عوام کو مصروف رکھنے کے ٹوٹکے

عوام کو مصروف رکھنے کے ٹوٹکے
عوام کو مصروف رکھنے کے ٹوٹکے
کیپشن:   naseem

  

ہمارے ہاں عوام کو مصروف رکھنے اور بے وقوف بنانے کے لئے ہر دور میں کچھ نہ کچھ کیا جاتا ہے، کیونکہ اگر ایسی کوئی مصروفیت پیدا نہ کی جائے تو عوام اپنے حقوق کے بارے میں سوچنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہمارے حکمران تو شاید ہمیشہ سے ہی جھولیاں اُٹھا اُٹھا کر یہ دُعا مانگتے ہیں کہ اے اللہ کوئی مسئلہ بھیج تاکہ اس میں الجھا کر عوام کو دور رکھا جا سکے۔ یہی تکنیکی وجہ ہے کہ جس کے باعث ہمارے ہاں مسائل حل نہیں ہوتے، البتہ کچھ دوسرے مسائل کھڑے ہو جاتے ہیں۔ موجودہ حکومت اس لحاظ سے ”خوش قسمت“ ہے کہ اسے دہشت گردی جیسے مسئلے نے بہت ریلیف دیا ہے۔ اس ایک مسئلے کی وجہ سے وہ تمام مسائل پس منظر میں چلے گئے ہیں، جنہوں نے عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے، نہ صرف ایسے مسائل، بلکہ وہ مطالبے اور تحریکیں بھی منظر سے غائب ہو گئی ہیں، جنہوں نے پورے ملک میں ہیجان برپا کر رکھا تھا۔ انہی تحریکوں میں ایک تحریک علیحدہ صوبوں کی بھی تھی۔

ابھی کل کی ہی بات ہے کہ خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ میں علیحدہ صوبوں کے لئے زور دار آوازیں بلند ہو رہی تھیں، مَیں خاص طور پر جنوبی پنجاب میں علیحدہ صوبے کا ذکرکرنا چاہتا ہوں، جسے پیپلزپارٹی کے دورِ حکومت میں جی بھر کے اُچھالا گیا۔ پیپلزپارٹی نے اس کے لئے اسمبلی میں قراداد بھی پیش کر دی اور علیحدہ صوبے کے مطالبے کو پارٹی منشور بھی قرار دیا۔ سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اس معاملے میں پیش پیش رہے اور انہوں نے سارا منظر نامہ جنوبی پنجاب میں علیحدہ صوبے کے اردگرد ترتیب دیا۔ وہ وزیراعظم کی حیثیت سے کئی بار ملتان اور بہاولپور میں علیحدہ صوبے کو چند دنوں کا مسئلہ قرار دیتے رہے، جو اپنے منطقی انجام سے دوچار ہونے جا رہا تھا۔ آخری دنوں میں تو انہوں نے بہاولپور کے جلسے میں ”صوبہ ملتان بہاولپور“ کے نام سے صوبے کی خشت ِ اول بھی رکھ دی، حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ سب کچھ ایک ڈھکوسلا ہے، لیکن انہیں چونکہ مستقبل کے حالات نظر آ رہے تھے، اس لئے وہ چاہتے تھے کہ خود کو جنوبی پنجاب یا سرائیکی صوبے کا سرخیل بنا کر پیش کریں تاکہ بعد میں جو کچھ بھی ہو، اسے اسی مطالبے کا شاخسانہ قرار دے سکیں۔ انہیں جب سپریم کورٹ نے عہدے سے معزول کیا تو اُس کے بعد بھی وہ یہ دعویٰ کرتے رہے کہ انہیں علیحدہ صوبہ مانگنے اور اس کے بارے میں اعلان کرنے کی سز دی جا رہی ہے۔ انہوں نے اِسی بنیاد پر جنوبی پنجاب میں انتخابی مہم بھی چلائی، لیکن عوام نے انہیںاور پیپلزپارٹی کو مسترد کر دیا۔ اُن کے تینوں بیٹے اور بھائی انتخابات میں بُری طرح شکست کھا گئے۔ یہ عوام کی طرف سے اسی بات کا اظہار تھا کہ وہ سید یوسف رضا گیلانی کی علیحدہ صوبے کے لئے زبانی کلامی تحریک پر بھروسہ نہیں کرتے اور یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں صوبے کے نام پر بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔

