برصغیر میں زراعت اور آبپاشی کے نظام کوتقسیم ہند نے ”باری دوآب“اور”ستلج دو آب“ میں تقسیم کر دیا،بہت سے ہیڈ ورکس ہندوستان میں رہ گئے

 برصغیر میں زراعت اور آبپاشی کے نظام کوتقسیم ہند نے ”باری دوآب“اور”ستلج دو ...
 برصغیر میں زراعت اور آبپاشی کے نظام کوتقسیم ہند نے ”باری دوآب“اور”ستلج دو آب“ میں تقسیم کر دیا،بہت سے ہیڈ ورکس ہندوستان میں رہ گئے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف:شہزاد احمد حمید
 قسط:213
 ”اگر میں یہ کہوں کہ اجرک اور سندھی ٹوپی سندھی ثقافت کی پہچان ہیں تو ہر گز غلط نہ ہو گا۔اجرک مختلف رنگوں کی بلاک پرنٹنگ شال کا ایک ایسا امتزاج ہے جو سندھی ثقافت کا نمایاں جزو ہے۔دراصل یہ ساڑھے چار ہزار سال پرانے بلاک پرنٹنگ کی جدید قسم ہے۔خاص قسم کے شوخ رنگ اور ڈیزائین ان شالوں کو بہت ہی جاذب نظر بناتے ہیں۔ ہر سندھی کے کندھے پر لٹکتی اجرک اس کی شخصیت کا حصہ ہے۔ سندھی خاص طور پر دیہات کے رہنے والے اس کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ اجرک قدیم آریائی ثقافت کا حصہ رہی ہے۔ہر سندھی سر پر بطور پگڑی یا کندھے پر بطور رومال اسے رکھتا رہا ہے اور آج بھی اس کے لباس کا لازمی جزو ہے۔ دور جدید میں اجرک کے مخصوص ڈیزائین میں اب بیڈ شیٹ اور خواتین کے دوپٹے بھی دستیاب ہیں۔سندھی ثقافت میں اجرک اگر مہمانوں کو بطور تحفہ د ی جائے تو یہ ان کی قدر و منزلت سمجھی جاتی ہے۔اجرک فارسی لفظ ”ازرک“ سے ماخذ ہے جس کا مطلب ہے’نیلا“۔ یاد رہے اجرک میں نیلا اور سرخ رنگ نمایاں ہوتا ہے۔
”سندھی ٹوپی بھی قدیم سندھی ثقافت کا اہم جزو ہے۔ ہر سندھی مرد کے سر کی زینت۔ اجرک اور سندھی ٹوپی لازم و ملزوم ہیں۔ یہ سرائیکی لوگ بھی پہنتے ہیں خاص طور پر وہ سرائیکی جو سندھ کی سرحد کے قریب آباد ہیں۔ سندھی ٹوپی کی خاص بات کٹ شیشوں کا شانداراستعمال ہے جو اسے دیدہ زیب بنا تا ہے۔“
”ڈیلٹا کے قریب دریائی لوگ”ادھولال“ یعنی دریا کے بزرگ کی پوجا کرتے ہیں۔ ان کا عرس 12 ربیع الاؤل کو منایا جاتا ہے۔جو نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی پیدائش کا بھی دن ہے۔میرے کنارے آباد سبھی دیہاتوں اور کچے میں رہنے والے لوگوں کی اکثریت پیر بابا کی درگاہ پر سال میں ایک بار ضرور حاضری دیتی ہے کہ سندھو کے یہ سب سے بڑے پیر خیال کئے جاتے ہیں۔ جیسے ہی ڈیلٹا کا آغاز ہوتا ہے سائیں ”مورو“ کی قبر ہے۔ روایت کے مطابق مورو ایک سندھی مچھیرا تھا جس کو وھیل مچھلی نگل گئی تھی۔ کوئی بھی مچھیرا اپنی کشتی میں یہاں سے گزرتے وقت مورو کا نام پکارتا ہے تاکہ سندھو کے اس حصے سے بخریت گزرسکے۔“ یہ روایت تو ہوسکتی ہے لیکن وھیل کا میرے پانی میں موجود ہونا غلط ہے۔ یہ کسی طرح سے بھی ثابت نہیں ہو تا ہے۔ یہ مچھیرے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر آنکھیں بند کرکے دل ہی دل میں باباسے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں اور اپنی خیریت سے گزرنے کی دعا بھی کرتے ہیں۔اپنے اپنے عتقاد کی بات ہے۔“ 
