امن مذاکرات اور پاکستان کی اہمیت!

امن مذاکرات اور پاکستان کی اہمیت!

  

خبر یہ ہے کہ حکومت پاکستان نے ملک میں زیر حراست اہم طالبان کو رہا کرنے سے قبل افغانستان کے اعلیٰ سطحی امن جرگہ کو اِس کے لئے کردار دینے پر رضا مندی ظاہر کردی ہے اور جب بھی کسی کی رہائی کا فیصلہ ہوگا تو جرگہ سے مشاورت کی جائے گی اور باقاعدہ ایک طریق کار طے کیا جائے گا۔یہ فیصلہ لندن میں ہونے والے سہ فریقی مذاکرات کے نتیجے میں ہوا ہے۔مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ افغانستان کی حکومت کی خواہش ہے کہ امن کے عمل میں دونوں ملک مل کر کوشش کریں ۔سہ فریقی مذاکرات میں طے ہوا کہ ایک طریق کار کے تحت طالبان کی رہائی عمل میں آجائے گی اور وہ امن بحال کرنے میں معاون ہوں گے۔ پاکستان اب تک26طالبان کمانڈر اور اہم رہنما رہا کرچکا ہے اور اب بھی متعد د اعلیٰ سطح کے حضرات جیلوں میں ہیں۔اُن میں ملا برادر بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ افغانستان کی طرف سے اُن کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا جاتا رہا ہے۔نئے حالات میں جب خود امریکہ اور اُس کے اتحادی طالبان سے مذاکرات کررہے ہیں تو ایسا فیصلہ بہتر نتائج دے گا اور تمام عمل میں پاکستان کی شرکت بامعنی ہوگی۔اِس وقت پاکستان جن حالات سے دو چار ہے ، امن اُس کے لئے بھی بہت اہم ہے۔ حال ہی میں تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے مشروط مذاکرات کی بات کی گئی تو پاکستان کی اہم سیاسی جماعتوں کی طرف سے اِس کا خیر مقدم کیا گیا لیکن ابھی تک وزیر داخلہ کے بیان کے باوجود حکومت پاکستان کا موقف سامنے نہیں آیا کہ سینٹ کی کمیٹی برائے اُمور خارجہ کو بریفنگ دیتے ہوئے سےکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی نے یہ انکشاف کیا ہے ۔اِس سے یہ مراد لی جاسکتی ہے کہ حکومت قیام امن کے اِس عمل میں تو شرکت کررہی ہے جو امریکہ اور اُس کے اتحادیوں نے شروع کررکھا ہے لیکن ملک کے اندر جس تنظیم نے دہشت گردی شروع کررکھی ہے اُس کے حوالے سے کوئی مثبت قدم نہیں اُٹھایا جارہا ہے حالانکہ مذاکرات کی پیشکش تحریک طالبان کی طرف سے ہے اور امریکہ کی طرف سے این ۔او۔سی کا بھی اعلان کیاگیا ہے۔ امن مذاکرات بہترین عمل ہے ا ور یہ شروع ہونے چاہئیں ۔اگر افغانستان میں برسر پیکار طالبان سے مذاکرات امریکہ اور اتحادیوں کی مرضی سے ہورہے ہیں تو پاکستان میں بھی ہوجائیں تو بہتر ہوگا۔ اِس میں تاخیر مناسب نہیں۔حکومت پاکستان کو اپنا موقف دینا چاہیے۔

مزید :

اداریہ -