رانا شمیم اور صحافی کے خلاف توہین عدالت کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ نے 7 دسمبر کی سماعت کا حکم نامہ جاری کر دیا 

رانا شمیم اور صحافی کے خلاف توہین عدالت کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ نے 7 دسمبر ...
رانا شمیم اور صحافی کے خلاف توہین عدالت کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ نے 7 دسمبر کی سماعت کا حکم نامہ جاری کر دیا 

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم اور اخبار کے مالک سمیت تمام فریقین کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے 13 دسمبر کو طلب کر لیاہے ۔

 تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق چیف جج رانا شمیم ، صحافی کے خلاف توہین عدالت کیس کی 7 دسمبر کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیاہے ۔عدالت نے رانا شمیم اور اخبار کے مالک سمیت تمام فریقین کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیدیا ہے ،عدالت کا حکمنامے میں کہناتھا کہ بے بنیاد بیان حلفی اور غلط خبرپر کیوں نہ تمام فریقین پر فرد جرم عائد کریں ۔

عدالت کا حکم نامے میں کہناتھا کہ بیان حلفی میں ایک ایسے جج کا نام آیا جو بیرون ملک چھٹیوں پر تھے ،رانا شمیم نے 15 جولائی 2018 کی گفتگو کا حوالہ دیا ،ان کی تین سال تک خاموشی ساکھ پر سنجیدہ سوال اٹھاتی ہے،بادالنظر میں اس وقت بیان حلفی کے پیچھے نیک نیتی نظر نہیں آتی، 

عدالت کا حکمنامے میں کہناتھا کہ رانا شمیم نے جواب میں واضح کہا کہ بیان حلفی اخبار کو نہیں دیا ،تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ بیان حلفی نوٹری پبلک لندن نے لیک کیا ،اگر ایسا ہوا تو اخبار اور نوٹری پبلک لندن پر سنگین اثرات پڑیں گے ،اور یہ بھی ضروری ہو گیا ہے کہ رانا شمیم اب اصل بیان حلفی پیش کریں، ، انصاف کے تقاضے پورے کرنے کیلئے رانا شمیم کو آخری موقع دیا جاتاہے ۔

مزید :

Breaking News -اہم خبریں -قومی -