مصروف ہفتہ، یوم یکجہتی کشمیر منایا گیا، آزادی کشمیر کے لئے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کا مطالبہ

مصروف ہفتہ، یوم یکجہتی کشمیر منایا گیا، آزادی کشمیر کے لئے اقوام متحدہ کی ...

  

لاہور سے چودھری خادم حسین

ہفتہ رفتہ بہت ہنگامہ خیز تھا، اسی کے دوران یوم یکجہتی کشمیر منایا گیا اور پی آئی اے ملازمین کی ہڑتال کے باعث فلائٹ آپریشن معطل رہا، مسافر پریشان ہوئے اور نجی ایئر لائن والوں نے موج اڑائی اور کمائی کی، معمول کے مطابق جیل روڈ سے لبرٹی چوک تک کا سگنل فری منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل طے کر رہا ہے جبکہ میٹرو اورنج لائن ٹرین کی تعمیر سے شہریوں کے مسائل بھی بدستور موجود ہیں، البتہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی شروع کر دی گئی ہے۔

بات کرتے ہیں یوم یکجہتی کشمیر کی جو ہر سال 5فروری کو منایا جاتا ہے۔ اس مرتبہ یہ یوم جمعہ کو تھا چنانچہ سرکاری چھٹی تھی اور نجی کاروبار بھی بند کیا گیا۔ جمعہ کے بعد ہفتہ اور اتوار بھی سرکاری چھٹی ہوتی ہے یوں تین روز مل گئے تو ملازمین خصوصاً دوسرے شہروں والوں نے یہ چھٹیاں اپنے آبائی علاقوں میں گزاریں۔ جمعہ کو یوم یکجہتی کشمیر پر بہت سی تقریبات ہوئیں اور ریلیاں بھی نکالی گئیں۔ جماعت الدعوۃ کے جلسے اور ریلی میں دوسری جماعتوں کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی۔ جماعت اسلامی نے اپنے طور پر یہ یوم منایا، نظریہ پاکستان فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام بھی تقریب منعقد ہوئی۔ لاہور میں بھی پورے ملک کی طرح ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کے علاوہ شاہراہ قائداعظم پر ہاتھوں کی زنجیر بنائی گئی۔ تقریبات میں مقررین حافظ سعید، امیر جماعت اسلامی سراج الحق اور کشمیری رہنماؤں نے بھارتی مظالم کی پرزور مذمت کی اور کہا کہ اقوام متحدہ بھی اپنی قرردادوں پر عمل کرانے میں ناکام رہی یوں یہ ادارہ بھی غاصب کا ہی ساتھی ثابت ہوا ہے مقبوضہ کشمیر کے حریت پسندوں کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور یقین دلایا گیا کہ پاکستان کا بچہ بچہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کے ساتھ ہے اور وقت آیا تو کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔

پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ ہفتہ رفتہ میں ملازمین کی ہڑتال جاری تھی اور فلائٹ آپریشن بھی معطل تھا ملازمین سراپا احتجاج تھے اور ان کے مظاہرے بھی جاری تھے۔ فلائٹ آپریشن معطل رہنے کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا تھا، ہوائی سفر نہ ملنے کے باعث مسافروں نے ریلوے کا رخ کر لیا تھا، چنانچہ کراچی اور پشاور جانے والے مسافر ریلوے سٹیشن پہنچے ریلوے کی طرف سے زیادہ مسافروں کو ان کی منزل تک پہنچانے کے لئے میل ٹرینوں میں بوگیوں کا اضافہ کیا گیا اور ایسے مسافروں کوسہولت پہنچانے کے خصوصی انتظامات کئے گئے، خود وزیرریلوے خواجہ سعد رفیق نے نگرانی کی اور ریلوے سٹیشن کا معائنہ بھی کیا۔ مسافروں کا ردعمل تھا کہ ان کو ٹھیک سے اطلاع بھی نہیں پہنچائی جا رہی تھی اور وہ سب گومگو کی حالت میں ہیں کہ اللہ جانے کب مکمل بحالی ہو اور سفر آسان ہو جائے۔ ان سطور کے تحریر ہونے تک فلائٹ آپریشن میں کافی بہتری آئی کہ مجلس عمل کی اپیل پر کہ عمرہ زائرین کی سہولت کے لئے تعاون کیا جائے گا ان سے بھی مذاکرات کئے جائیں احتجاج اب بھی جاری ہے گوشدت میں کمی ہے۔ ادھر اب مذاکرات کا بھی امکان بہت کم رہ گیا ہے۔ حکومت اس جدوجہد کو بلیک میلنگ قرار دیتی ہے۔

ادھر جماعت اسلامی نے اس مسئلہ پر ایک کل جماعتی کانفرنس کا اہتمام کیا جس میں تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے حصہ لیا، لیاقت بلوچ کی صدارت میں ہونے والی کانفرنس میں ملازمین کے مطالبات کی حمایت کی گئی۔

شہر میں ٹریفک کا نظام درست ہونے کی بجائے مزید ابتر ہو گیا اور مصروف اوقات کار میں ٹریفک جام معمول کی بات بن گئی ہے۔ حکام کی طرف سے بہت دعوے کئے گئے کہ ٹریفک کے لئے خصوصی انتظامات کئے گئے لیکن کوئی فائدہ نظر نہیں آیا اب ان حضرات نے اشتہارات کے ذریعے خود ہی یہ بتا دیا کہ ترقیاتی کاموں کی وجہ سے ٹریفک کا بوجھ ہے جسے درست رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم یہ کوشش بڑی حد تک ناکام ہے کہ وارڈن حضرات شاہراہ قائداعظم پر تو توجہ دیتے ہیں، اس کے باوجود اس سڑک پر بوجھ زیادہ ہونے کی وجہ سے ٹریفک جوں کی رفتار سے چلتی اور جب فیصل چوک میں کوئی احتجاج ہو تو نہ صرف یہاں ٹریفک منجمد ہوتی ہے بلکہ نواحی سڑکوں پر بھی بدانتظامی نظر آتی ہے۔ شہر کے دوسرے حصوں میں ٹریفک وارڈن چالان کرنے پر مامور ہیں ان کو ٹریفک کی پرواہ نہیں وہ ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر خلاف ورزی والوں کے چالان کرتے ہیں۔

جہاں تک ترقیاتی کاموں کا تعلق ہے تو قرطبہ چوک سے براستہ جیل روڈ ،مین بلیوارڈ گلبرگ، لبرٹی چوک تک سگنل فری منصوبے کا کام تکمیل کے آخری مراحل میں ہے اس کی وجہ سے بھی مسائل ہیں حتیٰ کہ کام کو جلد مکمل کرنے کے حوالے سے معیار کی بھی جانچ نہیں کی گئی اور غیر معیاری کام بھی ہوا۔ حتیٰ کہ کارپٹ مکسچر خراب ڈالا گیا۔ اسے قواعد کے مطابق پریس نہیں کیا گیا اور اس کی سطح بھی مکمل طور پر ہموار نہیں کہ ایک تہ کے ساتھ جب دوسری تہ بچھائی گئی دونوں کے ملاپ والا مقام مساوی سطح کا نہیں اونچا نیچا رہا۔

دوسری طرف میٹرو اورنج ٹرین کے متاثرین نے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔حکومت پنجاب نے متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی شروع کر رکھی ہے۔ مختص 20 ارب روپے میں سے اب تک قریباً پانچ ارب روپے تقسیم کئے جا چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ خود نگرانی کر رہے ہیں، یہ امر اپنی جگہ تاہم تعمیر کا کام پورے روٹ پر شروع کر دینے سے آلودگی کے مسائل کے علاوہ روٹ کے اردگرد کے رہائشیوں کو بہت دشواری ہے۔ اس تعمیر کے باعث ضروری سروسز معطل ہوئیں تو پوری طرح بحال نہیں ہو سکیں۔ علاوہ ازیں گرد کی وجہ سے شہر میں امراض بڑھتے جا رہے ہیں لیکن گرد کا کوئی انتظام نہیں کیا جا رہا ہے دو سال کی ریکارڈ مدت میں تعمیر کی تکمیل ریکارڈ ضرور بنا دے گی لیکن جن مسائل سے شہری دوچار ہیں ان کو حل کرنے کا کوئی موثر انتظام نہیں۔

پنجاب اسمبلی نے مشترکہ طور پر کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کی قرارداد منظور کرنے کے علاوہ سٹی 42 ٹیلی ویژن کے دفتر پر فائرنگ کی بھی مذمت اور ذمہ داروں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا حزب اختلاف کے اراکین نے پی آئی اے ملازمین کی جدوجہد پر ان کا ساتھ دینے کا یقین دلایا اور ان کے حق میں آواز بھی بلند کی۔

صحافتی تنظیموں (پرنٹ + الیکٹرانک) اور لاہور پریس کلب نے فائرنگ کے واقع کی مذمت کی اور فیصل چوک میں احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -