حق ہمسائیگی کے بغیر معاشرہ نہ صرف ادھورابلکہ دُکھی بھی رہتا ہے‘ اسلم صدیقی

حق ہمسائیگی کے بغیر معاشرہ نہ صرف ادھورابلکہ دُکھی بھی رہتا ہے‘ اسلم صدیقی

  

لاہور (پ ر) ممتاز مذہبی سکالر مفسر قرآن پروفیسر ڈاکٹر علامہ محمد اسلم صدیقی نے درس ہدایت کی نشست میں ”ہمسائے کے حقوق“ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام نے ہمسائے کے حقوق پر بہت زور دیا ہے، حق ہمسائیگی کے بغیر معاشرہ نہ صرف ادھوراہے، بلکہ دُکھی بھی رہتا ہے، لیکن آج نفسا نفسی کے دور میں ہم اپنی زندگی صحرا پرگزار رہے ہیں جبکہ ہماری کوئی پناہ گاہ نہیں اور ہمسائیگی کا تصور تو ختم ہوتا جا رہا ہے انہوں نے مزید بتایا کہ چالیس گھروں تک ہمسائیگی ہے اگر کسی کا ہمسایہ بھوکا سوتا ہے تو ساتھ والے کے لئے بہت بڑا عذاب ہے اللہ تعالیٰ اور نبی پاک نے ہمسائے کے حقوق پر بہت زور دیا ہے اس کے متعلق بنیادی ہدایات دی گئی ہیں یہاں تک حکم ہے کہ اگر تمہارا ہمسایہ غیرمسلم ہے تب بھی اس کے گھر تحفے بھیجو دوسرا ہمسایہ وہ ہے جو مسلمان ہے ، تیسرا ہمسایہ وہ ہے وہ مسلمان بھی ہے اور آپ کا رشتہ دار بھی، اس کے بعد تین حق ہیں۔ ہمسائے کا بہت حق ہے، جبکہ سامنے والے ہمسائے کا بھی بڑا درجہ ہے غیر مسلم ہمسائے کے ساتھ ایسا حسن سلوک کرنا چاہئے ہو سکتا ہے کہ وہ آپ کے حسن اخلاق سے متاثر ہو کر مسلمان ہو جائے۔ مومن کا سب سے بڑا اثاثہ ایمان ہے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ آدمی مومن نہیں ہو سکتا جس کا ہمسایہ اس کے شر سے محفوظ نہیں۔ یہاں تک شریعت میں واضح ہے اگر تمہارا ہمسایہ بیمار ہے تو تم اس کی مزاج پرسی کرو، اس کا علاج کراﺅ۔ اگر تمہارے پاس علاج معالجہ کی سکت نہیں تو اپیل کے ذریعے اس کے علاج کا بندوبست کرو،

کیونکہ روز محشر ہمساﺅں کے ساتھ کئے گئے سلوک اور برتاﺅ کے متعلق بھی حساب ہو گا۔

 نشست کے اختتام پر خصوصی دُعا بھی کی گئی۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -