افغانستان میں موجود رہنے کی امریکی خواہش

افغانستان میں موجود رہنے کی امریکی خواہش

  

امریکی کانگرس کے رکن جم مورین نے کہا ہے کہ افغانستان کو امریکہ کے ساتھ دفاعی معاہدے پر جلد دستخط کر دینے چاہئیں۔ دستخط نہ ہونے کی صورت میں امریکہ اس سال کے اواخر تک افغانستان سے اپنی تمام افواج نکال لے گا، جس سے افغانستان اور پاکستان پر بہت منفی اثرات مرتب ہوں گے۔امریکی افواج چلے جانے سے طالبان کو کابل پر قبضہ کرنے کا موقع مل سکتا ہے یا پھر افغا نستان کی پشتو بولنے والی آبادی پختونستان کے نام سے اپنا الگ ملک قائم کر سکتی ہے، جو یقینی طور پر پاکستان کے لئے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ جم مورین ڈیفنس کمیٹی کے ساتھ پاکستان اور افغانستان کا دو ہفتے کا دورہ کرنے والے ہیں۔ یہ کمیٹی افغانستان کے لئے فنڈز منظور کرتی ہے اور حالیہ بجٹ میں اس نے افغانستان کے لئے 85ارب ڈالر مختص کئے ہیں اس رقم کا اجرا معاہدے پر دستخط نہ ہونے سے خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ فرانسیسی میڈیا نے بھی کہا ہے کہ افغان صدر حامد کرزئی کی طرف سے سیکیورٹی معاہدے پر دستخط نہ کرنے کا فیصلہ افغانستان اور امریکہ دونوں کو کسی بڑی مشکل سے دوچار کر سکتا ہے۔ افعان صدرکرزئی امریکہ سے طالبان کے خاتمے کے معاہدے کے تحت عالمی حمایت کے بعد صدر منتخب ہوئے تھے، تاہم اب وہ ایسا نہ کرکے اپنے آئندہ صدارتی امیدوار بھائی کے لئے مشکل کھڑی کر رہے ہیں۔ معاہدے پر دستخط نہ ہونے کی صورت میں امریکہ کو خطرہ ہے کہ طالبان کابل پر حملہ کر سکتے ہیں۔ فرانسیسی ادارے کی رپورٹ کے مطابق افغان جنگ کے آغاز کے وقت یہ محسوس ہوتا تھا کہ امریکہ آسانی سے طالبان کا خاتمہ کرکے وہاں ایک جمہوری حکومت کے قیام کا ہدف حاصل کر لے گا، مگر اس جنگ کے 12سال گزر جانے کے باوجود اب بھی افغانستان سے مغربی افواج کے انخلاکے بعد وہاں کی سلامتی اور صورت حال خود میں بہت سے سوالات لئے ہوئے ہے۔امریکہ اور اتحادیوں کے انتہائی قریبی سمجھے جانے والے کرزئی امریکہ کے ساتھ طے کئے جانے والے باہمی سیکیورٹی معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کر چکے ہیں، جس کے تحت اس سال کے بعد بھی 10ہزار امریکی فوجی افغانستان میں قیام کر سکتے ہیں۔

امریکہ اب تک طالبان سے مذاکرات کی ضرورت کا اظہار کرتا رہا ہے، تاکہ امریکی اور یورپی افواج کی افغانستان سے واپسی کے بعد وہاں ایک وسیع بنیاد جمہوری حکومت کا قیام ممکن ہو سکے، طالبان سے مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ختم کردیئے گئے۔ ان مذاکرات میں پاکستان کے اہم کردار کا ذکر تھا جو کہیں نظر نہیں آیا۔ نہ صرف یہ کہ امریکہ کے جانے سے پہلے اس کا افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ ابھی تک شروع نہیں ہوا، بلکہ پاکستانی طالبان سے ہمارے مذاکرات کی راہ میں بھی امریکی ڈرون حملے رکاوٹ ڈالتے رہے، جو طالبان لیڈر حکومت پاکستان سے مذاکرات کے لئے تیار ہوتے رہے ان کو ختم کیا جاتا رہا۔ امریکہ میں11ستمبر 2002ءکے دہشت گرد حملوں کے بعد امریکی حکومت اور سیکیورٹی اداروں نے کسی انتظار کے بغیر افغانستان پر چڑھائی کر دی، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ یہ پروگرام پہلے ہی سے طے تھا ،11ستمبر کے واقعات کو محض بہانہ بنایا گیا۔ افغانوں کی آزادی سے محبت اور انتقامی جبلت سے متعلق سب کچھ جانتے ہوئے بھی امریکیوں نے کچھ نہیں سمجھا اور افغانستان میں آ کر خونریزی کا بازار گرم کر دیا۔ اس خون کے چھینٹے پاکستان میں بھی گرتے رہے۔ پاکستان کے اندر دہشت گردی کے مسائل پیدا کر دیئے گئے۔پاکستان میں ہونے والی ایسی کارروائیوں سے ہمارا امن و امان تباہ ہوا اور معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ اب اگر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا مقصد افغانستان میں مزید خونریزی نہیں ہے، وہ امن قائم کر کے وہاں جمہوریت قائم کرنے کے خواہش مند ہیں تو اس کے لئے انہیں اپنی افواج کی واپسی ہی کا پروگرام بنانا چاہئے۔ اپنے ملک میں جو لوگ رہتے ہیں ان سے دوسروں کو ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ کسی کے طرز زندگی یا عقائد پر بھی کسی کو معترض ہونے کا حق نہیں ایک معاشرے کے لوگ باہم سمجھوتے سے جیسے بھی رہنا چاہتے ہیں یہ ان کا حق ہے کسی کو اس میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔اب تک امریکی یہ پوری طرح سمجھ چکے ہیں ، کہ حریت پسند افغانوں کے لئے نہ ڈالروں کی اہمیت ہے نہ انہیں مشکلات اور مسائل کی زندگی سے گریز ہے۔ ان کی اولین ترجیح غیر ملکیوں سے آزادی ہے۔ انہوں نے سُپرطاقت روس کا جبر بھی برداشت نہیں کیا ،انہوں نے روس کا غرور خاک میںملایا تو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے عزائم کو بھی ناکام بنا دیا ہے۔

امریکی جنرل اس بات سے پریشان رہے کہ وہ حامد کرزئی کی جس فوج کو تربیت اور اسلحہ فراہم کر رہے ہیں، خود انہی کی طرف سے بھی اکثر اوقات امریکیوں پر حملہ کر دیا جاتا رہا ہے۔ دراصل افغانستان کے لوگ غیر ملکی غاصبوں کے خلاف غم و غصے سے بھرے ہوئے ہیں ۔ امریکہ اور اتحادیوں کے تعاون سے افغانستان میں حکومت قائم کرنے والے حامد کرزئی اگر اس وقت 10ہزار ا مریکی فوجیوں کو مزید وقت کے لئے افغانستان میں رکھنے کے معاہدے پر دستخط کرنے کو تیار نہیں، تو اتحادی اس بات کو باآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ اس طرح حامد کرزئی افغان عوام کی زیادہ تائید و حمایت حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ طالبان یا غیر طالبان، ہر کوئی غیر ملکی افواج کی اپنے ملک سے واپسی چاہتا ہے، اگر مغربی طاقتوں کو افغان حکومت میں طالبان کی شرکت پر بھی کچھ اعتراض نہیں تو پھر انہیں کرزئی کی موجودہ پالیسی کے پیچھے طالبان کی آشیر باد کو پہنچاننا اور اسے زمینی حقائق کا تقاضا سمجھتے ہوئے قبول کرنا ہو گا، جہاں تک افغانستان کے پشتو زبان بولنے والے لوگوں کے علحدہ ملک حاصل کر نے کا تعلق ہے، اس حقیقت سے کوئی آنکھیں بند نہیں کر سکتا کہ ہمارے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاوہ پشتو بولنے والے لوگ ملک میں ہر کہیں موجود ہیں اور ان کی تعداد افغانستان کے پشتو بولنے والوں سے کہیں زیادہ ہے۔ اسی طرح افغانستان کے اندر طالبان اب افغان عوام کے لئے کسی طرح کے خوف اور دہشت کا باعث نہیں۔ غیر ملکیوں کے چلے جانے کے بعد وہ تو ان لوگوں سے بھی درگزر کا رویہ اختیار کرنے کو تیار ہیں،جنہوں نے غیر ملکی طاقتوں کا آلہ کار بن کر افغانستان پر 12سال تک عذاب طاری کئے رکھا۔ ان کے آزادی حاصل کرنے اور اسلامی نظام کے پروگرام سے بھی افغانستان کے عوام کو اختلاف نہیں۔

 امریکی اور اتحادی افواج کے افغانستان سے نکل جانے کے بعد خطرہ افغانستان یا پاکستان کے لئے نہیں۔ معاہدے پر دستخط کرنے میں تاخیر سے حامد کرزئی کے بھائی اور ان کے حامی آئندہ انتخابات میں بہتر پوزیشن حاصل کر سکتے ہیں اور اس پر دستخطوں سے انکار پر انہیں معاشرے میں کچھ عزت اور وقار بھی حاصل ہو سکتا ہے۔ افعانستان کے طالبان اگر سمجھیں تو افغانستان کے معاملات کی بہتری اور افغانستان کی حقیقی آزادی کا انحصار پاکستان، طالبان اور حامد کرزئی گروپ کے اتفاق و اتحاد پر ہے ۔ قوم کی کڑی نظریں اپنی قیادت پر رہنی چاہئیں۔ اس موقعہ پر خطے کے مسلمانوں نے ہوش کا دامن نہ تھاما تو وہ عالم اسلام کی قیادت کے اہم منصب سے محروم رہیں گے۔ دشمن خطے کو مسلسل خونریزی کے سپرد کر کے ہماری بربادی کا سامان کرنے میں کامیاب رہیں گے، جن کے پیش نظر اپنے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہو وہ اپنے مال و دولت سے ہمارا بھلا نہیں چاہیں گے، ہمیں اپنے پاﺅں پر کھڑے ہونے اور سادگی اختیار کر کے سب سے پہلے اپنے ایمان پختہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک دوسرے کے لئے ایثار اور بھلائی کے فزوں تر جذبات کے بغیر ہم اپنی مدد کے لئے غیروں کے ہاتھوں کی طرف دیکھتے رہے تو اپنے اس لالچ اور بری نیت سے ہم خود اپنی بربادی کا سامان کرتے رہیں گے۔ آزادی و خود مختاری کا خود انحصاری، سادگی اور کفایت ، صبر اور ایثار سے گہر ا تعلق ہے۔ اس تعلق کو نہ سمجھا گیا، تو ملت اسلامیہ مصائب سے باہر آ سکتی ہے نہ اپنے استحکام اور حقیقی آزادی کا تصور کر سکتی ہے۔ بے سروسامانی کی حالت میں روس اور اس کے بعد امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کی سامراجی طاقتوں کو شکست دینے والے افغانوں کی آج تک کی کامیابیوں سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے۔ لالچ ہمارے لئے بہت بڑا وبال بن کر رہ جاتا ہے۔

ہم اپنی تاریخ کے ایسے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں ہر کسی کو پھونک پھونک کر قدم رکھنے اور ایک دوسرے کی ہر حرکت پر کڑ ی نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ عام لوگوں کو بھی معاملات کا صحیح شعور دینے کی گھڑی آن پہنچی ہے۔ ملٹی نیشنل کارپوریشنز کے اشتہاری بزنس کے دباﺅ میں مغربی سامراج کے مقاصد کے لئے کام کرنے والے میڈیا کی سمت بھی درست کرنے کی ضرورت ہے کہ اس کے بغیر ہم اپنے لوگوں کو اپنے ہی معاملات کے متعلق صحیح معلومات بہم پہنچانے میں بھی ناکام ہیں۔ افغانستان کے طالبان کے ساتھ پاکستان کے طالبان کی سمت بھی درست ہو رہی ہے۔ پاکستان کی حقیقی قیادت بیدار اور فعال ہو جائے تو پھر ہمارے خطے کو سامراجی تسلط و غلبہ سے آزاد کرانے میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہ جاتی، لیکن اگر ایسا نہ ہو سکا تو پھر ہمارے عوام کو گمراہ کرنے اور ایک دوسرے سے لڑانے والے ہوشیار اور دشمن کے تربیت یافتہ لوگ اپنے مقاصد میں کامیاب رہیں گے اور ہم ایک دوسرے کے گلے کاٹتے ہوئے معاملات کی پیچیدگیوں میں پھنسے عالم سراسیمگی کا شکار رہیں گے۔ اب سب کے بیدار ہوجانے کا وقت ہے۔ ایک دوسرے کو گرانے کا نہیں سنبھلنے اور اردگرد والوں کو سنبھالنے کا وقت ہے۔ ہمیں جان لینا چاہئے کہ پاکستان خطے کی ایک بہت بڑی طاقت بننے جا رہا ہے اور اس کی تکلیف بہت سی طاقتوں کو بہت زیادہ ہے۔

مزید :

اداریہ -