طالبان نے 15مطالبات رابطہ کمیٹی کے حوالے کردیئے , قیادت کی طرف سے حوصلہ افزا جواب آیا، پیغامات حکومت کیلئے امانت ہیں : مولانا سمیع الحق

طالبان نے 15مطالبات رابطہ کمیٹی کے حوالے کردیئے , قیادت کی طرف سے حوصلہ افزا ...
Dialogue
کیپشن:   Taliban

  

اسلام آباد،نوشہرہ (خصوصی رپورٹ،مانیٹرنگ ڈیسک) طالبان کی تین رکنی مذاکراتی ٹیم اور سیاسی شوریٰ کمیٹی کے درمیان دوبارہ مشاورت میں طالبان قیادت نے 15مطالبات کمیٹی کے حوالے کردیئے جس کے بعد کمیٹی اراکین میرانشاہ نے نوشہرہ پہنچ گئے جہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولاناسمیع الحق نےکہا کہ طالبان کی طرف سے چار نکات پر حوصلہ افزا جواب آیاہے ، گزارش ہے کہ مذاکرات کے معاملے پر میڈیا تبصرے سے گریز کرے اور جذبات سے کام نہ لیاجائے، ملاقات خوشگوار رہی لیکن مطالبات امانت ہے ، وہ کچھ بتانا نہیں چاہتے ،حکومتی کمیٹی کے سامنے مطالبات یا پیغامات رکھیں گے ، دیانتداری کا معاملہ ہے ، بات کا ایک حصہ اُٹھالیا جاتاہے اور دوسرا رہ جاتاہے ، بعد میں کوئی بھی بات میڈیا یا عوام سے نہیں چھپائیں گے ۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی کے اراکین نے 24گھنٹے طالبان قیادت اور 14گھنٹے پولیٹیکل انتظامیہ کے ساتھ گزارے اور ملاقاتیں خوشگوار رہیں  ۔اس سے پہلے مذاکراتی ٹیم نے مرکزی اور سیاسی شوریٰ کے اجلاسوں میں بھی شرکت کی۔ بعد میں سیاسی شوریٰ کے سربراہ قاری شکیل اور مرکزی نائب امیر شیخ خالد حقانی نے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور معاملات پر تفصیل سے بات چیت کی۔ ذرائع کے مطابق طالبان کی سیاسی شوریٰ اور مذاکراتی کمیٹی کے درمیان اجلاس میں طالبان نے ابتدائی طور پر پندرہ مطالبات پیش کر دیئے ہیں۔ مطالبات میں کہا گیا ہے کہ ڈرون حملے بند ہونے چاہئیںجبکہ مطالبات میں پاکستان کے عدالتوں میں شرعی نظام کا نفاذ، پاکستان کے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں اسلامی نظام تعلیم کا نفاذ، پاکستانی جیلوں سے طالبان کے ملکی اور غیر ملکی قیدیوں کی رہائی، قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن اور ڈرون حملوں میں تباہ شدہ مکانات سرکاری املاک کی ازسرنو تعمیر اور نقصانات کا ازالہ، قبائلی علاقوں کا کنٹرول مقامی فورس کے حوالے کرنا جبکہ ایف سی کو قلعوں کے اندر رکھنا، قبائلی علاقے سے فوج کی واپسی اور چیک پوسٹوں کا خاتمہ، تحریک طالبان کے خلاف تمام مقدمات خارج کرنا، قیدیوں کا تبادلہ، امیر اور غریب کے یکساں حقوق کی فراہمی،فوجی آپریشن اور ڈرون حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کے رشتہ داروں کو معاوضہ اور سرکاری نوکریاں دینا ، طالبان کمانڈروں کے لیے عام معافی کا اعلان، دہشتگردی میں امریکہ کے ساتھ تعاون ختم کر کر نے کا باضابطہ اعلان، جمہوری نظام کو ختم کرکے شرعی نظام کا نفاذ اور سودی نظام کا خاتمہ شامل ہیں۔اے این این کے مطابق لعدم تحریک طالبان پاکستان کی سیاسی شوریٰ اور مذاکراتی کمیٹی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کا لائحہ عمل طے کر لیا، طالبان کے نائب امیر خالد حقانی نے شوریٰ کے اجلاس کے فیصلوں کی منظوری دے دی ، فیصلوں کا باضابطہ اعلان مولانا سمیع الحق اور مولانا عبدالعزیز سے مشاورت کے بعدآئندہ24سے 48گھنٹے میں کیا جائے گا، طالبان کی جانب سے گرفتار ساتھیوں کی رہائی،فوجی آپریشن سے متاثرہ خاندانوں کو معاوضے کی ادائیگی اور شورش زدہ علاقوں سے فوج کو واپس بلانے کے مطالبات اور جنگ بندی کے اعلان کا امکان ہے ۔ طالبان کی جانب سے قائم کمیٹی کے دورہ وزیر ستان میں کالعدم تحریک طالبان کی قیادت کے ساتھ ملاقاتیں سود مند رہی ہیں۔پروفیسر محمد ابراہیم،مولانا یوسف شاہ،مولانا حسیب اور سراج خان گزشتہ روز سرکاری ہیلی کاپٹر میں میران شاہ پہنچے تھے جہاں سے انھیں طالبان کی گاڑیوں میں نا معلوم مقام پر لے جایا گیا تھا۔