دہشت گردی اور ہمارا کلچر

دہشت گردی اور ہمارا کلچر
دہشت گردی اور ہمارا کلچر
کیپشن:   sarfraz

  

بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ ہم اندھی گلی میں کھڑے ہیں اور اندھے کنوئیں میں گرنے والے ہیں، وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کہتے ہیں کہ دہشت گردی اور فرقہ واریت نے ہمیں دنیا بھر میں رسوا کر دیا، دوسری جانب طالبان کے حامی مولانا عبدالعزیز کہہ رہے ہیں کہ طالبان آئین اور قانون کو نہیں مانتے،ایسے میں طالبان سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نظر نہیں آتا ،سچ پوچھئے تو جب تک پاکستان میں امن ممکن نہیں ہم دنیا سے الگ تھلگ کوئی ایسا ملک ہیں،جس سے کسی کا کوئی تعلق نہیں اور جس سے کسی کو کسی بھی طرح کی ہمدردی نہیں ،سیانے سچ کہہ گئے کہ:

”جتھے کلا قلندر وَسے....اوتھے گھڑیوں پانی نسے“

یعنی جس گھر میں ہر وقت لڑائی جھگڑے رہیں وہاں رزق نہیں آتا، بلکہ جو رزق پہلے سے موجود ہوتا ہے، وہ بھی بھاگ جاتا ہے۔

موجودہ حکومت کی پہلے دن سے خواہش رہی ہے کہ کسی بھی طرح بیرونی دنیا سے ویسے ہی روابط ہو جائیں، جو مشرف دور سے پہلے تھے، لیکن کیا کیا جائے کہ مشرف حکومت کے بعد سے پلوں کے نیچے بہت سا پانی بہہ گیا ہے،طالبان ،امریکہ اور بھارت نے اپنے اپنے انداز میں ہم سے ایسے ایسے بدلے لئے ہیں، جن کا تریاق ابھی ہمارے بس میں نہیں ،کوئی شک نہیں کہ مشرف کے بعد جمہوری ادوار میں بہت حد تک کوشش ہوئی کہ کسی طرح ملک میں امن و مان قائم کیا جائے اور بیرونی دنیا کا پاکستان پر اعتماد پھر سے بحال کیا جائے، لیکن ابھی تک خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی بھی خواہش ہے کہ کسی طور امن کا دور واپس آئے اور ہم دنیا میں سر اُٹھا کر چلنے کے قابل ہو جائیں، مگر لگتا یہی ہے کہ اس سب کے لئے ہمیں بہت بڑے پل صراط سے گزرنا ہے، جو طالبان پاکستان کے آئین کو نہیں مانتے ان سے مذاکرات کس حد تک کامیاب رہ سکتے ہیں ،اس کا اندازہ ابھی سے کیا جا سکتا ہے؟

یاد رکھنے والی بات صرف اتنی ہے کہ پاکستان نے جب سے ایٹمی دھماکے کئے ہیں ہمارے دشمن کھل کر سامنے آئے ہیں اور انہوں نے ہمارے لئے زمین تنگ کرنے کی کوشش کی ہے،طالبان کے مختلف گروہوں کی جو بات ہو رہی ہے یہ گروہ بھی ہمارے دشمنوں نے ہی ہمارے سامنے کھڑے کئے ہیں،یقینا ان سب سے مذاکرات ہو سکتے ہیں اور نہ ہی مکمل امن ممکن ہے۔

اس سچ کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ مکمل امن کے لئے موجودہ حکومت کو چومکھی جنگ لڑنا ہو گی، کہیں مذاکرات اور کہیں دہشت گردی کے خلاف ہتھیار اٹھانا ہو گا، اس جنگ کو جیتنے کے لئے پوری قوم کو ساتھ ملانا ہو گا، ہمیں اپنے نوجوانوں، فنکاروں ،ادیبوں ،شاعروں ، موسیقاروں، گلوکاروں کو ملکی سفیر بنا کر ساری دنیا میں پھیلانا ہو گا، ہمیں اپنے صنعت کاروں اور دیگر کاروباری شخصیات سے بھی یہی کا م لینا ہو گا ،ہمیں اپنی فلم انڈسٹری کو حکومتی سطح پر ”بوم“ دینا ہو گا، کلچر کو فروغ دینا ہو گا، اپنی روایات کو پھر سے نئی روح بخشنی ہو گی، اپنے میلوں ٹھیلوں کو آباد کرنا ہو گا، حکومتی سطح پر ایسے ایونٹس کو فروغ دینا ہو گا جو اس دھرتی کی پہچان ہیں ،صوفیاءکے اس کلام کو فروغ دینا ہو گا، جو انہوں نے امن کے لئے کہا۔

آج ہماری نوجوان نسل انٹرنیٹ کو بے تحاشا استعمال کر رہی ہے ،کیا ہم اتنا بھی نہیں کر سکتے کہ اپنے کلچر کو اُجاگر کرنے کے لئے چند ایسی ویب سائٹس بنائیں، جن سے ہمارے نوجوانوں کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کے لوگ بھی استعفادہ کریں؟

یقینا غربت، مہنگائی، طبقات کی درجہ بندی، مہنگی تعلیم، صحت کی مہنگی سہولیات اور تفریخ کی خاطر کواہ سہولیات کا نہ ہونا ہماری نئی نسل کو وطن ِ عزیز سے متنفر کر رہی ہیں ،کیا ہم اتنا بھی نہیں کر سکتے کہ اپنی ان برائیوں اور خرابیوں کو دور کریں ، دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ اپنے ملک میں موجود صحت و تعلیم کے شعبوں پر قابض مافیا سے بھی ایک جنگ کریں، انہیں راہ راست پر لائیں، کوئی شک نہیں کہ غربت و مہنگائی نے شہروں اور دیہات کی سطح پر ہمیں ”تھڑا کلچر“ سے دور کر دیا ہے،جب لوگ تھڑوں اور بیٹھکوں کو آباد رکھے ہوئے تھے تب اپنے دُکھ درد کا علاج بھی ان تھڑوں اور بیٹھکوں پر ایک دوسرے سے صلاح مشورے کے ساتھ ڈھونڈ لیتے تھے،مگر آج ہم ایک دوسرے سے جدا اور الگ ہوتے جا رہے ہیں،ایک دوسرے کے احساس سے عاری ہوتے جا رہے ہیں ، یقینا ہمیں اپنی انہی رویات کی طرف لوٹ کر آنا ہو گا،جو ہمیں امن، محبت،بھائی چارے اور ایک دوسرے کے احساس کا سبق دیتی تھیں۔

کون نہیں جانتا کہ ہالی اور بالی وڈ والوں نے اپنی فلم کے ذریعے دنیا میں اپنے کلچر کو پروموٹ کیا ہے، لیکن بدقسمتی سے ہم نے اپنی فلم انڈسٹری اور ٹی وی کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا، نتیجہ ہماری اخلاقی پستی اور کلچر سے دوری کے طور نکلا۔

آیئے !ابھی بھی وقت ہے،ہم جاتے وقت کو روک لیں، اپنے ماضی کی طرف پلٹ جا ئیں،اپنی سچی پکی اور اعلیٰ روایات کو پھر سے اپنا لیں ، ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیں ،انہی تھڑوں ،بیٹھکوں اور چوپالوں کا رخ کریں، جہاں امن کے گیت گائے جاتے ہیں،جہاں ایک دوسرے کے مسائل کو قریب سے جانا اور سلجھایا جاتا ہے، آیئے! اس موسیقی کی طرف لوٹ جائیں، جس میں ہمارے صوفیا کا وہ کلام گایا گیا ہے،جو انسان کو انسانیت سکھاتا ہے،آیئے !وہی گیت گائیں جن میں بہاروں کی خوشبو کے ساتھ ساتھ طوطا مینا کی کہانی دہرائی جاتی ہے ،یقینا دہشت زدہ ماحول میں طوطا مینا کی کہانی کا ذکر عجیب لگتا ہے لیکن یقین مانیئے ! یہ کہانیاں اپنا اثر ضرور چھوڑتی ہیں،ان کا رنگ دھیما ہو سکتا ہے، لیکن کچا ہر گز نہیں،آج نہیں تو کل یہ ہمیں اپنے حصار میں پھر سے ضرور لیں گی اور ہمارے نوجوان خودکش جیکٹوں،بموں ، بندوقوں کی باتیں بھول کر رانجھے کی طرح ونجلی پکڑنے کی طرف مائل ہوں گے۔

ہم جانتے ہیں کہ پاکستان جیسے ملک پر حکومت کرنا پھولوں کی سیج نہیں ،اچھا خاصا موسیقی کا دلدادہ بھی اتنے مسائل میں اپنا سارا ذوق شوق بھول جاتا ہے، پھر بھی ہم سمجھتے ہیں کہ میاںمحمد نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف سمیت اس حکومت میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو کلچر کے ہی دلدادہ انہیں، بلکہ موسیقی کے بہت حد تک شوقین ہیں ،ان کے لئے اور ان کے دوستوں کے لئے کسی بھی صورت ناممکن نہیں کہ وہ اس کلچر کا تحفہ قوم کو دیں، جس میں انسانی بقاءہے،جس میں محبت، امن، بھائی چارے اور رب سے سچی لگن کا درس ہے۔

مزید :

کالم -