 انتخابات سے پہلے نئے صوبوں کے مطالبے کا اس قدرزور تھا کہ خود مسلم لیگ(ن) بھی اس سے بچ نہ سکی اور اُس کے رہنماﺅں کو بھی یہ کہنا پڑا کہ وہ نئے صوبوں کے مخالف نہیں البتہ نئے صوبے صرف پنجاب نہیں، بلکہ سب جگہ بننے چاہیں، صوبوں کا مطالبہ کبھی رد نہیںہوسکتا۔ یہ سب جانتے ہیں چونکہ اس کے لئے بہت کچھ کرنا پڑے گا ۔سب سے پہلے تو آئینی ترمیم کی ضرورت پڑے گی ، آئین میں وفاق کی چار اکائیاں ہیں، انہیں بڑھانے کے لئے ظاہر ہے کہ سب کچھ تبدیل کرنا ہو گا، جو آسان بات نہیں، صرف ایک صوبے خیبر پختونخوا کا نام تبدیل کرنے کے لئے کس قدر پاپڑ بیلنے پڑے، یہ سب کو معلوم ہے ،نیا صوبہ بنانا تو صحیح معنوں میں جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ یہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی عوام کو نئے صوبوں کے خواب دکھائے جاتے رہے ، جن کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں تھا کہ اُن کی ہمدردیاں حاصل کی جائیں، دیکھا جائے تو عوام کو اب سبز باغ دکھانے کے لئے کچھ رہا ہی نہیں، ہاں یہ صوبوں کی ترکیب ایسی ہے کہ جو اب بھی کارگر ثابت ہوسکتی ہے، مجھے دوسری جگہوں کا تو علم نہیں، البتہ جنوبی پنجاب کے بارے میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہاں علیحدہ صوبے کا مطالبہ اب لوگوں کی نفسیاتی کمزوری بن چکا ہے، وہ چاہتے ہیں کہ جلد از جلد یہ صوبہ بنے تاکہ انہیں بھی ترقی یافتہ علاقوں کے برابر سہولتیں اور حقوق مل سکیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس علاقے کی تاریخی وثقافتی شناخت صوبوں سے موجود ہے۔ ملتان کی حیثیت ایک دارالخلافہ کی تھی، جہاں سے پورے خطے پر حکومت کی جاتی تھی، ایک تو اس تاریخی حیثیت کی وجہ سے اور دوسرا پنجاب میں آنے والے حکمرانوں کے اس علاقے سے امتیازی سلوک کے باعث یہاں یہ احساس بڑھا کہ جب تک انہیں علیحدہ صوبہ نہیں ملتا، اُن کی حالت نہیں سدھر سکتی۔

 علیحدہ صوبے کے تمام تر عوامل اور عناصر تو یہیں موجود تھے، جن کے باعث یہاں سرائیکی قوم پرست تنظیموں نے جنم لیا، یہ ایک طرف علیحدہ صوبے کی آرزو کو مو¿ثر بنانے کی پیشرفت بھی تھی اور دوسری طرف اس نے علیحدہ صوبے کے راستے میں رکاوٹیں بھی کھڑی کر دیں، تضاد کا باعث یہ نکتہ تھا کہ ایک طرف جنوبی پنجاب کے حقوق کو سلب کرنے کی ذمہ د اری تخت لاہور پر ڈالی جاتی ہے،مگر دوسری طرف صوبے کی انتظامی بنیادوں پر تقسیم کو قبول نہیں کیا جاتا بلکہ اس کے لئے لسانی وثقافتی حوالے دیئے جاتے ہیں،جنوبی پنجاب کو سرائیکی صوبے کے نام سے موسوم کرنے والے درحقیقت اسی بنیادی نکتے کو فراموش کر دیتے یں کہ اب جنوبی پنجاب ایک ملٹی کلر اور ملٹی لنگول خطہ ہے، جہاں صرف سرائیکی زبان بولنے والے ہی نہیں رہتے، بلکہ اردو، ہریانوی، پنجابی، سندھی، بلوچی زبانیں بولنے والے بھی کروڑوں کی تعداد میں مقیم ہیں، اگر صرف سرائیکی کی بنیاد پر صوبہ بنایا جاتا ہے، تو گویا کروڑوں افراد اپنی شناخت سے محروم ہو جائیں گے۔ پہلے سے بے شمار مسائل میں گھرے ہوئے پاکستان کے لئے یہ ایک اور سنگین مسئلہ ہو گا کہ لسانی و ثقافتی حوالے سے عوام کے درمیان پیدا ہونے والی تفریق و کشیدگی کو روکے۔ ابھی تک خطے کے قوم پرست رہنماﺅں کو یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ وہ اپنے راستے میں خود رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔ ان کے مطالبات اگر تعصب پر مبنی ہوں گے تو اُن کی حمایت کرنے والے بھی بہت کم ہوں گے، نہ صرف یہ بلکہ سیاسی قوتیں بھی اپنے ووٹ بنک کو نقصان پہنچنے کے پیش ِ نظر اُن کے مطالبات کی کھل کر حمایت نہیں کر پائیں گی۔ مقصد اگر احساس ِ محرومی اور پسماندگی کا خاتمہ ہے، تو علیحدہ صوبے کا مطالبہ انتظامی بنیادوں پر ہونا چاہئے، صوبہ بننے کے بعد وہاں کی زبان و ثقافت کو فروغ دینا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے سو یہ مقصد بھی پورا ہو جائے گا۔

خیر آج کے کالم کا موضوع یہ نہیں، اصل بات یہ ہے کہ پاکستانی عوام کو مصروف رکھنے کے لئے کچھ شوشے چھوڑے جاتے ہیں، کچھ ایشوز بنائے جاتے ہیں، عوام اپنے بھول پن کی وجہ سے ان میں شریک ہو جاتے ہیں، مگر جونہی وقت گزرتا ہے، اُن ایشوز کو قصہ¿ پارینہ بنا دیا جاتا ہے اور ان کی جگہ عہدِ موجود کے کچھ نئے اور مصالحے دار ایشوز سامنے لائے جاتے ہیں۔ یہ66سال سے ہو رہا ہے اور اگلے66سال تک بھی شایدیہی ہوتا رہے گا۔

مزید :

کالم -