سیالکوٹ کی ملکی معیشت میں اہمیت اور اِس کی خستہ حالی

سیالکوٹ کی ملکی معیشت میں اہمیت اور اِس کی خستہ حالی
سیالکوٹ کی ملکی معیشت میں اہمیت اور اِس کی خستہ حالی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 یوں تو سیالکوٹ کی کم و بیش چار ہزار سال پرانی تاریخی حیثیت ہے،پھر یہ علامہ ڈاکٹر محمد اقبال، فیض احمد فیض، مولوی میر حسن اور اصغر سودائی جیسے اکابرین اور علم و فضل کی بڑی عظیم ہستیوں کی جنم بھومی اور مسکن ہے۔ایک اور تحقیق کے مطابق تحریک آزادی اور ختم نبوت کے ایک نامور مجاہد مولانا ظفر علی خان بھی سیالکوٹ میں ہی پیدا ہوئے۔سیالکوٹ نے میدان کرکٹ اور ہاکی کے بھی بے شمار نامور اور بڑے کھلاڑی پیدا کئے،جن میں ظہیر عباس، اعجاز احمد، شعیب ملک، شہناز شیخ اور منظور جونیئر جیسے درخشندہ ستارے شامل ہیں۔ سیالکوٹ کی علمی، ادبی، ثقافتی اور تاریخی حیثیت سے صرف نظر کرتے ہوئے اگر صرف سیالکوٹ کی تجارتی اور کاروباری حیثیت کو ہی معیار بنا لیں تو پھر بھی یہ شہر اقبال پاکستان کے بڑے بڑے شہروں کو پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔


 قیام پاکستان کے وقت جن دو تین شہروں سے ہندو کاروبار چھوڑ گئے، اُن میں سیالکوٹ بھی شامل تھا۔ بارڈر کے اُس پار  بھارت کا ضلع جموں تھا جس کی حیثیت صرف گیٹ وے ٹو کشمیر کی تھی مگر بھارت نے تو جموں کو اُس کے مقام سے بڑھ کر نوازا اور اُسے کافی سال پہلے ڈویژن کا درجہ دے کر یہ ثابت کیا کہ یہ صرف ایک سرحدی علاقہ نہیں ہے جو جنگوں میں سب سے پہلے متاثر ہوتا ہے بلکہ وہاں باقاعدہ ریڈیو سٹیشن بھی قائم کیا تاکہ سٹرٹیجک اہمیت بھی اجاگر ہو سکے۔ اب ہم اپنے پیارے کماؤ پتر سیالکوٹ کی طرف آتے ہیں۔۔۔جیسے کسی گھر میں سب سے زیادہ کمانے والے اور محنتی شخص کے ساتھ عمومی طور پر ہوتا ہے کہ تمام اہم گھریلو امور میں نظر انداز بھی وہی ہوتا ہے،کچھ یہی معاملہ سیالکوٹ کے ساتھ بھی ہوا۔ سیالکوٹ کے پاس ہلال استقلال کا منفرد اعزاز ہو یا سیالکوٹ میں ڈرائی پورٹ کا قیام ہو یا پھر ایئر پورٹ کا، سیالکوٹ کے دلیر اور فراخ دل کاروباری لوگوں نے سود و زیاں سے بے فکر ہو کر خالصتاً انسانی جذبوں سے لیس ہو کر نہ صرف شہر اقبال بلکہ ملکی معیشت کو مضبوط و مستحکم کرنے میں وہ تاریخی کردار ادا کیا کہ عصر حاضر میں پاکستان تو کیا دنیا کے کسی دیگر شہر کی مثال ڈھونڈنا مشکل ہے۔ایئر پورٹ کا منفرد منصوبہ اِس قدر جامع اور ہمہ گیر ہے اور حکومت سے ایک پائی وصول کیے بغیر اتنا بڑا پراجیکٹ اپنی مدد آپ کے تحت پایہ تکمیل کو پہنچنا،پھر یہاں کی بزنس کمیونٹی کی جانب سے ”ائیر سیال“ کے نام سے اپنی ایئر لائن کامیابی سے چلانا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ پاکستان میں جہاں ملکی خزانہ ایک ایک ڈالر کو ترس رہا ہو اور ڈیفالٹ کا خطرہ ایک خوفناک ناگ کی طرح آنکھوں کے سامنے رقص کر رہا ہو، وہاں سیالکوٹ سے اربوں ڈالر کی ایکسپورٹ ملکی معیشت کی ڈھارس بندھاتی ہے اور یہ بات پورے پاکستان کے لیے قابل فخر ہے کہ قطر میں ہونے والے حالیہ ورلڈ کپ میں صرف سیالکوٹ سے تین لاکھ فٹ بال برآمد کئے جاتے ہیں۔


سیالکوٹ کی اِن کامرانیوں اور کامیابیوں کا تذکرہ کرنے کا مقصد کسی بھی دیگر شہر سے تقابل یا مقابلہ بازی نہیں بلکہ صرف اِس شہر کی ملکی معیشت میں اہمیت اور سنہری کردار بیان کرنا ہے۔ اب ذرا سیالکوٹ شہر کی حالت زار کی طرف چلتے ہیں۔ ہر ماہ تقریباً ایک دو مرتبہ مجھے اپنی والدہ کی قدم بوسی کے لیے اپنے آبائی قصبے چٹی شیخاں جانا پڑتا ہے۔موٹر وے سے اترنے کے فوری بعد یہ احساس جا گزیں ہوتا ہے کہ ہم کسی دور افتادہ اور پسماندہ علاقے میں داخل ہو چکے ہیں۔آپ شہر میں کسی بھی راستے سے داخل ہوں، شہر کی ٹوٹی پھوٹی سڑکیں،بیکار اور تعفن شدہ سیوریج،شکست و ریخت سے بھرپور در و دیوار اور بڑے بڑے پائپ، کچھ سمجھ نہیں آتا کہ ہم سیالکوٹ جیسے صنعتی ہب میں ہیں یا کسی علاقہ غیر میں داخل ہو چکے ہیں۔واٹر فلٹریشن پلانٹ کے غیر ضروری منصوبے کے لئے ہمارے علاقے کی200ایکڑ سے زائد نہایت بہترین زرعی اراضی چھوٹے کاشتکاروں کو اونے پونے داموں دے کر حاصل کی گئی اور صرف کمیشن کھانے کے لیے ایک بے کار منصوبہ شروع کرتے ہوئے سارے شہر کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ سیالکوٹ کی حالت زار پر تو اور بھی بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے مگر کالم کی تنگ دامانی کا سامنا ہے، لہٰذا بات کو مختصر کرتے ہوئے سیالکوٹ کے ساتھ ہونے والی سیاسی اور انتظامی نا انصافیوں کا تذکرہ ضروری ہے۔ 


سیالکوٹ کی متذکرہ بالا خدمات کے اعتراف میں بہت  پہلے اسے ڈویژن کا  درجہ مل جانا چاہیے تھا مگر شومی ئ  قسمت کہ سیالکوٹ کے حصہ میں 75 سالوں میں کوئی چودھری پرویز الٰہی نہیں آیا۔ سیالکوٹ کو ڈویژن کا درجہ دینے سے سیالکوٹ کے محاصل میں اضافہ نہیں ہونا اور نہ ہی اسے اِس کی ضرورت ہے ہاں البتہ سیالکوٹ کی ملکی معیشت میں اہمیت اور رول کو تسلیم اور اِس کی تحسین سے اِس شہر کے باسیوں کو اپنا سر فخر سے بلند کرنے کا موقع ضرور ملتا،مگر ہمارے ہاں کون سا کام کبھی میرٹ پر ہوا ہے جو یہ بھی ہو جاتا۔سیالکوٹ کے شہری، سماجی اور ادبی حلقے، بزنس کمیونٹی سب اِس کو ڈویژن بنانے کے لیے سراپا احتجاج ہیں البتہ سیاسی لیڈر شپ کسی غیبی اشارے کی منتظر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہے۔ ابھی سیالکوٹ کی انتظامیہ نے شہر کے قدیمی چوک علامہ اقبالؒ میں حضرت اقبال کا مجسمہ زرِ کثیر خرچ کرکے لگانے کا منصوبہ بنایا ہے جس کی شہر کے با شعور طبقوں نے بھرپور مخالفت کی ہے۔ہمارے خیال میں اِس مجسمہ سازی کی بجائے کہ اقبال تو خود گویا ہے : ”میں نا خوش و بیزار ہوں مرمر کی سلوں سے، میرے لیے مٹی کا حرم اور بنا دو“۔۔۔ہم ضلعی انتظامیہ سے بجا طور پر اُمید رکھتے ہیں کہ وہ اقبال کے مجسمے پر رقم خرچ کرنے کی بجائے فکر ِ اقبال کو پروان چڑھانے کے لیے کام کریں گے کہ اِس افراتفری کے دور میں بکھری قوم کو اتحاد و یگانگت کا سبق دینے کے لیے فکر ِ اقبال کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید :

رائے -کالم -