 ”میری وجہ سے برصغیر میں زراعت اور آب پاشی کا آغاز انسانی سوچ سے بھی پہلے کا ہے لیکن جدید آب پاشی کی بنیاد1855ء میں فرنگی کے دور حکومت میں رکھی گئی تھی۔ انگریز نے اس دھرتی پر بڑانہری نظام قائم کیا۔ نئی نہروں کے ساتھ ساتھ پرانی اور ویران نہروں کو بھی بحال کیا گیا۔ یوں دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام تشکیل پایا۔تقسیم ہند نے اس نظام کو ”باری دوآب“اور”ستلج دو آب“ میں تقسیم کر دیا ہے۔ بہت سے ہیڈ ورکس ہندوستان میں رہ گئے اور نہریں پاکستان کے حصے میں آئیں یوں دونوں ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم کا تنازعہ کھڑا ہوا۔ یہ مسئلہ کچھ عرصہ چلتارہا اوراس سے پہلے یہ سنگین نوعیت اختیار کرتا”وولڈ بنک“ کی وساطت سے دونوں ممالک کے درمیان ”انڈس واٹر ٹریٹی“ یا”سندھ طاس معاہد ہ“ پر  1960ء میں دستخط ہوئے۔اس معاہدے سے 3مغربی دریاسندھ، جہلم اور چناب پاکستان کے حصے میں آئے اور 3 مشرقی دریا روای، ستلج اور بیاس ہندوستان کے حصے میں آئے۔ ہندوستان نے ان 3 مشرقی دریاؤں سے بہت سی نہریں نکالیں، بیراج بنائے تاکہ مشرقی پنجاب اورقریبی صوبوں کو آب پاشی کے لئے پانی مہیا کیا جا سکے۔ اس انتظام سے راجستھان کی 15 لاکھ ایکٹر صحرائی زمین قابل کاشت بنائی گئی۔ دوسری طرف پاکستان میں ”واپڈا“ wapda)) کا ادراہ قائم کیا گیا جس نے آب پاشی کے لئے نہریں کھودیں اور بجلی پیدا کرنے کے لئے مختلف ڈیمز بنائے۔ ان ڈیمز سے نکالی گئی نہروں سے جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع کو آب پاشی کے لئے پانی مہیا کیا گیا ہے۔سندھ طاس سمجھوتہ کے بعد پاکستان میں دریائے جہلم پر ”منگلا ڈیم“ آٹھ(8) کمپنیوں کے کنشورشیم جو ”منگلا ڈیم کنٹریکٹرز“ کہلاتا تھا نے1965ء میں تعمیر مکمل کی۔ اس ڈیم کی جھیل چالیس (40) مربع میل پر پھیلی ہے اور یہاں سے پندہ سو(1500) میگا واٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ یہ دنیا کا ساتواں بڑا ڈیم ہے۔مجھ پردنیا کا سب سے بڑا مٹی کا ”تربیلاڈیم“ 1976ء میں مکمل ہوا۔ پچاس(50) مربع میل پر پھیلی اس کی جھیل ہزارہ اور صوابی کے اضلاع میں واقع ہے۔ یہاں تقریباً پانچ ہزار(5000) میگا واٹ بجلی پیدا کر نے کی گنجائش ہے۔ ان دنوں ڈیمز سے صوبوں کو آب پاشی کے لئے پانی بھی مہیا کیا گیا ہے۔ مزید ڈاؤن سٹریم’”غازی بروتھا“ کے مقام پر ”غازی بروتھاڈیم“ 2004ء میں تعمیر کیا گیا جس کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت چودہ سو پچاس(1450) میگا واٹ ہے۔“
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -