کیا انسانی آنکھ کے ساتھ بھی ایسا ممکن ہے؟ معمول کے معائنہ کے دوران ڈاکٹر کو نوجوان لڑکی کی آنکھ میں ایسی چیز نظر آگئی کہ پوری زندگی ہی تبدیل ہوگئی

کیا انسانی آنکھ کے ساتھ بھی ایسا ممکن ہے؟ معمول کے معائنہ کے دوران ڈاکٹر کو ...
کیا انسانی آنکھ کے ساتھ بھی ایسا ممکن ہے؟ معمول کے معائنہ کے دوران ڈاکٹر کو نوجوان لڑکی کی آنکھ میں ایسی چیز نظر آگئی کہ پوری زندگی ہی تبدیل ہوگئی

  

ڈبلن (نیوز ڈیسک) فالج کا حملہ انسانی جسم کے کئی اعضاءکو نشانہ بناسکتا ہے لیکن آئرلینڈ کی ایک نوجوان خاتون کے جسم کے ایک ایسے حصے پر فالج کا حملہ ہوگیا کہ جس نے بھی سنا حیرت زدہ رہ گیا۔

24 سالہ نیٹلی موران کو ناصرف فالج نے انتہائی غیر متوقع جگہ نشانہ بنایا تھا بلکہ انہیں اس کا علم بھی یوں اچانک ہو کہ وہ ساکت رہ گئیں۔ اخبار ”مرر“ کے مطابق نیٹلی کا کہنا ہے کہ وہ نیا چشمہ لگوانے سے پہلے اپنے آنکھوں کے معمول کے معائنے کے لئے گئی تھیں۔ جب ڈاکٹر ان کی آنکھوں کا معائنہ کررہا تھا تو اسے ایک آنکھ کے پچھلے حصے میں ایک سایہ نظر آیا، جس پر اس نے اپنی تشویش کا اظہار کیا اور انہیں فوری طور پر آئی سرجن سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا، جس پر انہوں نے عمل کیا۔ نیٹلی کا کہنا ہے کہ جب وہ سپیشلسٹ ڈاکٹر کے پاس جارہی تھیں تو انہیں اپنی آنکھ کی رگیں پھڑکتی ہوئی محسوس ہورہی تھیں۔ ڈاکٹر نے ان کی آنکھ کا معائنہ کیا اور یہ خوفناک انکشاف کر دیا کہ اُن کی آنکھ پر فالج کا حملہ ہوچکا تھا۔ آنکھ کے ریٹینا کو خون اور آکسیجن فراہم کرنے والی رگوں میں خون کا لوتھڑا جمنے سے آنکھ کو خون اور آکسیجن کی سپلائی بند ہوچکی تھی۔ نیٹلی کی انتہائی خوش قسمتی تھی کہ ڈاکٹروںنے فوری طور پر اس کی آنکھ کو خون کی بحالی کی کوششیں شروع کردیں اور جلد ہی بہتری کے آثار نظر آنا شروع ہوگئے۔

مزید جانئے: آسٹریلوی خاتون نے پانچ بچوں کو صرف دو منٹ میں ہی جنم دیدیا

اس موقع پر ماہر چشم نے خاتون کو بتایا کہ یہ محض لمحوں کی بات تھی ، اگر وہ مزید تاخیر کرتیں تو بصارت سے ہمیشہ کے لئے محروم ہوجاتیں۔ نیٹلی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی کہانی سب کے ساتھ اس لئے شیئر کی تا کہ لوگ اپنی صحت کے متعلق معمولی سے معمولی مسئلے کو بھی نظر انداز نہ کریں۔ وہ کہتی ہیں کہ انہیں معمول کے ایک معائنے کے دوران آنکھ کے پیچھے نظر آنے والے ایک معمولی سے سائے نے ہی فالج جیسی خوفناک بیماری سے خبردار کردیا تھا، ورنہ وہ بصارت سے محروم ہوچکی ہوتیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -