قوم کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی غلامی سے نجات دلائی جائے،غنویٰ بھٹو

قوم کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی غلامی سے نجات دلائی جائے،غنویٰ بھٹو

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان پیپلز پارٹی (شہیدبھٹو) کی چیئرپرسن محترمہ غنویٰ بھٹو نے کہا ہے کہ پاکستان کے پہلے جمہوری وزیر اعظم قائد عوام شہید ذوالفقارعلی بھٹو کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرنے کے بجائے نواز شریف کو ملکی معیشت کی ابتر صورتحال کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے چاہئیںجو اب تک ماضی کی طرح عالمی معاشی اداروں کے سامنے ملک کو گروی رکھنے اور امیر کو امیر تر اور غریب کو غریب تر بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور وہ اپنے اس کارنامے پر اسقدر مگن ہیں کہ وہ تاریخی حقائق کو یا تو فراموش چکے ہیں یا پھر وہ تاریخی حقائق سے ناواقف ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو سترکلفٹن پر پارٹی پنجاب کے آرگنائیزر علی حسن چشتی کی قیادت میںان سے ملاقات کرنے والے ایک وفد سے کیا وفد سے گفتگو کرتے ہوئے محترمہ غنویٰ بھٹو نے مزید کہا کہ قائد عوام نے1970ءمیں منعقد ہونے والے عام انتخابات میں خصوصاً پنجاب سے بھاری تعداد میں کامیابی حاصل کی تھی اس کی بنیاد ان کے انتخابی منشور کا وہ نکتہ ہے کہ ملک میں سوشلسٹ معیشت کاقیام عمل میں لایا جائے گااورمعیشت پر 22 خاندانوں کی اجارہ داری کا خاتمہ کیا جائے گا جو قومی دولت کو لوٹنے میں مصروف ہیں اور امیر سے امیرتر اور غریب غریب سے غریب تر ہوتا جا رہا ہے اور انکا واحد علاج یہ ہے کہ بھاری صنعتوں کو سرمایہ داروں سے لیکر قومی تحویل میں دیدیا جائے اور اس ہی نکتہ پر پاکستان کے عوام نے انہیں عام انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیاب بنایا تھا اور جب شہید بھٹو عوام کی اکثریت کی حمایت سے اقتدار میں آئے تو انہوں نے اپنا واعدہ پورا کیا اور ملک کی اقتصادیات پر مسلط 22 خاندانوں کی اجارہ داری ختم کی اور قومیائے گئے منفعت بخش صنعتی اداروں سے پاکستان کے خزانے میں کثیر رقم جمع کی گئی جس سے شہید بھٹو نے مادروطن کو اقتصادی طور پر مستحکم کیا اور عالمی مالی اداروں جس میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف (IMF) کی ڈکٹیشن کے تحت قرضہ حاصل کرنے کی بجائے ملکی معیشت کی بہتری کی۔ محترمہ غنویٰ بھٹو نے مزید کہا کہ نواز شریف کو ذوالفقارعلی بھٹو کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرنے سے پہلے بھٹو کے دور حکومت اور ان کی شہادت کے بعد پرائیویٹائیزیشن کے حامی تمام حکمرانوں کی معاشی ترقی کے اعداد وشمار کا جائزہ لینا چاہئے تاکہ ان پر واضح ہو سکے کہ ملک کی صنعتیں کوڑیوں کے دام بیچنے کے بعد ملک نے کس قدر ترقی کی اور وہ صنعتی ادارے اور ان میں کام کرنے والے مزدوروں کی اب حالات کیا ہیں ۔ملاقات کرنے والے وفد میں پاکستا ن پیپلز پارٹی ( شہید بھٹو ) پنجاب کے فنانس سیکریٹری اور این اے ۱۹۱ پنجاب کے ٹکیٹ ہولڈر ابرار اعظم بھی شامل تھے جنہوں پنجاب کی سیاسی صورتحال اور تنظیم معاملات سے چیئرپرسن محترمہ غنویٰ بھٹو کو آگاہی دی اور انہیں جنوبی پنجاب کے دورے پر آنے کی دعوت دی محترمہ غنویٰ بھٹو نے پارٹی عہدیداران کو ہدایت کی کہ وہ پارٹی پروگرام گھر گھر تک پہنچانے کیلئے عوامی رابطہ مہم تیز کریں

مزید :

صفحہ اول -