اورنج لائن میٹرو ٹرین۔۔۔ایکوائر شدہ اراضی کا بہترین معاوضہ

اورنج لائن میٹرو ٹرین۔۔۔ایکوائر شدہ اراضی کا بہترین معاوضہ

  

لاہور پاکستان کادل اور صوبائی دارلحکومت ہے جس کی آبادی ایک کروڑ سے زائد ہے ۔ یہ پاکستان کا دوسرا گنجان آباد شہر ہے ، جہاں ملک بھر سے لوگ اپنے عزیز و اقارب سے ملنے ملانے ‘ سماجی تعلقات نبھانے ‘ تعلیم حاصل کرنے ‘ تلاش معاش و روزگار اورکاروبار وغیرہ کے لئے آتے ہیں، لہٰذا یہاں بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے منصوبے ترجیحی بنیادوں پر شروع کرنا نہ صرف اس شہر اور شہریوں کی بلکہ ایک قومی ضرورت ہے۔لاہور میں شہریوں کے لئے ماس ٹرانزٹ سسٹم کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے 1991ء میں پہلی مرتبہ تحقیقاتی سروے رپورٹ مرتب کی گئی بعد ازاں 1998ء اور پھر 2006ء میں بین الاقومی اداروں نے اپنی رپورٹوں میں اس بات پر زور دیا کہ تیزی سے پھیلتے ہوئے لاہور شہر کے مختلف علاقوں کو ملانے اور شہریوں کو آمدورفت کی معیاری سہولت مہیا کرنے کے لئے ماس ٹرانزٹ سسٹم ناگزیر ہے۔ان اداروں نے شہر میں ٹرانسپورٹ کے چار روٹ گرین لائن ‘ اورنج لائن ‘ بلیو لائن اور پرپل لائن تعمیر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ چنانچہ اسی ضرورت کے پیش نظر 2013ء میں گرین لائن پر کام مکمل کیا گیا،جس پر آج گجومتہ سے شاہدرہ تک 27کلومیٹر طویل اور 64بسوں پر مشتمل میٹرو بس کامیابی سے رواں دواں ہے، جس سے روزانہ ڈیڑھ لاکھ افراد سفر کرتے ہیں۔

اسی سلسلے میں ایک قدم اور آگے بڑھاتے ہوئے لاہور میں ان دنوں پاکستان میں اپنی نوعیت کے پہلے میٹرو ٹرین منصوبے لاہور اورنج لائن میٹرو ٹرین کا تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے۔ ایک کھرب 65ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا جانے والا یہ منصوبہ نہ صرف لاہور کے شہریوں کی زندگی میں خوشگوار انقلابی تبدیلی پیدا کرے گا، بلکہ مجموعی ملکی ترقی کا نقیب اور گیم چینجر بھی ثابت ہو گا۔اس ٹرین کا ٹریک شہر کے مصروف اور گنجان آباد علاقوں سے گزرتا ہے جس سے ابتدا میں روزانہ اڑھائی لاکھ سے زیادہ شہریوں کو آمدرفت کی جدید ‘ باوقار اور آرام دہ سفری سہولت حاصل ہو گی اور علی ٹاؤن رائے ونڈ روڈ سے ڈیرہ گجراں جی ٹی روڈ تک عام طور پر دو سے اڑھائی گھنٹے میں طے ہونے والا 27کلومیٹر فاصلہ صرف 45منٹ میں طے ہو گا۔لاہور اورنج لائن میٹرو ٹرین کے لئے950کنال اراضی ایکوائر کی جا رہی ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے لاہور اورنج لائن میٹرو ٹرین کے لئے حاصل کی جانے والی اراضی کا معاوضہ اداکرنے کے لئے فراخدلانہ پیکیج کی منظوری دی ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔لاہور اورنج لائن میٹروٹرین پراجیکٹ پاکستان کی تاریخ کا پہلا منصوبہ ہے، جس کے لئے حاصل کی جانے والی اراضی کے معاوضے کا تخمینہ لگانے کے لئے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے منظور شدہ ایولیوایٹرز کی خدمات حاصل کی گئیں اور ان کے تخمینے کی بنیاد پراس اراضی کے معاوضے کا ریٹ شہر میں اس سے پہلے مکمل کئے جانے والے ترقیاتی منصوبوں کے دوران حاصل کی جانے وا لی اراضی سے تقریباًدو گنا کر دیا ہے۔

اس سے پہلے ترقیاتی منصوبوں کے لئے جتنی بھی اراضی ایکوائر کی جاتی تھی اس کے مالکان کو سرکاری ریٹ پرمعاوضہ ادا کیا جاتا تھا یا پھر یہ معاوضہ سرکاری ریٹ سے کچھ زائد ہوتا تھا۔اورنج لائن منصوبے کے لئے دیا جانے والا معاوضہ سرکاری ریٹ سے کہیں زیادہ ہے ۔مثال کے طور پر سال 2010ء کے دوران ملتان روڈ کی تعمیر و توسیع کا منصوبہ مکمل کیا گیا تھا ، اس موقع پراراضی کا معاوضہ 6سے7لاکھ روپے فی مرلہ کے حساب سے ادا کیاگیا۔بعد ازاں 2012ء میں ترقیاتی منصوبے کے لئے یہاں 9لاکھ روپے فی مرلہ ادا کئے گئے لیکن اب صرف چارسال بعد یہاں اراضی کا معاوضہ 20لاکھ روپے فی مرلہ ادا کیا جا رہا ہے ۔ دو سال پہلے مکمل کی جانے والی میٹرو بس کے منصوبے کے لئے اراضی حاصل کرنے کے لئے اڑھائی ارب روپے خرچ کئے گئے تھے، جبکہ اورنج لائن کے لئے حاصل کی جانے والی اراضی کے مالکان کو معاوضہ دینے کے لئے 20ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ زمین کی مالیت کے علاوہ ان مالکان کو ایکوزیشن چارجز کے طور پر 15فیصد رقم اضافی طور پر ادا کی جارہی ہے ۔اس کے علاوہ انہیں اپنی اراضی پر تعمیر شدہ عمارت کا معاوضہ‘ کاروبار کے نقصان کا ازالہ اور نقل مکانی کے معاوضے کے طور پر بھی لاکھوں روپے اضافی طور پر ادا کئے جا رہے ہیں۔

معاوضہ حاصل کرنے والوں کی سہولت اور انہیں کسی مشکل کے بغیر معاوضہ ادا کرنے کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پرخصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ا س مقصد کے لئے خصوصی ون ونڈو آپریشن شروع کیا ہے جو بدستورجاری ہے۔ ا س مقصد کے لئے انجینئرنگ یونیورسٹی جی ٹی روڈ نزد گیٹ نمبر 6 ، گورنمنٹ کالج کرکٹ گراؤنڈ نزد پی اینڈ ڈی بلڈنگ بالمقابل آئی جی آفس ‘ ٹھوکر نیاز بیگ چوک اور ایل ڈی اے ہیڈ آفس جوہر ٹاؤن میں قائم خصوصی کیمپوں میں تمام متعلقہ محکموں بشمول محکمہ ریونیو اور محکمہ خزانہ اور بینکوں کا عملہ تعینات کیا گیا ہے تا کہ معاوضہ حاصل کرنے والوں کو نہ تو مختلف دفتروں کے چکر کاٹنے پڑیں اور نہ ہی ان کی درخواستوں پر بلا وجہ اعتراضات لگائے جا سکیں۔ معاوضہ وصول کرنے کے لئے ان کیمپوں میں آنے والوں کے لئے کرسیوں‘ چائے اور کھانے کا بھی انتظام کیا گیا اور انہیں فری ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی مہیا کی گئی۔ اور نج لائن میٹرو ٹرین کے لئے حاصل کی جانے والی جائیدادوں کا معاوضہ ادا کرنے کے لئے چھے دنوں کے دوران ابھی تک سوا چار ارب روپے سے زائد رقم ادا کی جاچکی ہے ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے نہ صرف معاوضے کے لئے فراخدلانہ پیکیج دیا ہے،بلکہ صرف ایک دن میں اس کی ادائیگی کو بھی یقینی بنایا ہے ، ابھی تک گیارہ سوسے زائد مالکان کو ادائیگی کی جاچکی ہے۔ پاکستان میں پہلی مرتبہ ون ونڈو آپریشن کے ذریعے مالکان کو معاوضے کا واؤچراُسی دن مل رہا ہے جسے بینک میں جمع کروانے کے بعد 24گھنٹے کے اندر رقم بھی منتقل کر دی جاتی ہے۔ اس مقصد کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب نے سٹیٹ بینک سے خصوصی اقدامات کروائے ہیں۔ یہ انتظام کسی معجزے سے کم نہیں، کیونکہ کراس چیک کی کلیرنس میں بھی کم از کم دو دن لگتے ہیں۔

اکثر جگہوں پر ان جائیدادوں کا معاوضہ مارکیٹ ریٹ سے بھی بہتر دیا جا رہا ہے۔یہاں تک کہ شہر کے مختلف علاقوں میں کمرشل اراضی کا معاوضہ 35لاکھ روپے فی مرلہ تک دیا جا رہا ہے۔ مختلف سرکاری محکموں کی زمین پر گزشتہ 50یا 60سال سے مقیم غریب لوگوں یا لیز پر قیام پذیر افراد جنہیں مالکانہ حقوق نہیں دئیے جا سکتے تھے مثلاً بنگالی بلڈنگ اور مہا راجہ بلڈنگ، ان کے مکینوں کے لئے خصوصی پیکیج دیا گیا ہے ۔ ایسی کئی جگہوں پر ایک ایک کمرے میں 10افراد رہائش پذیر تھے ، ایسے خاندانوں کو10لاکھ روپے فی گھرانہ کے حساب سے خصوصی امداد دی جا رہی ہے ۔ اس طرح مالکان کو ان کی جائیداد کے معاوضے کے طور پر خطیر رقم اد ا کی جا رہی ہے۔ چنانچہ ہر ممکن کوشش کی گئی ہے کہ لوگوں کے ساتھ کوئی زیادتی یا ان کا نقصان نہ ہو اور انہیں ہر ممکن مدد اور تعاون فراہم کیا جائے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف معاوضے کی ادئیگی کے کام کی ذاتی طور پر نگرانی کر رہے ہیں اور ویڈیو لنک کے ذریعے تینوں کیمپوں کی لمحہ بہ لمحہ صورت حال سے باخبر ہیں۔گزشتہ شب انہوں نے پرٹوکو ل کے بغیر ہی انجینئرنگ یونیورسٹی میں قا ئم ون ونڈو کیمپ کا دورہ کر کے ادائیگیوں کی صورت حال کا ذاتی طور پر جائزہ لیا۔اس کے علاوہ صوبائی وزرا اور ارکان اسمبلی کی بھی باقاعدہ ڈیوٹیاں لگائی گئی ہیں جو تمام دن ان کیمپوں میں موجود رہتے ہیں اور معاوضہ وصول کرنے کے لئے آنے والوں کی ہر ممکن مدد کرتے ہیں۔

مزید :

کالم -