اس وقت کراچی واقعی روشنیوں کا شہر تھا،کسی کو کوئی خطرہ نہیں تھا ہر طرف چہل پہل ہوتی، فلم کے آخری شو ٹوٹتے ہی شہر نئے سرے سے زندہ ہو جاتا 

اس وقت کراچی واقعی روشنیوں کا شہر تھا،کسی کو کوئی خطرہ نہیں تھا ہر طرف چہل ...
اس وقت کراچی واقعی روشنیوں کا شہر تھا،کسی کو کوئی خطرہ نہیں تھا ہر طرف چہل پہل ہوتی، فلم کے آخری شو ٹوٹتے ہی شہر نئے سرے سے زندہ ہو جاتا 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:121
ہم صبح دو تین بجے ہوٹل کی ڈیوٹی سے فارغ ہوتے تو باہر آ کرسارے دوست ایک قافلے کی صورت میں پیدل ہی چل پڑتے تھے اور صدر میں کسی عام سے ڈھابے میں بیٹھ کر تسلی سے ناشتہ کرتے اور اپنے اپنے گھروں کی راہ لیتے۔ہوٹل کا بدمزہ کھانا بھلایہاں ملنے والے پراٹھوں کی لذت کو کہاں پہنچتا تھا۔ویسے بھی وہاں بڑی رونق ہوتی تھی۔
اس وقت کراچی واقعی ہی روشنیوں کا شہر تھا، کسی کو کسی سے کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوتا تھا ہر طرف ایک  چہل پہل ہوتی تھی اور راوی نے چین ہی چین لکھ رکھا تھا۔ آدھی رات کے بعد فلم کے آخری شو ٹوٹتے تو ایک ہلچل مچ جاتی تھی۔ سارا شہر جیسے نئے سرے سے زندہ ہو جاتا تھا۔ من چلے تماشائی بلند آواز میں تازہ دیکھی ہوئی فلم کے گانے گاتے اور مکالمے بولتے ہوئے گزر جاتے تھے اور یہ سب کچھ بڑا ہی اچھا لگتا تھا۔ اگر چائے کی پیالی نہیں تو ہر بندہ کم از کم کسی کھوکھے پر ٹھہر کر پان ضرور کھا لیتا تھا،جو اس وقت صرف ایک آنے میں مل جاتا تھا اور تقریباً اتنی ہی قیمت میں انھیں دو سگریٹ بھی مل جاتے تھے جسے وہ پنواڑی کے کھوکھے پر لٹکی اور ہر وقت دہکتی رہنے والی رسی سے سلگاتے اور مل بانٹ کر سوٹے لگا لیتے تھے،کیوں کہ ان کی جیب انھیں پورا سگریٹ پینے کی اجازت نہیں دیتی تھی۔
یہ وہی دیار ہے دوستو
جہاں لوگ پھرتے تھے رات بھر
ہوٹل میں پہلے تو میری ڈیوٹی کیشئر کاؤنٹر پر لگی جہاں میں اور میرا ساتھی مہمانوں کے آرڈر کے مطابق ان کے بل بناتے جسے سب ”چیک“ کہتے تھے۔ بل کیا تھا، دو پرتوں والا ایک کارڈ تھا جس کے بیچ میں کاربن لگا ہوتا تھا۔ اسے مشین میں داخل کرتے اور پھر مشین پرمقررہ بٹن دبانے سے کھانے کی تفصیل اور قیمت اس پر ثبت ہو جاتی تھی۔ جب مہمان جانے کو تیار ہوتا تو اس کے بل کا میزان کیا جاتا اور ہاتھ سے وا جب الاد ا رقم نیچے لکھ کر ویٹر کے حوالے کر دیا جاتا، جو اسے متعلقہ مہمان تک پہنچا دیتا۔ زیادہ تر لوگ بل پر سرسری سی نظر ڈال کر ادائیگی کر کے اٹھ جاتے۔کچھ مہمان چیک کا اوپر والا حصہ اتار کر ساتھ لے جاتے، دونوں صورتوں میں چیک کا نچلا حصہ بہرحال واپس ہمارے پاس ہی آ جاتا۔ ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد وصول کی گئی ساری رقم اور یہ سارے چیک اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ میں جمع کروا آتے۔جو قیمتوں اور وصولی کا آڈٹ کرتے اور ان کا ضروری اندراج کرتے۔ اس ساری تفصیل بتانے کا مقصد یہ ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں پہلی دفعہ پڑھی لکھی دھوکا دہی اور بد عنوانی اسی مرحلے پر ہوتی دیکھی تھی۔
میرا دوسرا ساتھی، جو وہاں ایک عرصے سے کام کر رہا تھا، ایک دن میری طرف جھکا اور انتہائی رازداری سے مجھے بتانے لگا کہ اگر ہم بل میں کاربن اور نیچے والے حصے کے درمیان کوئی کاغذ رکھ دیں تو مشین میں ٹائپ کی گئی وہ تحریر نیچے والے اس حصے پر نہیں چھپے گی جو اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کو جاتے تھے۔اس نے مجھے اس کا عملی مظاہرہ بھی کر کے دکھایا ایک ڈش جس کی قیمت دو سو روپے سے زیادہ تھی اس نے اسی طرح کاربن کے نیچے کاغذ رکھ کر اس کی تفصیل اور قیمت ٹائپ کی۔ اوپر والے اصلی بل پر تو یہ سب کچھ چھپ گیا تھا تاہم نیچے وہ جگہ سادہ اور خالی ہی رہی۔ اس نے اوپر والے حصے پر اس طرح ٹوٹل کیا کہ اس کے نقش نیچے نہ پہنچنے دئیے، تھوڑی دیر بعد جب بل رقم کے ساتھ واپس آیا تو اس نے ایک دفعہ پھر کاربن رکھ کے نچلے حصے پر اس ڈش کے بغیر ہی ٹوٹل لکھ دیا اور چیک کا اوپر والا حصہ پھاڑ کر ضائع کر دیا اور200 روپے اس نے اپنی جیب میں ڈال لیے۔ مجھے اس غلاظت سے بے حد نفرت ہوئی میں نے اس کام میں شریک ہونے سے صاف انکار کر دیا۔ اس نے پہلے ملتجی اور پھر دھمکی آمیز نظروں سے مجھے دیکھا لیکن میں نے اس سے آنکھ ہی نہیں ملائی، اور اپنی ڈیوٹی ختم کر کے گھر چلا گیا۔ 
اگلے دن اللہ ہی کی طرف سے میری ڈیوٹی کی نوعیت بدل گئی اور مجھے سیاہ کوٹ اور ٹائی پہنا کر کہا گیا کہ میں بڑی دعوتوں میں مہمان بن کر بھیڑ میں گم ہو جایا کروں اور ان میں شرکاء کی صحیح تعداد کا پتہ لگاؤں تاکہ اسی کے مطابق متعلقہ لوگوں سے پیسے وصول کیے جا سکیں۔ ظاہر ہے مردم شماری کا یہ کام میں کھلم کھلا توسب کے سامنے کر نہیں سکتا تھا لہٰذا کھانے کی پلیٹ اٹھائے میں اِدھر سے اُدھر پھرتا رہتا اور ساتھ ساتھ اپنے فرائض بھی انجام دیتا رہتا۔ اور پھر میرے ہی گِنے ہوئے افراد کی تعداد کے مطابق بل بن جاتا تھا اور مجھے ہر بار پارٹی کا بہترین کھانا بھی مل جاتا تھا۔   (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -