کراچی کو کس کی نظر کھا گئی ؟

کراچی کو کس کی نظر کھا گئی ؟

  

یوں تو پاکستان کے سارے ہی شہر اچھے ہیں اور اپنی جدا جدا خوبیوں سے دل کو بھاتے ہیں، مگر کراچی کی بات الگ ہے، یہ چھوٹا پاکستان ہے، بلکہ اجازت دیجئے تو کہہ سکتا ہوں کہ پورا برصغیر ہے۔ ہرجگہ کا پکوان، ہرجگہ کی بولی ٹھولی، ہرجگہ کا پہناوا آپ کو مل جائے گا۔ لندن کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہاں 70سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں، میرا خیال ہے کہ کراچی بھی کچھ کم نہیں، اور یہ کہ یہاں تو 95فیصد سب مسلمان بھائی بہن ہیں۔ 1957ءکے مارچ میں جب مَیں پہلی بار کراچی آیا۔ سٹی سٹیشن سے جب باہر نکلا رات ہوچکی تھی، قریبی مسجد سے عشاءکی اذان ہورہی تھی، اس وقت وہاں بڑا سکون تھا، اور اس ماحول میں اتنی خوبصورت آواز میں اللہ کی کبریائی کا اعلان ہورہا تھا ، مجھے کراچی بھاگیا ، اور مَیں کراچی کا ہوکر رہ گیا۔ پھر کافی عرصے تک صدر کے کیفے جارج اور ڈبلن کافی ہاﺅس گئے بغیر کراچی کا مزہ نہیں آتا تھا، سکون اور اطمینان کے دن تھے، ہم پیدل اور بسوں پر چلنے والوں کو کبھی کبھار گاڑی والے لفٹ بھی دے دیا کرتے تھے (ہائے اب تو یہ کام اغوا کرنے والے کرتے ہیں )۔

اس زمانے میں مشرقی پاکستان کے لوگ، یعنی بنگلہ بولنے والے بھی کراچی آتے تو اس کے عاشق ہوجاتے، یہاں نہ صرف یہ کہ ان کو محبت ملی، بنگلہ کے بورڈ بھی نظر آتے اور بنگالی مٹھائیوں کی دکانیں بھی۔ بڑے شہر اپنی گونا گوں خوبیوں کی وجہ سے ہی لوگوں کو پسند آتے ہیں، روزگار کے مواقع بھی زیادہ ہوتے ہیں اور بڑھتے اور پھلتے ہوئے شہری انسان کو اپنے لئے ایک چھت تعمیر کرنے کے مواقع بھی مل جاتے ہیں۔ ابھی چند سال پہلے تک ہم چائے پینے Ampys، کھیر کھانے سعید منزل کی گلی ، پان کھانے پی آئی ڈی سی اورجوس پینے آغا کے یہاں جاتے تھے اور کبابوں کے لئے برنس روڈ۔

اب تو شہر بہت پھیل گیا ہے، آبادی کروڑ سے زیادہ یعنی لندن سے بھی زیادہ ہے، مگر اس شہر کو اس کا برا چاہنے والوں کی بری نظر لگ گئی اور اب یہاں، مشاعروں، ادبی نشستوں اور ہفتہ وار علمی مجلسیں،جو مرحوم خالد اسحاق کے یہاں ہواکرتی تھیں اور مرحوم سلیم احمد کے ہاں ادبی بیٹھکیں۔ ان سبھوں کے علاوہ شہر میں امن تھا، سکون تھا، مڈل کلاس کی خواتین اطمینان سے بسوں پر سفر کرتی تھیں اور صدر، بوہری بازار، جامع کلاتھ وغیرہ سے شاپنگ کرکے خوش ہوا کرتی تھیں۔ بلاشبہ اب بازار بھی بہت کھل گئے ہیں بلکہ پورا شہر بازار ہے، ہرجگہ طرح طرح کے دیسی اور بین الاقوامی پکوان بھی مل رہے ہیں، مگر کراچی بالکل تبدیل ہوگیا۔ یہاں بچے جب تک سکول، کالج سے واپس نہ آئیں، ماں باپ کا دل دھڑکتا رہتا ہے، بسوں کے نام پر جو ویگنیں چلتی ہیں، ان کا براحال ہے، موٹررکشا بھی نئے قسم کے آگئے ہیں، اور بظاہر شہر پُررونق نظر آتا ہے، مگر کون جانتا ہے کہ آئندہ لمحے تڑتڑ گولیاں چلنے لگیں گی اور انسانی خون ہی خون نظر آنے لگے گا، نہ جانے کون کس کو اغوا کرکے لے جارہا ہے اور نہ جانے کتنے لوگوں کے بٹوے اور موبائل چوری ہوگئے۔

یہ اس کراچی میں ہورہا ہے جو پاکستان کا پہلا دارالخلافہ تھا، جہاں بابائے قوم اور ان کے معتمد ساتھی مدفون ہیں اور جہاں کی سینکڑوں مساجد سے حئی الصلوٰةاور حئی علی الفلاح کی آوازوں سے سارا شہر گونج رہا ہوتا ہے۔یہاں اب لاشوں پر لاشیں گر رہی ہیں، خاندان اجڑ رہے ہیں، معصوم بچے قتل کئے جارہے ہیں، ہروقت ایک خوف ودہشت کا سماں ہے۔ کراچی عروس البلاد تجھ کو غیروں کی نہیں اپنے لوگوں کی نظر لگ گئی اور جب تک ان کی نظروں کا فتور اور ٹیڑھ دور نہیں ہوتا، تیرا حسن وجمال واپس نہیں آئے گا۔

مزید :

کالم -