” لیاقت بلوچ کی آواز سنو “

” لیاقت بلوچ کی آواز سنو “
 ” لیاقت بلوچ کی آواز سنو “
کیپشن:   najam

  

فروری کے پہلے عشرے میں اتوار کی دوپہر میں چھت پربیٹھے ہوئے پہلے اک طرف سے ظہر کی اذان کی آواز آئی، پھر دوسری، پھر تیسری ۔۔۔ اور پھر یہ سلسلہ شروع ہی ہو گیا، بعض مساجد میں سوا، بعض میں ڈیڑھ اور بعض میں پونے دوبجے جماعت کا اہتمام تھا جبکہ اہل حدیث بھائیوں کی مسجد کی اذان تو ان سب سے پہلے ہو چکی تھی۔ فضامیں اللہ اکبر کی گونجتی صداو¿ں ، اللہ کے ایک اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے کی گونجتی شہادتوں ، نماز اور فلاح کی طرف آنے کی بلند آہنگ دعوتوں نے مجھے اپنے معاشرے سے عشق میں مبتلا کر دیا، اس گئے گزرے معاشرے میں بھی حقیقی عزت اسی کو ملتی ہے جو اس دعوت پر مسجد کا رستہ لے ، نمازقائم اور زکوٰة ادا کرے ، ظلم اورکرپشن کو ناں کہے، ہاں، اک لمحے کے لئے میں اقبال کے رنگ میں رنگا اور سوچا” ملا کو ہے ہند میں جو سجدے کی اجازت، ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد“ ، یعنی صرف سجدے کی اجازت کافی نہیں، اسلام کو حقیقی معنوں میں نافذ ہونا چاہئے ۔سوچ آگے بڑھی تو اللہ کا شکر ادا کیا کہ یہاں تمام مسالک کو اپنے اپنے عقیدے کے مطابق سجدے کی اجازت تو موجود ہے۔ وہ جو اللہ کو مانتا ہے وہ بھی خوش ہے اور وہ جو اللہ کی مانتا ہے، اسے روکنے والا بھی کوئی نہیں ۔ اصل المیہ یہ ہے کہ ہم خود تو مسلمان بنتے نہیں،پورے معاشرے کو مسلمان بنانے کے لئے لڑتے ،مرتے اور مار دیتے ہیں۔ میں نے بہت ساروں سے پوچھا کہ آپ کو کسی مومن کی بندوق مسلمان بنا سکتی ہے یااس کا کردار اور اخلاق ۔۔ کسی نے بھی بندوق کے حق میں رائے نہیں دی۔

اخبارات میرے سامنے کھلے پڑے تھے، محترم امیر جماعت اسلامی سید منور حسن کا روزنامہ پاکستان کے صفحہ اول پر تین کالمی بیان دیکھا ، ” ملاازم اور طالبانائزیشن کی باتیں کرنے والے اسلام کے خلاف اپنا غصہ نکالتے ہیں“، مجھے پھر علامہ اقبال یاد آ گئے ۔یونہی لائیٹ موڈ میں سید صاحب سے پوچھنے کو دل چاہا کہ کیا شاعر مشرق اور حکیم الامت بھی ملا و¿ں کے خلاف بات کر کے اسلام کے خلاف اپنا غصہ نکالتے تھے، ” الفاظ ومعانی میں تفاوت نہیں لیکن، ملا کی اذاں اور ہے مجاہد کی اذاں اور“ ،اور بات تو ان صوفیوں کے ذریعے بھی نہیں بنے گی جن کی کونسل چودھری شجاعت حسین کی قیادت میںپرویز مشرف کے دور میں بن گئی تھی، شائد ہمارے صوفی انور نے اپنے چودھری صاحب کو اس راہ پر لگایا ہو گا یا ہو سکتا ہے کہ صوفی انور کوصوفی ہی ہمارے چودھری صاحب نے بنایا ہو، ” صوفی کی طریقت میں فقط مستی احوال، ملا کی شریعت میں فقط مستی گفتار“، ہاں ، یہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ملا نے مجاہد کا بہروپ بھرنے کے لئے بموں اور بندوقوں کا سہارا لیا، سوال تو یہی ہے کہ کیا ملا ، مجاہد بن سکا کہ سید منور حسن نے ہی دانشوروں اور ماہرین کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آگے فرمایا کہ ” شریعت کوئی خطرناک اور ڈراو¿نی چیز نہیں بلکہ انسانیت کی رہنمائی اور بھلائی کے لئے اللہ تعالیٰ کا قانون ہے“، ہاں ، مگر بم دھماکے تو خطرناک اور ڈراو¿نی چیز ہیں۔انہوں نے وضاحت کی کہ” نفاذ شریعت کا مطالبہ نہ تو نیا ہے اورنہ ہی غیر آئینی، آئین پاکستان میں قرآن و سنت کو ملک کا سپریم لاءتسلیم اور یہ عہد کیا گیا ہے کہ ملک میں کوئی قانون قرآن وسنت کے خلاف نہیں بنے گا“،بات تو درست ہے کہ یہ مطالبہ نہ تو نیا ہے اورنہ ہی غیرآئینی مگر تسلیم کر لیجئے کہ نیا اس کو نافذ کروانے کا طریقہ ہے لہذا یہاں نفاذ شریعت کے مطالبے کے نئے یا غیر آئینی ہونے کا اعتراض ہی نہیں، کالموں کے کالم سیاہ ہو رہے ہیں کہ ہمارا آئین مکمل طورپر اسلامی ہے، اعتراض شریعت نافذ کروانے کے اس نئے طریقے پر ہے جس میں بچیوں کے تعلیمی ادارے بموں سے اڑا دئیے جاتے ہیں اور مسجدوں میں اللہ کے سامنے سجدے میں جھکے ہوئے سر بھی اڑا دئیے جاتے ہیں۔صرف یہ نیاطریقہ ترک کر دیا جائے اور پرامن طریقے سے اہل ایمان، شریعت کے نفاذ کی تحریک لے کر چلیں، اپنے عمل اور کردار سے ثابت کریں کہ شرع پر عمل کرنے والے ہی سب سے بہتر انسان ہیں تو باقی خود بخود ان کی اتباع کرنے لگیں گے ، پھر کسی حکومت کے لئے یہ ممکن ہی نہیں رہے گا کہ وہ سودی نظام کی محافظ بنی رہے۔ یہاںان ماہرین اور دانشوروں کی یہ ذمہ داری بھی تو ہے کہ وہ سود سے پاک اسلامی معاشی نظام کا قابل عمل فارمولہ بھی دیں۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ جماعت اسلامی ،منہاج القرآن ، جمعیت علمائے اسلام یا ان جیسی کسی بھی جماعت کے رہنما ایسا بنک قائم کر دیتے جو نام نہاد حلال بنکنگ کے مقابلے میں واقعی اسلامی بنکنگ کا عملی نمونہ ہوتا، ہم صرف تنقید، تقریریں اور مطالبات پیش کرتے ہیں، معاشرے کو شریعت کے مطابق بنانے کا عملی نمونہ نہیں۔

میں نے عشاءکی نماز علاقے کی بڑی مسجد میں ادا کی ، ہال سے باہر نکلا تو محفل سجی ہوئی تھی، درس ہو رہا تھا، دل نے قدموں کوباہر کی طرف بڑھنے سے روک دیا، درود شریف کا ورد کرتے ہوئے سب سے پیچھے ہی بیٹھ گیا اور سننے لگا، امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ کا ذکر ہو رہا تھا اوران کی کسی تصنیف کے ذریعے دنیا کو انتہائی ناپسندیدہ شے قرار دیا جا رہا تھا۔ اللہ ، اللہ، امام غزالی کا مقام، کردار اور تعلیمات،ستر ہزار مرتبہ معافی پہلے اور یہ سوال بعد میں کہ اگر ہم اپنے رب کی ہمارے لئے بنائی گئی دنیا کو اتنا ہی برا بنا کے پیش کریں گے تو اس کو بہتر بنانے کے لئے کردار کون ادا کرے گا؟ اسلام دنیا کو ترک کرنے اور رہبانیت اختیار کرنے کا درس نہیں دیتا۔ میرے رب نے دنیا کو دارالامتحان بنایا ہے اور امتحان یہی ہے کہ ہم اس جہاں میں اپنے رب کی کتنی اطاعت کرتے ، اس کے بندوں سے کتنی محبت کرتے، انہیں کتنی آسانیاں فراہم کرتے ہیں، اسلام اور جدت میں کوئی تفاوت نہیں،آج دنیا میں جدید ریاست اور معاشرہ وہی ہے جو اپنے شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں اور آسانیاں فراہم کرتا ہے۔

بات سے بات نکل رہی ہے اور مجھے اپنے معاشرے کے اچھے لوگوں کی جماعت ، جماعت اسلامی کی فکر ستا نے لگی ہے، شائد میرے دوست، میرے مہربان یہ سمجھتے ہوں کہ سب اچھا کہنے والے ہی دوست ہوتے ہیں ۔ جب محترم سید منور حسن جماعت اسلامی کی آواز او رپہچان بن رہے ہیں تو وہاں مجھے لیاقت بلوچ کی آواز بھی سنائی دی ہے، میں ان کے” پاکستان “میں شائع ہونے والے الفاظ کو ہی نقل کروں گا ،”طالبان کے سخت گیر موقف کے برعکس جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے ایک بیان میں واضح کیا کہ بے گناہ لوگوں کے قتل اوربندوق سے شریعت نافذ نہیں ہو سکتی، پاکستان کا آئین عین قرآن وسنت کے مطابق ہے اور اس لحاظ سے اس وقت بھی پاکستان میں شریعت نافذ ہے، ان کاکہنا ہے کہ پاکستان کے آئین کو ان کے اکابرین کی سپورٹ حاصل تھی“۔ یہی وہ پکارہے جو پڑھے لکھے، مہذب مسلمان اور پاکستانی کی ہونی چاہیے کہ پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق سودی نظام، عریانی فحاشی ، بے پردگی، ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور جاگیردارانہ سوچ جیسی لعنتوں کو ختم کیا جائے۔ میرٹ کے نفاذ کے ساتھ ساتھ وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جانا چاہئے۔ جماعت اسلامی کو اسی قسم کی معتدل قیادت اور متوازن سیاست کی ضرورت ہے۔ میں محترم لیاقت بلوچ کو عشروں سے جانتا ہوں ، وہ ریاست اور سیاست کی طریقوں کو بہت بہتر طورپر سمجھتے ہیں۔میں نے جماعت اسلامی کی ویب سائیٹ پر جا کے محترم سید منور حسن،محترم لیاقت بلوچ اور محترم سراج الحق کی پروفائلز بہت تفصیل سے پڑھی ہیں ۔ میری تمام تر اخلاص کے ساتھ درخواست یہی ہے کہ جماعت اسلامی کے ارکان کو اب وہ تبدیلی لانی چاہیے جودنیا بھر کی اسلامی تحریکوں میں آئی اور انہوں نے مین سٹریم کا حصہ بن کے اپنے آپ کو عوام الناس کے لئے قابل قبول بنایا،لیاقت بلوچ کے روئیے ،خدمات اور کردارکو دیکھتے ہوئے میرا تجزیہ تو یہی ہے کہ وہ قادر الکلام سید منور حسن اوردرویش صفت سراج الحق کے مقابلے میں جماعت اسلامی کو پاکستانی معاشرے ہی نہیں وقت کے چیلنجوں اور عالمی سطح کے تقاضوں کے مطابق ڈھال سکتے ہیں، اگرچہ ماضی میں اس وقت تک جماعت اسلامی کے کسی امیر کو اللہ حافظ نہیں کہا گیا جب تک انہوں نے خود دو ٹوک انداز میں رخصت نہیں لی مگردوسری طرف مرکزی قیم کے امیر بننے کی روایت بھی تو موجود ہے ۔۔۔اس مرتبہ دوسری روایت پر پہلی سے بھی پہلے عمل کر لیا جائے تو کیا حرج ہے؟

مزید :

کالم -