پارکوں کی تعمیر و مرمت نجی کمپنیوں کے سپرد ؛ پی ایچ اے کا ایکشن پلان تیار

پارکوں کی تعمیر و مرمت نجی کمپنیوں کے سپرد ؛ پی ایچ اے کا ایکشن پلان تیار

  

 لاہور(جاوید اقبال) پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی نے ضلع لاہور میں عملہ کی کام چوری ،ڈیزل بچانے اور پارکوں کو سر سبز بنانے کے لیے نیا ایکشن پلان تیار کر لیا ہے جس کے تحت شہر کے پارکس اور تفریح گاہیں آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن کی تعمیر و مرمت کا کام پرائیویٹ کمپنیوں کے ذریعے ٹھیکے پر کرایا جائیگا جس کے لیے ابتدائی طور پر 16پارکس کی تعمیر و مرمت کا کام پرائیویٹ کمپنیوں کو ٹھیکے پر دے دیا گیا ہے اور وہاں تعینات مالیوں ،افسروں اور دیگر عملہ کی خدمات واپس لے لی ہیں جس کی تصدیق پی ایچ اے کے ڈائریکٹر جنرل میاں شکیل احمد نے کردی ہے جن کا کہنا ہے کہ لاہور بھر کے تمام پارکس اور گرین بیلٹس کی تعمیر و مرمت کے کام کو آؤٹ سورس کیا جا رہا ہے جس کی پی ایچ اے کے بورڈزآف گورنرز نے باقاعدہ منظوری دی ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت ضلع لاہور میں پی ایچ اے کے 886پارکس اور 1595کلو میٹر پر محیط گرین بیلٹس ہیں جن کے لیے عملے کی تعداد قدرے کم ہے کم وسائل اور کم افرادی قوت کے مقابلے میں زیادہ بہتر انداز میں کام لینے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے اور تجرباتی طور پر مصطفی آباد کے پارکس اور گرین بیلٹس سمیت 16پارکس کو آؤٹ سورس کر دیا گیا ہے دوسرے پارکس کو مرحلہ وار آؤٹ سورس کر نے کا منصوبہ ہے ۔بتایا گیا ہے کہ پارکس میں تعمیر و مرمت کے ساتھ ساتھ گھاس اور پودے لگانے کا کام آؤٹ سورس میں کامیاب پارٹیوں کو ہی کرنا ہو گا ۔جس کے لیے بجٹ پی ایچ اے دے گا اور کام ٹھیکہ لینے والی کمپنی اپنے پرائیویٹ ملازمین کے ذریعے کروائے گی جس کے لیے پارکوں کی تعمیر و مرمت کرنے والی کمپنیاں اپنے ملازمین رکھیں گی ۔پی ایچ اے صرف ان کو سالانہ بنیادوں پر تعمیر و مرمت کی گائیڈ لائن فراہم کرے گی اور مانیٹرنگ کا کام کرے گی ۔اس سلسلے میں ٹھیکے پر پارک لینے والی کمپنیاں درختوں اور پودوں کی حفاظت کی ذمہ دار بھی ہوں گی اور ایسے لوگ جو درخت کاٹیں گے یا انہیں نقصان پہنچائیں گے ان کے خلاف پی ایچ اے ایکٹ 2012کے تحت مقدمات بھی درج کروا سکیں گی اس حوالے سے ڈی جی پی ایچ اے شکیل احمد میاں کا کہنا ہے کہ ایسا تجرباتی طور پر کیا جا رہا ہے اور ابتداء میں 16پارکس آؤٹ سورس کیے گئے ہیں یہ تجربہ کامیاب ہو گیا تو پورے لاہور کے پارکس میں تعمیر و مرمت کا کام ٹھیکے پر دے دیا جائے گا ۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -