اللہ اللہ کرکے فلائٹ آپریشن جزوی طور پر بحال ہوا، ملازمین کا احتجاج جاری

اللہ اللہ کرکے فلائٹ آپریشن جزوی طور پر بحال ہوا، ملازمین کا احتجاج جاری

  

اسلام آباد سے ملک الیاس:

خداخدا کرکے کئی روزسے جاری پی آئی اے بحران نے کروٹ بدلی اور فلائیٹ آپریشن جزوی طور پر بحال ہوا،ہڑتالی ملازمین ایک ایک دودوکرکے اپنی ڈیوٹیوں پر آنا شروع ہوگئے ہیں،زمہ داریاں اد انہ کرنیوالے ملازمین کونوٹسزبھی دیے جارہے ہیں،اس سے یہ معلوم ہورہا ہے کہ حکومت نے احتجاج کرنیوالوں میں رخنہ ڈال دیا ہے جس کی وجہ سے پی آئی اے میں جاری ہڑتال کی شدت بھی کم ہوتی جارہی ہے جائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش پر بھی حکومت اب سرد رویہ اختیار کیے ہوئے ہے ساتھ ہی ساتھ بینظیر انٹرنیشنل ائیرپورٹ اسلام آباد پر پی آئی اے ملازمین کی جانب سے کیے جانیوالے احتجاج سے نمٹنے کیلئے حکومت نے ائیرپورٹ کے اطراف میں دفعہ144نافذ کررکھی ہے ،ائیرپورٹ کے اطراف پولیس کی بھاری نفری کوتعینات کردیاگیا پولیس کو حکم دیا گیا ہے کہ ایئرپورٹ کی حدود میں کسی بھی قسم کا احتجاج اور دھرنا دینے والوں کو حراست میں لے لیا جائے،دوسری جانب پی آئی اے ملازمین نے بینظیر ایئرپورٹ پر احتجاجی کیمپ میں دھرنا دیئے رکھا اور پرامن احتجاج کرتے رہے،جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اراکین کی آمدپراحتجاج شدت اختیار کرجاتا ہے کئی ملازمین کو مشتعل ہونے پر گرفتار کیا گیا بعدازاں دیگر ملازمین کے احتجاج پر انہیں چھوڑدیا جاتا رہا،اس طرح آنکھ مچولی کاسلسلہ جاری ہے،ادھر وزیراعظم محمدنوازشریف نے پی آئی اے کے فلائٹ آپریشن کی بحالی پر اطمینان کا اظہار کیااور فلائٹ آپریشن کی بحالی کیلئے ہونے والی کوششیں کوقابل ستائش قراردیا ہے ، انکا کہنا تھا کہ قومی ادارے کی بحالی کیلئے اقدامات جاری رکھیں گے ،حکومت اس حوالے سے کسی دباؤ میں نہیں آئے گی، ناکامی سڑکوں پر آنے والوں کا مقدر ہے۔پی آئی اے حالیہ بحران کے حوالے سے حکومت نے کسی دباؤ میں نہ آنیکا فیصلہ کیا ہے ۔

دوسری جانب اب تک پی آئی اے کی مجوزہ نجکاری کے خلاف ملازمین کی جانب سے شدید احتجاج اور فلائٹ آپریشن کی بندش کے باعث ادارے کو اب تک اربوں روپے کا نقصان ہوچکا ہے جبکہ جزوی طور پر بحال ہونے والا پی آئی اے فلائٹ آپریشن بھی جاری ہے حالیہ بحران میں عام مسافروں کو شدید مشکلات کاسامنا کرنا پڑا ہے خاص طورپر کر عمرہ زائرین کی مشکلات کا معاملہ سرفہرست رہا ہے۔

راولپنڈی میں حالیہ بلدیاتی الیکشنوں میں مسلم لیگ ن نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی اس کا اگلا مرحلہ میئراورڈپٹی میئر کے الیکشن ہیں اس حوالے سے مسلم لیگ ن کی تین رکنی کمیٹی نے راولپنڈی کے مئیر اور ