اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ :معاوضہ ادائیگی پیکیج

اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ :معاوضہ ادائیگی پیکیج
اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ :معاوضہ ادائیگی پیکیج

  

آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں بڑھتے ہوئے ٹرانسپورٹ مسائل کے خاتمے کے لئے بین الاقوامی سفری سہولیات سے مزیّن لاہور اورنج لائن میٹرو ٹرین کی تعمیر کامنصوبہ تیزی سے آگے بڑھ رہاہے۔ میٹرو بس سروس کی لاہور اور راولپنڈی میں شاندار کامیابی کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے شہریوں کو باکفایت، تیزرفتار اور محفوظ ٹرانسپورٹ کی سہولیات کی فراہمی کے ویژن کو آگے بڑھاتے ہوئے لاہور اورنج لائن میٹروٹرین کا منصوبہ شروع کیا جس نے صوبائی دارلحکومت کے ان گنجان آباد علاقوں کا احاطہ کیا جہاں لوگوں کو بسوں، ویگنوں اور چنگ چی جیسی لوکل ٹرانسپورٹ پر دھکے کھانے پڑتے تھے ،قیمتی وقت کا ضیاع ہوتا تھا اور عزت نفس بھی متاثر ہوتی تھی۔ میٹرو بس منصوبوں پر تنقید کرنے والے آج دیکھتے ہیں کہ اس سروس سے لاہور اور راولپنڈی میں روزانہ لاکھوں افراد قلیل وقت میں آرام دہ اور تیزرفتار سفری سہولیات سے استفادہ کر رہے ہیں۔ اگر یہ منصوبے ناکام ہوتے تو خیبرپختونخوا اور سندھ کی حکومتیں بھی حکومت پنجاب کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے شہریوں کے لئے میٹرو بس کے منصوبے شروع نہ کرتیں۔ تنقید برائے تنقید بہت آسان کام ہے ، تنقید برائے تعمیر سے کسی کو انکار نہیں لیکن ہمارے بعض ناعاقبت اندیش سیاسی عناصر اپنی دکانداری چمکانے کے لئے ماضی میں بھی میٹرو بس منصوبے پر تنقید کرتے رہے اور آج بھی لاہور میٹرو اورنج لائن ٹرین کے منصوبے پر بے جااحتجاج کی سیاست کے ذریعے پوائنٹ سکورنگ کرنے کی ناکام کوشش میں لگے ہیں۔لاہور میٹرو اورنج لائن ٹرین منصوبے پر احتجاج کرنے والوں کے تمام جواز حکومت پنجاب نے ختم کر دیئے ہیں۔

اس منصوبے کے راستے میں آنے والی جائیدادوں کے مالکان کو معاوضے کی ادائیگی تھا لیکن وزیراعلیٰ محمدشہباز شریف نے احتجاج سے قبل ہی متاثرین کو ادائیگی کے لئے اقدامات کی ہدایت کر دی تھی اور گذشتہ دنوں انہوں نے 950کنال اراضی ایکوائر کرنے کے لئے 20ارب روپے بطور معاوضہ ادا کرنے کا خصوصی پیکیج کی منظوری بھی دے دی۔ اورنج لائن منصوبے کے لئے دیا جانے والا معاوضہ اس وقت زمین کے موجودہ سرکاری ریٹ سے کہیں زیادہ ہے۔بعض مقامات پر تواراضی کا معاوضہ 20لاکھ روپے فی مرلہ بھی ادا کیا جارہا ہے جبکہ معاوضے کی ادائیگی کے لئے وزیراعلیٰ محمدشہباز شریف کی ہدایت پر لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تحت ون ونڈو آپریشن شروع کرکے خصوصی انتظامات بھی عمل میں لائے گئے ہیں۔حکومت کے ان اقدامات کے بعد عالمی معیار کی اس باوقار سفری سہولت کو متنازعہ بنانے کی تمام کوششیں دم توڑتی جا رہی ہیں اور اب تک 6دنوں میں سوا چار ارب روپے معاوضے کی ادائیگی کی جاچکی ہے۔معاوضے کی ادائیگی اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے منظورشدہ ایویلیوایٹرزکے تخمینے کی بنیاد پر مارکیٹ ریٹ سے بھی بہتر کی جا رہی ہے۔ مالکان کو ان کی اراضی پر تعمیرشدہ عمارت کا معاوضہ، کاروبار کے نقصان کا ازالہ اور رہائش کی منتقلی کے اخراجات کے طور پر بھی اضافی رقم ادا کی جا رہی ہے۔

اس مقصد کے لئے ایل ڈی اے ہیڈآفس جوہرٹاؤن، انجینئرنگ یونیورسٹی، گورنمنٹ کالج کرکٹ گراؤنڈ اور ٹھوکر نیاز بیگ چوک میں ون ونڈو مراکز قائم کئے گئے ہیں جہاں تمام متعلقہ محکموں اور بینکوں کا عملہ موقع پر موجود ہیں تاکہ معاوضہ حاصل کرنے والوں کو مختلف دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔اس کے علاوہ ایسے اقدامات کئے گئے ہیں کہ صرف ایک دن میں اس ادائیگی کو بینکوں سے بھی یقینی بنایا جائے۔ اب تک 1100سے زائد مالکان کو ادائیگی کی جاچکی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب معاوضے کے ادائیگی کے کام کی ذاتی طور پر نگرانی کر رہے ہیں اور وڈیو لنک کے ذریعے بھی لگائے گئے تمام کیمپوں کی مانیٹرنگ بھی کر رہے ہیں۔ انہوں نے گذشتہ دنوں انجینئرنگ یونیورسٹی میں قائم ون ونڈو کا دورہ کرکے ادائیگیوں کی صورتحال کا ذاتی طور پر جائزہ بھی لیا۔اس کے علاوہ وزیراعلیٰ نے صوبائی وزراء بلال یاسین، مجتبیٰ شجاع الرحمن، رانا مشہود احمد اور اراکین اسمبلی کی بھی باقاعدہ ڈیوٹیاں لگائی ہیں جو تمام دن ان کیمپوں میں موجود رہ کے اور معاوضہ وصول کرنے کے لئے آنے والے افراد کی ہرممکن مدد کرتے ہیں۔ ان تمام اقدامات کے بعد معصوم شہریوں کو احتجاج اور توڑپھوڑپر اکسانے والے سماج دشمن عناصرکی تمام کوششیں بے سود ثابت ہوں گی کیونکہ لاہور میٹرو اورنج لائن ٹرین کا منصوبہ انہی شہریوں کے لئے ہے نہ کہ اشرافیہ کے لئے۔ریپڈٹرانزٹ سسٹم جسے میٹرو، سب وے یا انڈر گراؤنڈ ٹرانسپورٹ سسٹم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے،دنیا بھر کے گنجان آباد شہروں میں بے حد سراہا جاتا ہے۔

دنیا کا پہلا ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم 1863ء میں تعمیر ہوا اور آج گریٹر ٹوکیو ریل سسٹم دنیا کا سب سے بڑا ریپڈ ٹرانزٹ نیٹ ورک ہے جس پر 40ملین سے زائد مسافر روزانہ سفر کرتے ہیں۔اسی طرح نیویارک سب وے دنیا کا سب سے طویل(842میل) ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم ہے۔ اس کے علاوہ سیول، ماسکو، بیجنگ، شنگھائی، دہلی سمیت دنیا کے دیگر میٹرو پولیٹن شہروں میں ریپڈٹرانزٹ سسٹم آرام دہ اور تیزرفتارسفر کا ترجیحی ذریعہ ہے توآخر ہم کب تک سفر کے ان جدید ذرائع سے منہ موڑے رکھیں گے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر پاکستان میں میٹرو ٹرین اور میٹرو بس جیسے منصوبوں کی تعمیر ناگزیر ہوچکی ہے۔ میٹرو ٹرین کا ٹرانسپورٹ کے دیگر ذرائع کے مقابلے میں اچھا سیفٹی ریکارڈ ہے اور قابل عمل ہونے کے اعتبار سے ایلیویٹڈ ریلوے دنیابھر میں ریپڈ ٹرانزٹ کا نسبتاً سستا اور آسان ترین منصوبہ ہے۔ لاہور میٹرو ٹرین منصوبے کا خیال 1991ء میں پیش کیاگیا تھا تاہم محفوظ فنڈنگ نہ ہونے کی وجہ سے اس منصوبے کی جگہ موجودہ حکومت نے زیادہ قابل عمل اور نسبتاً سستے لاہور میٹرو بس سروس کے منصوبے کا آغاز کیا جو 2013ء میں مکمل ہوا جس کے بعد اس کا دائرہ کار راولپنڈی اور ملتان تک بڑھایاگیا ۔

حکومت پنجاب نے صوبائی دارلحکومت کے دیگر گنجان آباد علاقوں کو بھی ریپڈٹرانزٹ سسٹم سے منسلک کرنے کے لئے چین کے تعاون سے 1.6بلین ڈالر کی لاگت سے لاہور اورنج لائن میٹرو ٹرین کا منصوبہ شروع کیا ہے جس کی لاگت دنیابھر کے ایسے ٹرانزٹ منصوبوں سے کہیں کم ہے۔ لاہور اورنج لائن 27.1کلومیٹر طویل روٹ ہے جس کا 25.4کلومیٹر حصہ ایلیویٹڈ یعنی ستونوں پر قائم ہوگا، یہ منصوبہ 2018ء میں مکمل ہوگا۔ اورنج لائن میٹرو پر روزانہ اڑھائی سے پونے تین لاکھ مسافر سفر کریں گے اور اس گنجائش کو 2025ء تک بڑھاکر 5لاکھ مسافروں تک وسعت دی جائے گی۔منصوبے کے اگلے مرحلے میں بلیو لائن اور پرپل لائن کے منصوبے بھی ہیں جن کا دائرہ کار ٹاؤن شپ اور ایئرپورٹ تک ہوگا۔میٹرو ٹرین روٹ کے27کلومیٹر پرمشتمل یہ فاصلہ 45منٹ میں طے ہوگاجبکہ ٹرین کے روٹ میں علی ٹاؤن رائے ونڈ روڈ سے ڈیرہ گجراں جی ٹی روڈ کے مختلف گنجان آباد علاقے شامل ہوں گے۔لاہور اورنج لائن میٹرو ٹرین سے انفراسٹرکچر اور پبلک ٹرانسپورٹ کی دنیا میں انقلاب برپا ہوگا۔ شہریوں کی عزت نفس بحال اور ان کا شخصی وقار نمایاں ہوگا۔ لاکھوں ملازمین ، طالب علم، خواتین اور بچے محفوظ اور باوقار سفرکرکے بروقت اپنی منزل پر پہنچ سکیں گے۔ منصوبے کے لئے حکومت پنجاب اور ایگزم بنک کے درمیان معاہدہ طے پاچکا ہے۔ اس کی سوفیصد لاگت سافٹ لون کی شکل میں چین برداشت کررہا ہے۔میٹروٹرین کو پہلے پانچ سال تک چین کا عملہ آپریٹ کرے گا۔بعدازاں پاکستانی عملہ میٹروٹرین کنٹرول کرے گا۔

اس منصوبے میں ایک ڈپو، ایک سٹیبلنگ یارڈ، 24اسٹیشنز ایلیویٹڈ اور2انڈرگراؤنڈ ہوں گے، کل 27ٹرینیں اور ہر ٹرین کی 5بوگیاں ہوں گی۔یہ ٹرین برقی توانائی سے چلے گی جس کے لئے 2گرڈ اسٹیشن بھی بنائے جا رہے ہیں۔لاہور کی تاریخی عمارتوں کی حفاظت کے لئے ماہرین آثار قدیمہ کی رہنمائی میں تمام قانونی تقاضے پورے کئے گئے ہیں تاکہ صوبائی دارلحکومت کی تاریخی ثقافت اور تعمیراتی حسن کا تحفظ ہرلحاظ سے یقینی بنایا جاسکے۔ ٹرین کی رفتار 80کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم رکھی گئی ہے تاکہ کسی تاریخی عمارت کو کوئی نقصان نہ پہنچ سکے۔ بعض عناصر کی طرف سے لاہور کی تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے حوالے سے ظاہر کئے جانے والے خدشات حکومت پنجاب کے ان اقدامات کے بعد اب بے جا ثابت ہو رہے ہیں۔امید کی جاتی ہے کہ لاہور کو ترقی یافتہ شہروں کی صف میں کھڑا کرنے اور شہریوں کو باعزت سفری سہولیات فراہم کرنے کے لئے شروع کیا جانے والا یہ منصوبہ وقت پر مکمل ہوگا اور میٹرو بس سروس کی طرح لاکھوں شہریوں کو بین الاقوامی معیار کی سفری سہولیات فراہم کرے گا۔

مزید :

کالم -