امریکہ و برطانیہ بلوچ علیحدگی پسندوں کے سرپرست کیوں؟

امریکہ و برطانیہ بلوچ علیحدگی پسندوں کے سرپرست کیوں؟
امریکہ و برطانیہ بلوچ علیحدگی پسندوں کے سرپرست کیوں؟
کیپشن:   riaz

  

امریکی کانگریس اور امریکی دفتر خارجہ کے حکام نے حال ہی میں وسطی لندن میں سابق خان آف قلات کے پوتے میر سلیمان خاں اور میر حیر بیار مری سے ملاقات کی اور اس ملاقات کے دوران باغی بلوچ علیحدگی پسندوں کے ساتھ بلوچستان کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔ یہ امر پاکستانی عوام کے لئے ہرگز موجب حیرانی نہیں کہ امریکہ اور برطانیہ یوں تو پاکستان کے ساتھ دوستی کا دم بھرتے ہیں، لیکن دونوں سامراجی طاقتیں پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے سے بھی باز نہیں رہتیں۔ امریکہ اور برطانیہ دونوں درحقیقت اسلام اور مسلمانوں کے کھلے دشمن ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دنیا کی واحد مسلم ایٹمی ریاست کو نقصان پہنچانے کے لئے ہمہ وقت کمربستہ رہتے ہیں۔ تقسیم ہند کے وقت برطانوی سامراج نے ہندو¶ں سے مل کر پنجاب کی غیر فطری تقسیم کی اور ریاست جموں و کشمیر کو بھارت کے حوالے کرنے کے لئے مسلم اکثریت کے ضلع گورداس پور کو پاکستان کے بجائے ہندوستان میں شامل کر دیا، یوں برطانیہ نے مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کی راہ ہموار کی۔

برطانیہ 1947ءمیں پورا ہندوستان ہندوﺅں کے حوالے کرنا چاہتا تھا، لیکن برصغیر کے مسلمانوں نے حضرت قائداعظم محمد علی جناح ؒ کی قیادت میں متحد ہوکر انگریزوں اور ہندوﺅں کی اس سازش کو ناکام بنا دیا اور انہوں نے دو قومی نظریے کی بنیاد پر پاکستان حاصل کر لیا۔ برطانوی سامراج ابھی تک اپنی سازشوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ برطانیہ نے لندن میں علیحدگی پسند بلوچ باغیوں کو پناہ دے رکھی ہے اور برطانیہ و امریکہ دونوں بلوچستان کی علیحدگی کے لئے سازشوں میں مصروف ہیں۔ اپنی اس ناپاک سازش کو کامیاب بنانے کے لئے دونوں سامراجی طاقتیں بھارت کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔ بلوچستان میں سی آئی اے، را، بلیک واٹر اور امریکی حمایت یافتہ جنداللہ اور مٹھی بھر بلوچ باغیوں نے بے گناہ پنجابیوں، پشتونوں، بلوچوں اور ہزارہ قبیلے کے لوگوں کا قتل عام شروع کر رکھا ہے۔

امریکہ، برطانیہ اور بھارت کے ایجنٹ بلوچ باغیوں کو مذموم سرگرمیوں کے لئے اسلحہ اور فنڈز فراہم کر رہے ہیں۔ ہمارے دفاعی اداروں کے پاس ان تینوں ممالک کی پاکستان دشمن سرگرمیوں کے شواہد بھی موجود ہیں۔ ذرائع کی اطلاع کے مطابق خدا بخش مری کے بڑے بیٹے مہران خان مری اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سیل میں غیر سرکاری بلوچ علیحدگی پسند نے گزشتہ دنوں جنیوا میں یورپی یونین کے سفیر سے بھی ملاقات کی اور ان سے بلوچستان کی علیحدگی کے لئے تعاون کی اپیل کی۔ لندن میں بلوچ علیحدگی پسندوں نے بھی امریکیوں سے بلوچستان کی آزادی کے لئے امداد طلب کی اور امریکی وفد نے بلوچ باغیوں کو اس بارے میں بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ ہمارے دفتر خارجہ کو امریکہ اور برطانیہ سے اس حوالے سے بھرپور احتجاج کرنا چاہئے۔

واضح رہے کہ امریکہ نے پاکستان کے ساتھ ہمیشہ منافقانہ طرز عمل ہی رکھا ہے۔ ایک طرف وہ پاکستان کے ساتھ دوستی کا دعویدار ہے، تو دوسری طرف پاکستان کو توڑنے کے لئے مذموم سازشوں میں مصروف ہے۔ چند ہفتے قبل اسلام آباد میں سراج الدین حقانی کے بیٹے کے پُراسرار قتل میں بھی امریکی سی آئی اے ملوث ہے اور یہ قتل بلیک واٹر کے ایجنٹوں نے کیا۔ پشاور کے ہوٹل میں جو خودکش حملہ ہوا، اس میں بھی سی آئی اے اور بلیک واٹر ملوث ہیں۔ ممتاز دانشور اور ماہر قانون ڈاکٹر اے باسط نے اگلے روز ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ انکشاف کیا کہ اسلام آباد اور پشاور میں سی آئی اے بلیک واٹر کے 50 سے زائد اہلکار دہشت گردی، قتل و غارت اور تخریبی سرگرمیوں کے لئے موجود ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا، قبائلی اور شمالی علاقوں کے علاوہ وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی میں امریکی سی آئی اے اور بلیک واٹر کے اہلکار سرگرم عمل ہیں، کیونکہ امریکہ پاکستان کو کمزور کرنے اور جنوبی ایشیا میں بھارت کی بالادستی کے لئے دہشت گردی کا ارتکاب کر رہا ہے، کیونکہ امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان مشرقی سرحدوں سے اپنی فوجیں ہٹا کر مغربی سرحدوں پر تعینات کرے۔ ڈاکٹر باسط تو یہ بھی کہتے ہیں کہ امریکہ اور پاکستان دونوں بھارت کی بالادستی اور مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈالنے پر متفق ہوچکے ہیں،اس مقصد کے لئے واہگہ بارڈر 24گھنٹوں کے لئے کھول دیا گیا ہے تاکہ پاکستان بھارتی مال کی منڈی بن جائے اور پاکستانی صنعت تباہ ہو جائے۔ ہمارے وزیراعظم نواز شریف آئے روز برملا دعویٰ کرتے ہیں کہ مجھے بھارت کے ساتھ دوستی کے لئے مینڈیٹ ملا ہے، جبکہ امیر جماعت اسلامی سید منور حسن وزیراعظم کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ گویا وزیراعظم کو کشمیریوں سے دشمنی کا مینڈیٹ ملا ہے۔ پاکستانی عوام بلاشبہ نوازشریف کی بھارت دوستی کے طرزعمل پر بڑے شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں۔

ہماری اکثر دینی اور سیاسی جماعتیں وزیراعظم کی بھارت نواز پالیسی پر سخت تنقید کرتی ہیں اور ان کا م¶قف ہے کہ مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کے ہمارے دریا¶ں پر ڈیموں کی تعمیر پر حکومت نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے، تاہم اس مسئلے پر ہماری پارلیمنٹ میں متفقہ طور پر قرارداد کی منظوری قومی امنگوں کی بھرپور ترجمانی کرتی ہے۔ امریکی حکام اور بھارتی اہلکار کافی عرصہ سے لندن اور کابل میں موجود بلوچ باغیوں سے رابطوں میں مصروف ہیں اور وہ بلوچ باغیوں کو پاکستان کے خلاف سرگرمیوں کے لئے ہر قسم کا تعاون فراہم کر رہے ہیں۔ لندن میں بلوچ باغیوں کے ساتھ امریکی کانگریس اور امریکی وزارت خارجہ کے افسروں کی ملاقات کے بارے میں امریکی ترجمان نے بھی تصدیق کردی ہے۔ امریکی کانگریس کے ذمہ داروں میں ایوان نمائندگان کے کچھ ارکان کے علاوہ دو بڑے سینیٹر بھی موجود تھے اور ان میں سے کئی ارکان کافی عرصے سے بلوچ باغیوں کے ساتھ رابطوں میں مصروف ہیں۔ یہ امر نہایت قابل افسوس ہے کہ ہماری حکومت ،بالخصوص وزارت خارجہ کو، جنہیں امریکہ اور برطانیہ سے زبردست احتجاج کرنا چاہئے تھا،انہیں پاکستان کی قومی سلامتی سے زیادہ اپنے ذاتی مفادات کا خیال رہتا ہے اور وہ قومی سلامتی کے امور کے بارے میں زیادہ فکر مند نہیں ہوتے۔

مزید :

کالم -