰلمین

مزید :

بلاگ -روشن کرنیں -