جب ناکامی پر مبنی خیالات حملہ کرتے تو وہ اپنے آپ سے یوں ہمکلام ہوتا ”امن و سکون اور خوشیاں ہر وقت میرے ذہن کو اپنے حلقہ اثر میں رکھتی ہیں“

جب ناکامی پر مبنی خیالات حملہ کرتے تو وہ اپنے آپ سے یوں ہمکلام ہوتا ”امن و ...
جب ناکامی پر مبنی خیالات حملہ کرتے تو وہ اپنے آپ سے یوں ہمکلام ہوتا ”امن و سکون اور خوشیاں ہر وقت میرے ذہن کو اپنے حلقہ اثر میں رکھتی ہیں“

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف: ڈاکٹر جوزف مرفی
مترجم: ریاض محمود انجم
قسط:126
یہ کاروباری افسر، صبح نہایت ہی آہستگی اور خاموشی سے، مثبت سوچ پر مبنی اپنے ان الفاظ کی سچائی پر یقین رکھتے ہوئے انہیں 3 مرتبہ دہراتا۔ دن کے وقت جب اس کے ذہن پر ناکامی، خوف پر مبنی خیالات و تصورات حملہ کرتے تو وہ اپنے آپ سے یوں ہمکلام ہوتا، ”امن و سکون، طمانیت اور خوشیاں،ہر وقت میرے ذہن کو اپنے حلقہ اثر میں رکھتی ہیں۔
اس شخص نے اس طرح اپنے ذہن کو ادھر ادھر نہ بھٹکنے دیا، ہر قسم کے نقصان دہ اور خطرناک خیالات و تصورات اس کے ذہن میں آنے بند ہو گئے اور ا سکا ذہن پرسکون اور مطمئن ہو گیا۔ اسی طور اس نے اپنے پرسکون ذہن کے ذریعے اپنے لیے خوشی تلاش کر لی۔
پھر اس کے بعد، اس نے اپنے ذہن میں خیالات و تصورات کی نئی ترتیب کے اثر سے مجھے آگاہ کرنے کیلئے مجھے خط لکھا۔ اس کے ادارے کے صدر اور نائب صدر نے اسے اپنے دفتر میں بلایا، اس کی کاروباری سرگرمیوں اور نئے مثبت خیالات و نظریات کو سراہا اور کہا کہ وہ کس قدر خوش قسمت ہیں کہ انہیں اس شخص جیسا جنرل منیجر (General Manger) نصیب ہوا ہے۔ یہ کاروباری افسر یہ دریافت کر کے بہت خوش ہوا کہ خوشی انسان کے اندر ہی موجود ہوتی ہے۔
دراصل خوشی کے حصول میں کوئی رکاوٹ یا الجھاؤ نہیں ہے:
کچھ سال پہلے، میں نے ایک اخبار میں ایک مضمون پڑھا تھا، جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ سڑک پر دوڑنے کے دوران جب گھوڑے کے سامنے ایک گرا ہوا درخت آیا تو وہ کسی قدر ہچکچا گیا۔ بعد میں جب بھی وہ گھوڑا، درخت کے اس گرے ہوئے ٹکڑے کے سامنے آتا، وہ آگے بڑھنے سے انکارکر دیتا۔ گھوڑے کے مالک نے درخت کے اس ٹکڑے کو سڑک میں سے کھودکر نکال کر اسے جلا دیا اور سڑک پر مٹی وغیرہ ڈال کر اسے برابر اور ہموار کر دیا۔ لیکن 25 برس گزرنے کے بعد بھی جب گھوڑا اس مقام تک پہنچتا، وہ آگے بڑھنے سے انکا رکر دیتا۔ یہ گھوڑا اپنے ذہن میں موجود، گرے ہوئے درخت کے تصور کے باعث آگے بڑھنے سے انکار کر دیتا تھا۔
لیکن زندگی میں آپ کے خیالات اور ذہنی تصورات میں پوشیدہ خوشی و شادمانی کے راستے میں کوئی رکاوٹ درپیش اور موجود نہیں ہے۔ کیا ناکامی کا خوف اور دیگر تفکرات آپ کو خوشیوں سے محروم کررہے ہیں۔ خوف، صرف آپ کے ذہن کا شاخسانہ ہے، آپ اسے اسی وقت اپنے ذہن سے اکھاڑ سکتے ہیں اور اس کی بجائے اپنے ذہن میں کامیابی پر یقین اور تمام مسائل کے حل میں فتح یابی پر مبنی تصورات و خیالات سے بھر سکتے ہیں۔
میں ایک ایسے شخص کو جانتا تھا جس کا کاروبار ناکام ہو چکا تھا۔ وہ میرے پاس آیا اور مجھ سے یوں مخاطب ہوا: ”میں نے بہت غلطیاں کیں، لیکن میں نے ان غلطیوں سے بہت سبق سیکھا، میں دوبارہ اپنا کاروبار شروع کر رہا ہوں اور اس میں مجھے نہایت شاندار کامیابی نصیب ہو گی۔“ اس نے اپنے ذہن میں موجود ناکامی کی رکاوٹ کا سامنا اور مقابلہ کیا۔ اس نے نہ تو کوئی گلہ شکوہ کیا اور نہ ہی کوئی آہ و زاری کی لیکن اس نے اپنے ذہن میں موجود ناکامی کے خوف پر مبنی رکاوٹ کو اکھاڑ پھینکا اور اپنی ذات میں مخفی صلاحیت اور قوت کے ذریعے، اپنے ذہن میں موجود تمام منفی خیالات اور خوف باہر نکال پھینکے۔ اپنی ذات اور اپنی صلاحیت پر کامل یقین اور بھرسہ رکھیے،آپ یقینا کامیابی بھی حاصل کریں گے اور خوشیاں بھی آپ کو حاصل ہوں گی۔( جاری ہے) 
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -