داعش کی قید سے رہا ہونے والی لڑکیوں نے ایک اور تنظیم میں شمولیت اختیار کرلی، ایسا اعلان کردیا کہ سب کو حیران کردیا

داعش کی قید سے رہا ہونے والی لڑکیوں نے ایک اور تنظیم میں شمولیت اختیار کرلی، ...
داعش کی قید سے رہا ہونے والی لڑکیوں نے ایک اور تنظیم میں شمولیت اختیار کرلی، ایسا اعلان کردیا کہ سب کو حیران کردیا

  

بغداد(مانیٹرنگ ڈیسک) 2014ءمیں عراق کے شہر سنجار پر داعش نے حملہ کیا، مردوں کو قتل کر دیا اورہزاروں یزیدی خواتین کو باندیاں بنا کر اپنے ساتھ لے گئے۔ ان خواتین میں سے اکثر شدت پسندوں کے چنگل سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئیں اور اب انہوں نے داعش سے لڑنے کے لیے اپنی ایک فوج بنا لی ہے۔ اس فوج کا نام سن لیڈیز(Sun Ladies)رکھا گیا ہے جو اپنے اغواءاور عزیزواقارب کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے داعش کے خلاف لڑنے کے لیے بالکل تیار ہیں۔ اس فوج میں 2ہزار کرد خواتین شامل ہیں جن کی قیادت کیپٹن خاطون خیدر نامی خاتون کر رہی ہے۔ خاطون ان 123یزیدی خواتین میں سے ایک ہیں جنہوں نے گرد جنگجوﺅں سے تربیت حاصل کی اور ان کے ساتھ مل کر داعش کے خلاف لڑتی بھی رہیں۔ اس فوج میں 17سے 37سال کی عمر کی خواتین شامل ہیں۔ ان کے علاوہ 500خواتین ایسی ہیں جو اس فوج میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں اور تربیت دیئے جانے کی منتظر ہیں۔

مزید جانئے: داعش کے مارے جانے والے کارکن کی بیوہ کا کھلا خط، ایسی باتیں لکھ ڈالیں کہ دنیا کو حیران کردیا لیکن اب۔۔۔

فوکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کیپٹن خاطون کا کہنا تھا کہ ”مجھے آج بھی یاد ہے کہ ہماری خواتین داعش کے شدت پسندوں کے لیے اپنے بچوں کو پہاڑ سے نیچے پھینک کر ان کے پیچھے خود بھی چھلانگیں لگا رہی تھیں اور داعش سے بچنے کے لیے خودکشی کر رہی تھیں۔ ہم میں سے جو پکڑی گئی تھیں ان کے ہاتھ شدت پسندوں نے باندھ دیئے تھے۔ ہمیں قید کرکے لیجایا گیا، زبردستی ہم سے شادیاں کی گئیں اور ہمیں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ہم میں سے کچھ اس وقت داعش کی قید سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئیں۔ جب اتحادی ممالک نے اس کے ٹھکانوں پر بمباری کی۔اس کے بعد ہم اکٹھی ہوئیں اور ہتھیار اٹھانے کا فیصلہ کیا۔“ خاطون کا کہنا تھا کہ عراق میں جب کبھی جنگ لڑی گئی، ہماری خواتین ہی کو نشانہ بنایا گیا۔ اب ہم نے بھی ہتھیار اٹھا لیے ہیں اور ہم خود اس برائی کے خلاف لڑیں گی۔“فوج کی 19سالہ اہلکار میساکا کہنا تھا کہ ”ہمارے لیے یہ بہت اہم ہے کہ ہم اپنی حفاظت کرنے کے قابل ہوں، میرے خاندان کو مجھ پر فخر ہے، انہوں نے اس فوج میں شامل ہونے کے لیے میری حوصلہ افزائی کی۔“

مزید :

بین الاقوامی -