چل، سیلانی، چل

چل، سیلانی، چل
چل، سیلانی، چل
کیپشن:   dr

  

بہاولپور کے نزدیک ایک مشہور ریلوے سٹیشن ہے، سمہ سٹہ۔ ساڑھے تین سو سال قبل یہاں ایک بزرگ رہتے تھے، جن کا نام تھا خواجہ محکم الدین سیلانی۔ خواجہ سیلانی صوفی بھی تھے اور درویش بھی۔عابد ِ شب زندہ دار۔ جتنا عرصہ زندہ رہے خدمت کرتے رہے۔ کسی کو کھانا کھلاتے، کسی کی کفالت کرتے، کسی کو تعلیم دیتے ، کسی کے لئے دوا اور دارو کا بندوبست کرتے۔ خواجہ سیلانی تو دنیا سے چل بسے، لیکن جو شمعیں انہوں نے جلائیں وہ روشن رہیں اور پھرساڑھے تین سو سال گزرنے کے بعدایک روز کراچی کے ایک نوجوان نے فیصلہ کیا کہ وہ بھی خواجہ سیلانی کے نقش ِ قدم پر چلے گا ۔ وہ بھی اللہ کے بندوں کی خدمت کرے گا۔ بے لوث، بے غرض۔ بشیرقادری نامی اس نوجوان نے کچھ اور لوگوں کے ساتھ مل کے سیلانی ٹرسٹ کا آغاز کردیا۔ بشیر قادری کی نیک نیتی تھی یا خواجہ کے نام کی برکت کہ سیلانی ٹرسٹ چل نکلا۔ لوگ دیوانہ وار عطیات دینے لگے اور خیر کا سرچشمہ پھوٹنے لگا۔

آج پندرہ برس بعد یہ ٹرسٹ ایک معتبر نام بن چکا ہے ۔ ہر روز ایک لاکھ ضرورت مندوں کے لئے کھانا، پانچ ہزار خاندانوں کو ماہانہ وظیفہ، ایک لاکھ 20 ہزار بچوں کی تعلیم کا بندوبست، ہر ماہ 300 سے 400 غریب بچیوں کی شادی، روزگار کے لئے بلاسود رکشا سکیم، 11منزلہ عمارت کے ذریعے آسان اقساط پر رہائشی فلیٹ، اڑھائی لاکھ افراد کو صحت کی سہولت‘ معذور افراد کے لئے بیڈ،وہیل چیئر اور بیساکھیاں،مساجد کی تعمیر و مرمت اور زیبائش،ہزاروں کی تعداد میںپرانے اور نئے کپڑوں کی تقسیم ۔ یہ تو وہ ہے، جو ہر روز ہوتا ہے، لیکن بہت سے خواب ابھی تعبیر کے سفر میں ہیں۔ان میں ترسیل آب، شجر کاری،‘ یتیم خانہ، اولڈ ایج ہوم، بس سروس، مائیکروفنانس بنک اور یونیورسٹی کا قیام شامل ہیں۔

بشیر قادری کا کہنا ہے کہ رسول اللہ کی عمر مبارک 63سال تھی۔ ہم نے اسی نسبت سے رفاہ عامہ کے 63 شعبے بنا رکھے ہیں۔ تجہیز و تکفین، قیدیوں کی مدد، ہنگامی امداد، قدرتی آفات ، اجتماعی قربانی، کپڑوں کا بنک۔ نجانے کیا کیا کچھ۔کراچی کے مشہور علاقہ بہادر آباد کی ایک عمارت میں بیٹھا ہوا یہ شخص اخلاص اور سادگی کا مرقع ہے۔فرش نشینی کے باوجود فرش سے بلند رہتا ہے۔ لوگ اسے احترام سے حضرت صاحب کہتے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی اسے عزت مل گئی، جس نے خدمت کا راستہ اپنایا وہ سرخرو ہوا،جس نے فلاح کی کوشش کی اس نے فلاح پالی۔

 سیلانی ٹرسٹ میں پندرہ سو سے زیادہ ملازم ہیں اور اس کا سالانہ بجٹ دو ارب کے لگ بھگ ہے،جس تیزی سے اس کے کاموں میں اضافہ ہو رہا ہے لگتا ہے یہ بجٹ چند ہی سال میں دس بیس ارب پہ جا پہنچے گا، جو کام ریاست کے اہل کار نہ کرپائے وہ کام ایک ادارے نے سرانجام دے دیا۔ میرا سوال تھا کہ یہ سب کیسے ہوا۔ ”اخلاص کی دولت ہو تو کچھ بھی نا ممکن نہیں“۔ بشیر قادری نے یہ کہا اور بہت محبت سے میری طرف ہاتھ بڑھایا۔ مضبوط ارادے کے حامل اس شخص کا ہاتھ کس قدر ریشم تھا۔ اس روز میں نے اور طار ق ہاشمی نے کئی گھنٹے چار مینار سے ملحق اس عمارت میں گذارے۔ ہر لمحہ حیرت تھا ہر لمحہ استعجاب، جو لوگ خدمت کو اوڑھنا بچھونا بنا لیں وہ ایسے ہی معجزے رقم کرتے ہیں۔

سیلانی ٹرسٹ کی عمارت میں سکون ہی سکون تھا۔ اویس قرنی، فہیم قادری اور بہت سے اور لوگ۔ مجھے لگا کراچی کی پہچان قتل و غارت نہیں، تشد د نہیں،بھتہ نہیں، لوٹ مار اور بددیانتی نہیں ۔کراچی کی پہچان پہیہ جام نہیں، ٹارگٹ کلنگ نہیں۔ کراچی کی پہچان ایدھی، چھیپہ، ایس آئی یو ٹی،انڈس ، عالمگیر اور ایل آر بی ٹی ہے۔ کراچی کی پہچان سیلانی ٹرسٹ ہے، جس کا دستر خوان بچھتا ہے، تو سڑکیں چھوٹی پڑ جاتی ہیںاور ٹریفک رکنے لگتی ہے۔ اس دستر خوان پہ ہر روز دس بیس نہیں ایک لاکھ لوگ کھانا کھاتے ہیں۔ طارق ہاشمی ایک روز سوٹ پہن کے وہاں گیا۔ کھانا بانٹنے والا اس کا سوٹ دیکھ کے ٹھٹھکا، لیکن اس نے ہاتھ نہیں روکا....خدمت کرنے والا ہاتھ چھوٹے اور بڑے ‘ امیر اور غریب‘ کالے اور گورے میں تمیز نہیں کرتا۔ خدمت کرنے والا ہاتھ تعصب سے بلند ہوتا ہے۔ وہ ہاتھ سیاست سے بھی بلند ہوتا ہے۔ وہ توڑتا نہیںجوڑتا ہے۔ مرہم رکھتا ہے۔ سایہ بن جاتا ہے اور پھر تن ِ مردہ میں زندگی کی روح پھونک دیتا ہے۔ اندھیروں میں روشنی کا ایک دیا ہی کافی ہے۔ یہ دیا اس امر کا اعلان ہے کہ انسان نے ابھی ہار نہیں مانی۔

 سیلانی ٹرسٹ دو باتوں کی طرف اشارہ کرتا ہے ....پہلی بات یہ کہ ہم بطور ریاست ایک ویلفیئر سٹیٹ تعمیر کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے اور دوسری بات یہ کہ اگر نیت ہو اور کوشش کی جائے، تو ویلفیئر اسٹیٹ کا یہ تصور ناممکن نہیں۔ حکومت کی ناکامی معاشرے کی ناکامی نہیں۔ ہمارے اندر ابھی بھی زندگی کی بھرپور لہر موجود ہے۔ ہم سب ایک دوسرے کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ ہم سب خوشیوں کو پھیلتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر ریاست اس راز کی تہہ تک پہنچ سکے کہ لوگ ایدھی اور سیلانی کی مدد کیوں کرتے ہیںتو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں.... لوگ ٹیکس اس وقت دیں گے جب انہیں یقین ہو کہ ان کی رقم معاشرہ کی تعمیر کے لئے صرف ہوگی۔ جب انہیں یقین ہوگا کہ اس رقم سے کسی بیوہ کو چھت کا سہارا میسر آئے گا، اس کے بچے کو تعلیم ملے گی ، دوا ملے گی ۔ سیلانی ٹرسٹ جیسے ادارے، جہاں ہمارا اعتماد اور بھروسہ بڑھاتے ہیں وہیں ریاستی اداروں کو ایک نیا راستہ بھی دکھاتے ہیں۔ اخلاص ، دیانت داری، ایثار اور قربانی کا راستہ ....

سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے

ہزارہا شجرِ سایہ دار راہ میں ہیں

مزید :

کالم -