پروفیسر درنجف زیبی کی نئی تصنیف” فہم سخن....عہد بہ عہد“ کی تقریب رونمائی

پروفیسر درنجف زیبی کی نئی تصنیف” فہم سخن....عہد بہ عہد“ کی تقریب رونمائی

  

لاہور(وقائع نگار)پروفیسر درنجف زیبی کی نئی تصنیف” فہم سخن....عہد بہ عہد“ کی تقریب رونمائی کا اہتمام حلقہ ارباب سخن نے ایک مقامی ہوٹل میں کیا گیا۔ نظامت کے فرائض سر انجام دیتے ہوئے شجاعت ہاشمی نے کہا کہ سیدہ در نجف کی زندگی کا بڑا حصہ اردو ادب پڑھنے اور پڑھانے میں گزرا ہے اور ان کے مطالعہ کا نچوڑ،،فہم سخن،،میں موجود ہے صدارتی کلمات میں ڈاکٹر خورشید رضوی نے کہا کہ یہ کتاب ان کی ادبی بصیرت اور محنت کی عکاس ہے اردو کے سات مشہور شعراءکو انہوں نے خاص اپنی نظر سے دیکھا اور اُن کی شاعری سے اپنی پسند پر مبنی انتخاب کیا ہے اس اعتبار سے اس تاثراتی تنقید میں ایک طرح کی تازگی در آئی ہے ڈاکٹر مبشر حسن نے کہاکہ پرانے شہر لاہور سے واپڈا ٹاﺅن میں حلقہ ارباب سخن2007 ءسے قائم کرنا اور جاری رکھنا زیبی کی ادب دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ حسنین جمیل نے کہا کہ اس کتاب میں کلاسیکی شعرا اورساحر لدھیانوی کے فن پر جو تنقیدی مضامین ہیں وہ عام فہم نہیں۔ زاہد شمسی نے کہا کہ اس کتاب میں میر ، انشائ،ذوق ،غالب ،داغ ،اقبال اور ساحر کی شاعری پر سیر حاصل مضامین شامل ہیں اقبال راہی اور فراست بخاری نے منظوم تاثرات پیش کئے حسین مجروح نے کہا کہ ”فہم سخن“ میںبڑوں کے بڑے کام پر ہاتھ ڈالتے ہوئے پروفیسر درنجف زیبی کا قلم لڑکھڑایا ہے اور نہ ہی لہجے میں لکنت در آئی ہے بس ایک مخلصانہ اور طالب علمانہ بیانیہ ہے جو نیاز مندانہ جستجو میں لپٹا ہوا ہے کتاب کے محاسن پر آفتاب جاوید،ڈاکٹر عالم خان، امجد طفیل،ناصر بلوچ اور شاہد بخاری نے بھی اظہار خیال کیا۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -