طالبان کا امتحان؟

طالبان کا امتحان؟
طالبان کا امتحان؟
کیپشن:   salman

  

آنے والے دنوں میں واضح ہو جائے گا طالبان جنگ کی دشوار گھاٹی میں قدم رکھتے ہیں یا مضبوط پاکستان کی خاطر صلح صفائی کا راستہ چنتے ہیں۔مذاکرات کے لئے ایسا موزوں ماحول شاید ہی کبھی دوبارہ نصیب ہو سکے۔ ابھی تک حالات طالبان کے حق میں ہیں۔ پاکستانی عوام، میڈیا کی بھرپور خواہش ہے ملک میں امن قائم ہو۔ بدامنی فریقین کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگی۔ اگر طالبان اپنے موقف میں نمودار ہوتی سختی قدرے کم کرسکیں تو انہیں ایسا شاندار موقع میسر آچکا ہے جو ان کے ماضی کے تشخص کو یکسر تبدیل کر سکتا ہے۔ مذاکرات میں حتمی موقف اپنانے سے قبل طالبان کو ٹھنڈے دماغ سے غور کرنا چاہئے عام پاکستانی اور بالخصوص بیرونی دنیا ان کے بارے میں کیا رائے رکھتی ہے؟۔ اگر وہ اس رائے کو بھانپنے میں کامیاب ہو جائیں تو یقینا ایسافیصلہ کریں گے جو ان کی آنے والی نسلوں کے لئے انتہائی سازگار ثابت ہوگا۔ طالبان نام بنا چکے ہیں۔ ان کی قوت کو تسلیم بھی کیا جا رہا ہے۔ دنیا کے اہم دارالحکومتوں اور معاشی مراکز میں قبائلی علاقوں کے بیش قیمت ذخائر کو نکالنے کے لئے پلان بھی بن چکے ہیں۔ اب سوال یہ ابھرتا ہے کیا طالبان ماضی کی جدوجہد کے عوض اپنے علاقوں کو برق رفتار ترقی سے روشناس کروا سکتے ہیں؟۔ لاکھوں قبائلی طالبان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ درست فیصلہ پوری قبائلی پٹی کو اللہ تعالی کی نعمتوں سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کرسکتا ہے جبکہ غلط راہ اس رائے کو ہمیشہ کے لئے پختہ کر دے گی طالبان ”وقت اور معاشرت“ کے تقاضوں کو بھانپنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔

معاملات آپریشن کی طرف گئے تو سب سے زیادہ نقصان طالبان کا ہی ہوگا۔ لفظ ”حکومت“ کی صدیوں پرانی تعریف میں یہ بھی درج ہے ”غیر حکومتی عناصرکوخواہ کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں بالآ خر حکومت وقت کے سامنے جھکنا ہی پڑتا ہے“۔ ایک دفعہ جھکاﺅ کا عمل شروع ہو جائے تو قوت اور ساکھ دم توڑ جاتی ہے۔ اپنی ساکھ کے حوالے سے طالبان کتنے محتاط اور فکرمند ہیں؟۔ چند سال قبل تک طالبان دونوں چیزوں میں مضبوط تھے۔لیکن پھر دیکھتے ہی دیکھتے درجنوں گروپوں کی صورت ان کی قوت بھی بکھری اور ساکھ داﺅ پر لگی۔ ہزاروں نہیں لاکھوں کی تعداد میں ایسے پاکستانی جو کچھ عرصہ پیشتر طالبان بارے پرجوش تھے آج خاموش ہو چکے ہیں۔پاکستان کے شہروں، قصبوں میں طالبان کے لئے سرایت کرتا جذبہ ہمدردی دن بدن گھٹتا جا رہا ہے۔ موجودہ حالات میں اگر تو طالبان نے جنگ کی راہ چنی تو پھر عام لوگ اور بیرونی دنیا یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوگی طالبان اکیسویں صدی کے انسان کو درپیش بھوک، افلاس، بیماری اور عدم تحفظ جیسے چیلنجز سمجھنے سے قاصر ہیں۔بیرون ممالک بسنے والی کثیر تعداد اب بھی یہ سمجھتی ہے طالبان ایسے افراد کا گروپ ہے جو بمشکل مسکراتا ہے، جو اپنے علاقوں سے باہر بسنے والوں کو سپاٹ چہروں سے ملتا ہے، جو کنٹرولڈ معاشرت کا قائل، ماضی کے ہیروز کی داستانوں کا اسیر، خواتین کے رہن سہن میں 3o ءکی دہائی کی جھلک کا آرزومند، کامن ہیومن کلچر سے بیزار، reunification اور مدر کئیر لوریوں میں شب بسری کا خواہشمند ہے۔

دوسری جانب طالبان اپنے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟۔ ان کی اکثریت یہ خیال کرتی ہے پاکستان ،امریکہ کے ڈبل سٹینڈرڈز نے انہیں زندگی کی رعنائیوں سے محروم کیا۔ حالات کے جبر نے انہیں جینے کے نئے طریقوں سے روشناس کروایا۔ عالمی تنہائی اور وقت کی چال نے انہیں teasing & destruction پالیسی اختیار کرنے پر مجبور کیا۔ اب اگر وہ امریکہ کو آنکھیں دکھائیں، پاکستان کو ون ٹو ون مذاکرات پر مجبور کریں تو یہ ان کی فتح ہے۔ طالبان سمجھتے ہیں مغرب ایک پلاننگ کے تحت ان کے سماجی رکھ رکھاﺅ کو سٹالنسٹ سوسائٹی کا نام دیتا ہے۔ ان کی معاشی سرگرمیوں پر بلیک اکانومی کی پھبتیاں کسی جاتی ہیں۔ انہیں برا ثابت کرنے کی خاطر جان بوجھ کو ایسے ایول گروپس کی صف میں کھڑا کیا جاتا ہے جو اغواءبرائے تاوان، غیر قانونی ڈرگز، جعلی کرنسی، نقلی اسٹمپس اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں۔ ان کا امیج مسخ کرنے کے لئے انہیں یک جنبش قلم جاپانی یاکوزہ، رشین ڈرگسٹس، آئرش ٹیرارسٹس اور افریقن پوچرز کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔ طالبان کے کئی گروپ خود کو بہت بڑی عالمگیر حقیقت سمجھتے ہیں۔ ایسی حقیقت جو اٹھاون برس قبل نیوکلئیر امریکہ کی صورت سامنے آئی۔ جو چونسٹھ میں چائنہ کی شکل ظہور پذیر ہوئی اور جس نے اسی کی دہائی میں اسرائیل کو خطے میں بالادستی دلوائی۔طالبان خیال کرتے ہیں عالمی پابندیاں انہیں مزید مضبوط بنائیں گی۔ ان کی نظر میں کمزور افغاستان طاقتور مغرب کے لئے ڈراﺅنا خواب بن چکا ہے۔ نیٹو کی بے حسی، کرزئی کا التجائیہ پن، چالیس ممالک کے آپریشنل فوجیوں میں پھیلی سراسیمگی، opium کی ریکارڈ توڑ پیداوار، پانچ پاﺅنڈ فی گھنٹہ combat zone میں لڑنے والے برطانوی فوجیوں کی ہلاکتوں میں اضافہ اور افغانستان سے جان چھڑاتا امریکہ، یہ سب ان کے عزم کا مرہون منت ہے۔

کیا طالبان کو پاکستانی حکومت سے مذاکرات کرتے وقت درحقیقت ان عوامل کو اپنی قوت سمجھنا چاہئے؟۔ یہ بڑا ہی اہم نکتہ ہے۔ اگر تو طالبان نے خطے میں نمودار ہوتی بے چینی کو اپنا کریڈٹ گردانا تو اندیشہ ہے وہ مات کھا جائیں گے۔ طالبان ہوں نہ ہوں۔ القاعدہ جیسی تنظیمیں کاروائیاں کریں نہ کریں۔ سماج خود کو ہر سو ڈیڑھ سو سال بعد اپ لفٹ کرنے کے لئے اسی طرح بے چینی کا اظہار کرتے ہیں۔ کبھی بہتر انسانیت کے لئے پریشر گروپس حکومت کو مجبور کرتے ہیں، کبھی پیس آرگنائیزیشنز میدان میں نکلتی ہیں اور کبھی سری لنکن ٹائیگرز، تھائی عسکریت پسند، کرد جنگجو، کشمیری مجاہدین حقوق کے لئے بندوق اٹھاتے ہیں۔ لیکن ذرا رکئے۔۔۔۔۔پہلے یہ فیصلہ تو کیجئے کیا طالبان مظلوموں کی مانند حقوق مانگنے کے قائل ہیں یا بزور طاقت حکومت کرنا چاہتے ہیں؟۔ طالبان کو یہ نکتہ پوری جزئیات سے بیان کرنا ہوگاکہ وہ آخر کار چاہتے کیا ہیں؟۔ علیحدہ وطن، مخصوص علاقوں تک عملداری، پورے پاکستان پر حکمرانی یا دنیا فتح کرنے کی تگ و دو؟۔ ابھی تک طالبان کی طرف سے بظاہر علیحدہ وطن جیسا کوئی مطالبہ سامنے نہیں آیا۔ مخصوص علاقوں پر عملداری کی خواہش بھی دبی چنگاری کی مانند ہے۔ پاکستان پر حکمرانی بارے بھی ان میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے اور دنیا کو فتح کرنے کی خواہش تو محض طفلانہ پن سے ہی تعبیر کی جا سکتی ہے۔ ہاں البتہ شریعت کا نفاذ ایسا مطالبہ ہے جسے ان کی اکثریت پوری شدومد سے دہرا رہی ہے۔ کیا طالبان بچگانہ سوچ کے حامل ہیں یا انتہائی کائیاں؟۔ دین کا تھوڑا بہت فہم رکھنے والا کوئی بھی فرد بخوبی جانتا ہے پاکستان میں بڑی زبردست اور عمدہ مذہبی آزادی حاصل ہے۔ پاکستان کی چھیاسٹھ سالہ تاریخ بتاتی ہے یہاں مسالک نے کبھی بھی بزور قوت دوسروں پر شریعت نافذ کرنے کی کوشش نہیںکی۔ درحقیقت پاکستان میں شریعت اور سماجی طرز عمل ایک دوسرے میں رنگے جا چکے ہیں۔ لوگوں نے شریعت کے بہت سارے احکامات کو دل و جان سے قبول کرتے ہوئے روزمرہ زندگی کا حصہ بنا لیا ہے۔ اب اگر ان حالات میں طالبان شریعت کو اپنے نکتہ نظر یا بودوباش کے مطابق لاگو کرنے کی خواہش کریں گے تو عمرانیات کے مطابق یہ ناممکنات میں شامل ہوگا۔ اس نکتے کا طالبان فہم بھی رکھتے ہیں۔ یہیں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے اگر وہ اس نکتے کو سمجھتے ہیں تو کیونکر ایسے امر پر اصرار کر رہے ہیں جو معاملات کو بند گلی میںپہنچا دے گا۔۔۔۔۔ کیا طالبان جنگ کے خواہشمند ہیں؟۔

طالبان اس نکتے پر ہزار بار سوچیں جنگ کی صورت ان کی فلاسفی، قوت اور ساکھ سرے سے تباہ ہو کر رہ جائے گی۔ جو نام انہوں نے پیدا کیا وہ بارود کے دھوئیں کی نذر ہو جائے گا۔ جبکہ جنگ سے پہلوتہی کی بدولت وہ ایک ایسے قبائلی تمدن کی نئی بنیادیں رکھ سکتے ہیں جہاں قلیل عرصے میں شریعت کے ہی تقاضوں کے مطابق جلاوطن ہوئے یا ہجرت کئے بغیر باعزت زندگی ممکن ہو سکے گی۔اگر طالبان اسلام کے سچے سپاہی، پاکستان کے وفادار ہیں تو انہیں حکومت اور اداروں کے لئے خوف کا نشان بننے کی بجائے مضبوط کرنا ہوگا۔ پاکستان پہلے ہی بہت نیچے جا چکا ہے۔ کیا طالبان چاہیں گے پاکستان کو مزید کمزور کرکے عالمی طاقتوں کے لئے تر نوالہ بنا دیا جائے۔ بڑی سطح پر کرپشن تھم رہی ہے۔ ٹھیکوں، پرمٹوں کی بندر بانٹ چیک اینڈ بیلنس سسٹم کی زد میں آ رہی ہے۔ بدعنوانی میں لتھڑے محکموں کا زرد کلچر آہستہ آہستہ تبدیلی کی جانب چل پڑا ہے۔ ریلوے جیسے ادارے پر عوام کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ گاڑیوں کی ٹائمنگز اچھی ہونے کی بناءپر پلیٹ فارمز پر ہجوم بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ واپڈا، پی آئی اے، اسٹیل مل سمیت سفید ہاتھیوں کی خرابیاں پن پوائنٹ ہو چکی ہیں۔ فوج اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کا صفحہ پھاڑ چکی، عدلیہ عوامی ریلیف پر کمربند ہوگئی۔ ایک بہتر مسلم سوسائٹی کی طرف سفر شروع ہو چکا ہے۔ اب طالبان کا امتحان ہوگا وہ اچھی اسلامی سوسائٹی کی خاطر پاکستانی اداروں اور حکومتی رٹ کو مضبوط کرتے ہیں یا جنگ کی اس سیڑھی پر قدم رکھتے ہیں جو بالآخر آگ کا دہکتا الاﺅ بن جائے گی۔

مزید :

کالم -