اسلامی تہذیب اور سیکولر تہذیب کی نظریاتی کشمکش فیصلہ کن موڑ پر ہے،لیاقت بلوچ

اسلامی تہذیب اور سیکولر تہذیب کی نظریاتی کشمکش فیصلہ کن موڑ پر ہے،لیاقت بلوچ

  

لاہور (سٹاف رپورٹر)سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی و ملی یکجہتی کونسل پاکستان لیاقت بلوچ نے اپنے ایک بیان میں کہاہے کہ پاکستان کا آئین قرا ر دیتاہے کہ ریاست کا مذہب اسلام ہے اور قرآن و سنت سے متصادم قانون نہیں بنایا جاسکتا۔ تعلیم ، معیشت ، معاشرت ، سماجی اقدار قرآن و سنت کے رہنما اصولوں کے مطابق نافذ کرنا ضروری ہیں لیکن حکمران آئین کی روح کے مطابق ریاستی نظام چلانے میں ناکام رہے ہیں اسی وجہ سے ملک میں شدت ، انتہاپسندی ، انتقام ، اقرباپروری ، کرپشن اور قومی خزانہ پر لوٹ مار کا بازار گرم ہے ۔ خود کش حملوں اور بم مارنے سے شریعت نافذ نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی استعماری ، ریاستی اور بیرونی سرمایہ سے چلائی جانے والی این جی اوزکی قوت سے ملک کو سیکولر بنایا جاسکتاہے ۔ ملک میں اسلامی تہذیب اور سیکولر تہذیب کی نظریاتی کشمکش فیصلہ کن موڑ پر ہے ۔ پاکستان کلمہ کی بنیاد پر قائم ہوا ہے انشاءاللہ کامیابی حق کی ہو گی اور حق ہی غالب ہوگا۔ لیاقت بلوچ نے کہاکہ عوام امن چاہتے ہیں ، قومی سلامتی اور استحکام پاکستان کے لیے امن ناگزیر ہے ۔ 12 سال سے امریکی غلامی ، امریکی ڈکٹیشن اور اپنے ہی عوام کے ساتھ فوج کو الجھانے کی پالیسی ناکام ہو گئی ہے ۔قومی اتفاق رائے ہے کہ پرامن اور پائیدار بنیادوں پر مذاکرات کے ذریعے امن تلاش کیا جائے ۔ امن مذاکرات اسی وقت کامیاب ہوں گے جب حکومت ، فوج ، انٹیلی جنس ادارے ہر طرح کے اندرونی و بیرونی دباﺅ سے آزاد ہو کر امن مذاکرات کامیاب کرائیں ۔

لیاقت بلوچ

مزید :

صفحہ آخر -