حالات مکمل طور پر ٹھیک ہونے کے بعد فوج واپس بلائی جا سکتی ہے،عسکری ماہرین

حالات مکمل طور پر ٹھیک ہونے کے بعد فوج واپس بلائی جا سکتی ہے،عسکری ماہرین

  

لاہور(انوسی گیشن سیل)طالبان بھی معصوم شہریوں نے خون کا معاوضہ ادا کریں۔حالات مکمل طور پر ٹھیک ہونے کے بعد فوج واپس بلائی جا سکتی ہے۔سنجیدگی سے مل بیٹھنے پر شرائط میں نرمی لائی جا سکتی ہے ۔ان خیالات کا اظہار ملک کے عسکری ماہرین نے روز نامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔آئی جی (ر)الطاف قمر نے کہاکہ ابتدا ءمیں سخت شرائط ہوتی ہیں جن میں کمی بیشی لائی جا سکتی ہے۔شرائط بظاہر قابل قبول نہیں ہیں ِحکومتی فریق کے جواب کا انتظار کرنا ہو گا۔حکومت اور طالبان کی سنجیدگی کی صورت میں شرائط میں نرمی کے ساتھ ساتھ مثبت حل نکالا جا سکتا ہے۔جنرل(ر)راحت لطیف نے کہاکہ قیدیوں کی رہائی عدالتوں کا اختیار ہے جب تک حالات مکمل ٹھیک نہیں ہو جاتے ایجنسیوں سے فوج بلانا درست نہیں ہو گا۔آپریشن کی صورت میں نقصان کے ازالے کے مطالبے پر طالبان کو بھی معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے معاوضہ ادا کرنا چاہیے۔حکومت جب تک بیرونی ایجنٹوں کو ملک سے نہیں نکالتی اس وقت تک مذاکرات کامیاب نہیں ہو ں گے،حکومت وقت ضائع کر رہی ہے۔ائیر مارشل(ر)شاہد ذوالفقار نے کہاکہ حکومت طالبان مذاکرات شروع دن سے ناکامی کی طرف جا رہے ہیں ۔کڑی شرائط کی صور ت کسی صور ت بھی حکومت کےلئے قابل قبول نہیں ہوں گی۔

عسکری ماہرین

مزید :

صفحہ آخر -