دو امریکی لڑکیوں کی کویت میں ایسی شرمناک حرکت کہ 25 سال کیلئے جیل میں ڈال دیا گیا

دو امریکی لڑکیوں کی کویت میں ایسی شرمناک حرکت کہ 25 سال کیلئے جیل میں ڈال دیا ...
دو امریکی لڑکیوں کی کویت میں ایسی شرمناک حرکت کہ 25 سال کیلئے جیل میں ڈال دیا گیا

  

کویت سٹی(مانیٹرنگ ڈیسک) کویت میں دو امریکی خواتین کو منشیات سمگل کرنے کے جرم میں 25سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے جبکہ سزا پانے والی خواتین کے گھروالوں نے الزام عائد کر دیا ہے کہ کویت حکومت انہیں ہم جنس پرست ہونے کی سزا دے رہی ہے۔ مونیکا کوورژن نامی خاتون، جو کہ 7سال تک امریکی فوج میں خدمات سرانجام دے چکی ہیں، گزشتہ سال اپنی گرل فرینڈ لاریسا کے ساتھ کویت منتقل ہوئیں، جہاں ایک روز پولیس نے ان کے گھر پر چھاپہ مارکر تقریباً آدھا کلو گرام چرس برآمد کر لی۔ اس جرم میں ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اور اب عدالت کی طرف سے انہیں 25سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔

مزید جانئے: ترکی کا وہ شہر جہاں کے رہنے والے بھوک سے بلک بلک کر مررہے ہیں، وجہ جان کر آپ بھی بے حد پریشان ہوجائیں گے

مونیکا کی والدہ مشعل جیکسن نے اپنی بیٹی اور اس کی لائف پارٹنر کی رہائی اور امریکہ واپسی کے لیے ایک آن لائن پٹیشن دائر کی ہے جس میں اس نے کویتی حکومت پرالزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ”میری بیٹی اور اس کی لائف پارٹنر سے کوئی منشیات برآمد نہیں ہوئی، وہ تمباکو کی طرح کا ایک مواد تھا لیکن بعد میں پولیس نے اسے چرس میں بدل دیا۔ دراصل کویتی پولیس ان دونوں کو ہم جنس پرست ہونے کی سزا دے رہی ہے۔“ مشعل جیکسن نے پٹیشن میں امریکی حکومت سے درخواست کی ہے کہ ”میری بیٹی اور اس کی لائف پارٹنر لاریسا کی سزا ختم کروانے اور انہیں واپس امریکہ لانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔“

برطانوی نیوز ویب سائٹ پنک نیوز کی رپورٹ کے مطابق مونیکا کوورژن کی بہن کا کہنا تھا کہ ”مونیکا اور اس کی لائف پارٹنر لاریسا ہم جنس پرستی کی زندگی گزار رہی تھیں، امریکہ میں تو ہم جنس پرستی کو قانونی حیثیت حاصل ہو چکی ہے لیکن ابھی دنیا کے بہت سے ملک میں یہ ممنوع ہے۔اسی بناءپر کویت پولیس نے انہیں گرفتار کیا اور سزا دی گئی۔ ان دونوں سے جو مواد برآمد ہوا تھا وہ تمباکو کی طرح کا ایک مصنوعی مواد ہے جسے کے2(K2) کہتے ہیں اور کویت میں اس پر کوئی پابندی عائد نہیں۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -