اعجاز صاحب کے آتے ہی محفل گرم ہوگئی، بارہویں گوری کو مسلمان بنانے کا قصّہ پھر چل نکلا، وہ ہر بار ایک نہ ایک نئی بات بتا کر پھنس جاتے ہیں 

اعجاز صاحب کے آتے ہی محفل گرم ہوگئی، بارہویں گوری کو مسلمان بنانے کا قصّہ پھر ...
اعجاز صاحب کے آتے ہی محفل گرم ہوگئی، بارہویں گوری کو مسلمان بنانے کا قصّہ پھر چل نکلا، وہ ہر بار ایک نہ ایک نئی بات بتا کر پھنس جاتے ہیں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ع۔ غ۔ جانباز 
قسط:41
3-09-2018
معین احمد کے ہاں دعوت 
شام کو 8-1/2 بجے گھر سے چل دئیے۔ معین صاحب کا گھر بس سمجھیں پڑوس میں ہی ہے۔ چند ہی منٹ میں ہم وہاں تھے۔ معین احمد نے بڑی ہی خندہ پیشانی سے ہمارا استقبال کیا۔ وہاں اُن کے ایک دوست سے بھی ملاقات ہوئی جو وہاں پہلے سے موجود تھے۔ وہ ایف سی کالج اور اعظم گیریژن کالج میں زیر تعلیم رہے، جہاں میرا بیٹا احمد ندیم بھی پڑھتا رہا۔ لیکن چونکہ اُن کے زمانہ میں پانچ سال کا فرق تھا لہٰذا وہ ایک دوسرے سے ناواقف تھے۔
معین صاحب ایک بڑے صاف ستھرے گھر میں مقیم ہیں۔ ماشاء اللہ ایک ہنس مکھ بیگم، دو بیٹیاں اور ایک خوبصورت سلم سا بیٹا۔ مجھے وہ بیٹا بڑا پسند آیا۔ میں نے اُس کو اپنی موجودہ Physique کو برقرار رکھنے کے لیے ایکسر سائیز کو ایک معمول بنانے کا کہا جسے اُس نے بڑی خندہ پیشانی سے قبول کیا۔ 
معین صاحب ایگریکلچرکالج فیصل آباد میں زیر تعلیم رہے اور عرصہ 18 سال سے کینیڈا میں مقیم ہیں۔ اچھا وقت گذر رہا ہے۔ اچھی آمدنی ہے۔ بال بچّوں کا بڑی خوش اسلوبی سے پیٹ پال رہے ہیں۔ مختلف موضوعات جن میں سرفہرست ”پاکستان میں نئی حکومت“ زیادہ زیر بحث رہی۔ سبھی پُر امید تھے کہ اب پاکستان میں ضرور تبدیلی آئے گی اور ملکی حالات بہتر ہوجائیں گے۔ پھر کھانا لگ گیا، کھانے میں چکن روسٹ، بریانی، فش، چکن قورمہ، سلاد، رائتہ، کباب، چٹنی، نان وغیرہ۔ 
سب نے خوب شکم پروری کی اور بعد میں ”گڑ کے چاول“ پیش کیے جو میری پسندیدہ ڈش ہے، میں نے خوب لطف اُٹھایا۔ اِس کے علاوہ بھی سویٹ ڈش تھی لیکن میں تو لبالب بھر چکا تھا۔ پھر چائے کا دَور چلا، بڑے بڑے کپ، تھک ہار کر آدھا ہی ختم کر سکا۔ پھر اجازت چاہی تو معین احمد نے 2گفٹ ایک میرے لیے اور ایک میری بیگم کے لیے پیش کیے اور اس طرح ہم 10 بجے گھر پہنچے۔
7-9-2018
بیٹے احمد ندیم کے دوست منصب صاحب 
 خوشگوار موسم، ہلکے ہلکے بادلوں کی چاروں اور حکمرانی، ہم سب فیملی ممبران دو گاڑیوں میں 7:30 بجے شام چل دئیے کہ ایک گاڑی میں تو قانوناً پانچ کی Capacity ہے اور ہم ٹھہرے 6 افرادِ خانہ۔ یاد رہے  منصب صاحب میرے بیٹے احمد ندیم کے کلاس فیلو اور واپڈا میں ایس ڈی او تھے اور آخری دنوں منصب صاحب شاہ کوٹ میں تعینات دیکھے گئے تھے۔ یہاں کینیڈا میں آکر انہوں نے "Windsor" یونیورسٹی سے ماسٹر کی ڈگری لی تو اِس طرح یہاں ریگولر نوکری حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ 
اُن کی رہائش وہاں ایک ملٹی سٹوری بلڈنگ کے اپارٹمنٹ نمبر 516 پانچویں فلور پر تھی۔ وہاں پہلے سے جناب صلاح الدین صاحب اور وسیم احمد صاحب آچکے تھے۔ ایک کمی تو اعجاز صاحب کی تھی تو اُسے فون کرکے بلا لیا گیا اور اُن کے آتے ہی محفل گرم ہوگئی اور اُن کا بارہویں گوری کو مسلمان بنانے کا قصّہ پھر چل نکلا۔ وہ ہر بار ایک نہ ایک نئی بات بتا کر پھنس جاتے ہیں۔ کہنے لگے کہ پچھلی رات میں 11 بجے باہر نکلا تو سامنے گھر والی وہی گوری باہر کھڑی تھی وہ مجھ سے پوچھنے لگی کہ ”کیا بعد از موت ایک دوسری زندگی بھی ہوتی ہے؟“ تو سب کھلکھلا کر ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ دن تو دن تمہیں تو رات کے گیارہ بجے بھی ”گوری“ ملنے کے لیے محوِ انتظار ہوتی ہے۔ بڑی ہی گڑ بڑ والی بات ہے۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -