تین ملین ڈالرکاحسا ب چاہیے،پارٹی میں ہر لٹیر ے کا احتساب کرینگے ،محبوب اسلم

تین ملین ڈالرکاحسا ب چاہیے،پارٹی میں ہر لٹیر ے کا احتساب کرینگے ،محبوب اسلم

  

لاہور (جنرل رپورٹر) تحریک انصاف میں بننے والی نئی تنظیم ٹیک فورس کا ایوان اقبا ل میں ہونے والا کنونشن ہنگامہ آرائی اور بد نظمی کا شکا ر ہو گیا ۔تقریب میں ٹیک فورس کے حامی اور تحریک انصاف کے حامیوں میں تلخ کلامی اور تکرار بھی دیکھنے میں آئی ۔تقریب میں تحریک انصاف کے نظریاتی کارکن جاوید بٹ نے ماحول اس وقت گرما دیا جب انہوں نے میڈیا کے سامنے یہ کہ دیا کہ ٹیک فور س والوں نے غلط بیانی کر کے اور اسکو پارٹی کی تقریب کہ کر بلایا تھا ۔اس سے قبل ٹیک فورس کے سربراہ محبو ب اسلم نے تقریب سے خطا ب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیک فورس عمران خان کے خلاف نہیں ہے بلکہ انکے ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے بنائی گئی ہے ۔ہم لوگوں نے بیرون مما لک سے تین ملین ڈالر بھجوائے اسکا حساب مانگتے ہیں ۔اور جو لوگ پارٹی میں کرپشن کر رہے ہیں انکو فارغ کیا جائے ۔پارٹی میں وہی لوگ رہ سکتے ہیں جنکا کردار عمران خان جیسا شفاف ہے دوسرے کسی آدمی کی پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے ۔ٹیک فور س پارٹی میں موجود ہر چور لیٹرے کا احتساب کرے گی ۔یہ وہ لوگ ہیں جو عمران خان کے نام پر چوری کرتے ہیں ۔ہم نے عمران خان کو پارٹی میں کرپشن کے تمام ثبو ت فراہم کر دیے تھے لیکن کسی کے خلاف کاروائی نہیں کی گئی۔کرپشن کے حوالے سے کچھ مزید ثبوت بھی اکٹھے کیے جارہے ہیں جو انکو فراہم کر دیے جائیں گے۔تقریب سے کالم نگار ہارون رشید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا 30اکتوبر والا جلسہ ہی انکے زوال کا آغاز تھا ۔انکو کئی بار کہا کہ اپنی پارٹی سے کرپٹ عناصر کو فارغ کردیں ۔ایک آدمی جو ہمیشہ انکی پریس کانفرنس میں پیچھے کھڑا ہوتا تھا اسکے بارے میں بتایا کہ اسکو فارغ کر دیں یہ سود پر قرض دیتا ہے لیکن عمران خان نے ایسا نہیں کیا ۔پارٹی کے کرپٹ عناصرنے انکو ہائی جیک کر رکھا ہے ۔انکو بتایا تھا کہ انکے آفس میں کئی ایجنسیوں کے ایجنٹ ہیں اس پربھی کوئی نوٹس نہیں لیا ۔تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹیک فورس کی رہنما ڈاکٹر روبینہ نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف میں پانچ لوگوں نے کرپشن کی انتہا کردی تھی ۔ان میں نعیم الحق ،عارف علوی ،عامر کیانی اور سیف اللہ نیازی جبکہ پنجا ب میں اعجاز چوھردی شامل تھے ۔انکے خلاف ثبوت بھی عمران خان کو فراہم کیے گئے لیکن کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ۔

محبوب اسلم

مزید :

صفحہ آخر -