طالبان کی مذاکراتی کمیٹی نے ابتدائی طور پرشمالی وزیر ستان میں قاری شکیل سمیت کالعدم تحریک طالبان کی سیاسی شوریٰ کے ارکان سے ملاقات کی جس میں حکومت کے ساتھ مجوزہ مذاکرات سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔پروفیسر محمد ابراہیم نے سیاسی شوریٰ کو حکومت کے ساتھ ہونے والی بات چیت پر بریفنگ دی اور حکومتی کمیٹی کی جانب سے پیش کی گئی شرائط سے آگا ہ کیا۔ قاری شکیل نے کمیٹی اراکین کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا جس میں ان کی تواضع روایتی مقامی کھانوں سے کی گئی اور خصوصی طور پر دنبے کا بھنا ہوا گوشت پیش کیا گیا۔اس موقع پر قاری شکیل کی جانب سے پروفیسر ابراہیم اور وفد کے دیگر اراکین کو پختونوں کی روایتی پگڑیاں پہنائی گئیں اور چادروں کا تحفہ بھی دیا گیا۔ذرائع کے مطابق اتوار کی صبح کمیٹی کے اراکین نے کالعدم تحریک طالبان کے نائب امیر مولانا خالد حقانی اور عسمت اللہ شاہین بیٹنی سے ملاقات کی جس میں سیاسی شوریٰ کے اجلاس میں تیار کی گئی سفارشات اور تجاویز پیش کی گئیں اور حکومت کے ساتھ ہونے والی بات چیت سے آگاہ کیا گیا۔اس ملاقات میں طالبان کے دیگر کمانڈرز بھی موجود تھے۔ملاقات میں خالد حقانی نے سیاسی شوریٰ کی سفارشات اور تجاویز کی منظوری دے دی ہے اور حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لئے مطالبات کی فہرست بھی تیار کی گئی ہے جس کا اعلان طالبان کمیٹی اسلام آباد واپسی پر مولانا سمیع الحق اور مولانا عبدالعزیز کو اعتماد میں لے کر اگلے 24سے 48گھنٹے میں کرے گی۔اجلاس میں عصمت اللہ شاہین کی جانب سے وفد کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا گیا۔ طالبان قیادت نے طالبان کمیٹی کو مکمل مذاکراتی اختیارات تفویض کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس اس بات پر اتفاق ہوگیا ہے کہ حکومتی کمیٹی سے دوسری ملاقات سے قبل ہی طالبان قیادت سیز فائر کا اعلان کرسکتی ہے۔رپورٹس کے مطابق طالبان کی سیاسی شوریٰ کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل شریعت کے مطابق جاری رہنا چاہیے۔پاکستان کے آئین سے زیادہ شریعت مقدم ہے، ٹی ٹی پی کی سیاسی شوریٰ نے اپنے دیگر نکات سے بھی مذاکراتی کمیٹی کو آگاہ کردیا ہے۔ طالبان قیادت نے طالبان کمیٹی کو آگاہ کردیا ہے کہ طالبان سیز فائر کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ حکومت بھی سیز فائر کا اعلان کرے ،طالبان قیادت نے طالبان کمیٹی کو مختلف مطالبات پیش کیے ہیں ، جن میں قیدیوں کی رہائی، فوجی آپریشن کے دوران متاثر ہونے والے خاندانوں کو معاوضے کی ادائیگی اورشورش زدہ علاقوں سے فوج کی واپسی شامل ہے۔طالبان کمیٹی کی اکوڑہ خٹک میں مولاناسمیع الحق کو بریفنگ کے دوران طالبان قیادت سے ٹیلی فون پر بھی بات چیت ہوئی ہے  اور اُنہوں نے ملاقات کو مثبت قراردیاہے ،آئین کے دائرے میں رہ کر مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے پر اتفاق ہوگیاہے ۔  مولانا سمیع الحق نے کہاکہ کچھ پیغامات موجود ہیں جو حکومتی کمیٹی کو پہنچائیں گے اور انشائ اللہ قوم کو خوشخبری ملے گی، کمیٹی اراکین نے شمالی وزیرستان کے دوردراز علاقے میں دودن مسلسل مذاکرات کیےاور مثبت ردعمل سامنے آیا۔ کمیٹی کے کوارڈینیٹر یوسف شاہ نے بتایاکہ طالبان کی طرف سے زبانی اور تحریری طورپر کچھ مطالبات سامنے آئے ہیں ، سیاسی شوریٰ کے دس بارہ لوگ موجود تھے تاہم خوشگوار ماحول میں ہونے کے باوجود ڈرون طیاروں کی پروازیں جاری رہیں ، کچھ دن وقفہ ہوا تھا لیکن دوبارہ ڈرون طیاروں کی پروازیں جاری ہیں ۔  طالبان کی مذاکراتی کمیٹی اسلام آباد پہنچ کر مولانا سمیع الحق کے ساتھ مشاورت کے بعد طالبان سے ہونے والی بات چیت اور مطالبات باضابطہ طور پر حکومتی کمیٹی تک پہنچائے گی۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -