اورنج ٹرین منصوبہ کے متاثرین جائیدادوں کی قیمت ملنے کے باوجود مایوس

اورنج ٹرین منصوبہ کے متاثرین جائیدادوں کی قیمت ملنے کے باوجود مایوس

  

لاہور (اقبال بھٹی) اورنج لاین میٹرو ٹرین منصوبے کے عوض متاثرین ادائیگی وصول کرنے کے باوجود بددلی کا شکار پیسے ہاتھ میں لینے کے باوجود چہروں پر مایوسی اور نا امیدی صاف نظر آتی ہے ان کا کہنا ہے کہ اتنے پیسوں میں نہ تو مکان بنایا جا سکتا ہے اور نہ ہی دوکان،یہ تو اونٹ کے منہ میں زیرے والی بات ہے تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت اب تک میٹروٹرین منصوبہ کے لئے 5 ارب روپے متاثرین میں تقسیم کر چکی ہے اور مزید 15 ارب روپے دےئے جائیں گے جن میں اراضی کی ادائیگی بلڈنگ سٹرکچرکا معاوضہ اور 15فیصدکل ادائیگی پر برائے کرایہ بھی دیا جائے گا جبکہ کمرشل کے لئے زمین کی ادائیگی بلڈنگ کا معاوضہ اور کاروبار میں نقصا ن شامل ہیں ۔ اس سلسلے میں حکومت پنجاب کی طرف سے تین کیمپ ٹھوکرنیا ز بیگ، گورنمنٹ کالج کرکٹ گراؤنڈجین مندراور جی ٹی روڑیونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی گیٹ نمبر 6پر لگائے گئے ہیں ۔ روز نامہ پاکستان کے سروے میں لوگوں نے بتایا کہ بہت کم معاوضہ دیا جارہا ہے یک آدمی کا کہنا تھا کہ اس سے تو اچھا تھا حکومت ہمیں گھر بنا کر دے دیتی جو معاوضہ دیا جا رہا ہے اس سے گھر بنانا نا ممکن ہے اتنے پیسوں سے تو پلاٹ نہیں خریداجا سکتا مکان کہاں سے بنے گااور دوکان کے بدلے دوکان بناکر دے دیتی تاکہ ہماری دال روٹی چلتی رہتی اور ایک آدمی نے کہا کہ ہم لوگ پچھلے 6ماہ سے کاروبار سے محروم ہیں جس کی وجہ سے مقروض ہو گئے ہیں ان کے علاوہ اور بھی بہت سے لوگوں کاکہنا تھا کہ ہمارے ساتھ بڑی زیادتی کی گئی ہے کہ ہمارے سر سے چھت چین لی گئی ہے اور ہمارے کاروبار بند کر دےئے گئے ہیں جو معاوضہ دیا گیا ہے اس سے تو ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے اس حوالے سے جب ایل ڈی اے افسران سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا میٹرو ٹرین منصوبہ کے متاثرین کو پہلے منصوبوں کی نسبت بہت زیادہ معاوضہ دیا گیا ہے دو سال پہلے ملتان روڑمنصوبے پر کمرشل ریٹ7لاکھ فی مرلہ دیا گیا ہے جبکہ میٹرو بس منصوبہ پر زیادہ سے زیادہ9لاکھ فی مرلہ ریٹ دیا گیا تھا اور اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ کے لئے 20لاکھ فی مرلہ ریٹ رکھا گیا ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -