کشمالہ جیسی عورت کی ’نمائش ‘ ترقی کیلئے سیڑھی ہے ، پاکستان کی شان نہیں : خالد فاروقی

کشمالہ جیسی عورت کی ’نمائش ‘ ترقی کیلئے سیڑھی ہے ، پاکستان کی شان نہیں : ...
 کشمالہ جیسی عورت کی ’نمائش ‘ ترقی کیلئے سیڑھی ہے ، پاکستان کی شان نہیں : خالد فاروقی

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)جمعیت اہلِ حدیث پاکستان کے مرکزی راہنما اور اہلِ حدیث اتحاد کونسل کے سیکرٹری جنرل حافظ خالد شہزاد فاروقی نے کہا ہے کہ خواتین کی پارلیمنٹ میں 33فیصد نمائندگی سے عورتوں کو حقوق ملنے کی بجائے حقوقِ نِسواں کی پامالی ہوئی ہے اور پوری دنیا میں ایک اسلامی ملک ہونے کے ناطے سے پاکستانی خواتین ارکانِ پارلیمنٹ کا مجموعی رویہ رسوائی کا سبب بنا ہے ،کشمالہ طارق اور اِس قبیل کی دیگر خواتین کے رنگ ڈھنگ اسلام سے مطابقت نہیں رکھتے لہذا اسلامی نظریاتی کونسل جو کہ خود ایک” سیاسی نواز “ ادارے کا روپ دھار چکا ہے کو اللہ سے ڈرتے ہوئے اسلام کی درست تشریح کرنی چاہئے اور پارلیمنٹ کی ”نمائشی اورماڈل“ خواتین کے خلاف سخت رویہ اپناتے ہوئے اسلامی حد لگانے سے بھی گریز نہیں کرنا چاہئے ۔مین مارکیٹ گلبرگ میں مولانا شکیل الرحمن ناصر ،مولانا رانا نصراللہ خان ،علامہ مولانا محمد اصغر فاروق ،مولانا قاری یونس ریحان ،حافظ محمد نواز بٹ ،مولانا عبدالوحید سلفی،میاں عامر بشیر ،مولانا محمد بشیر سلفی اور دیگر علمائے اہلِ حدیث کے ساتھ ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ خالد شہزاد فاروقی نے کہا کہ للہ تعالیٰ نے گھر کو چلانے کی ذمہ داری عورت اور باہر کی ذمہ داری مرد کودی ہے،اگر عورت باہر روزی کمانے کی نیت سے جانا چاہتی ہے تو جا سکتی ہے مگر ایک شرعی پردے میں، آج عورتوں کو حقوق نسواں کے نام پر بے وقوف بنایا جا رہا ہے اور عورت کو کھلونا سمجھ کر اس کو استعمال کیا جا رہا ہے ان کو سڑکوں پر لایا گیا ہے اور سائن بورڈ کی زینت بنا دیا گیا ہے۔ افسوس کی بات یہ کہ اب نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ جب تک ہم عورت کو سڑکوں پر نہیں لائیں گئے، جب تک ان کومادر پدرآزادی نہیں دیں گئے تو ہمارا معاشرہ ترقی نہیں کر سکے گا ۔اُنہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اپنے جسم کی نمائش کرتی ،اپنوں جلووں سے اراکینِ پارلیمنٹ کو گمراہ کرنے اور مسلمان خواتین کا تمسخر اڑانے والی کشمالہ طارق اور اُس جیسی دیگر خواتین ارکان کسی طرح بھی مسلمان عورتوں کی نمائیندہ کہلانے کی حق دار نہیں ہیں ۔حافظ خالد شہزاد فاروقی نے کہا کہ کشمالہ طارق کی اخلاق باختہ اور حیا سوز آڈیو سی ڈی منظرِ عام پر آنے کے بعد پارلیمنٹ اور الیکشن کمیشن کا خاموش رہنا ایک سوالیہ نشان ہے،ہم بازاری گفتگو کرنے اور مغرب کی پروردہ کسی بھی خاتون کو معزز ایون کی زینت بننے نہیں دیں گے ،کشمالہ طارق کا کردار اور قصے کہانیاں نئی تو نہیں ہیں مگر” آڈیو سکینڈل“ کے منظرِ عام پر آنے کے بعد ہم اُس کے خلاف 13فروری الیکشن کمیشن اسلام آباد میں ریفرنس دائر کریں گے جس کے لئے ہم نے تمام تر دستاویزی ثبوت اکھٹے کر لئے ہیں۔

مزید :

لاہور -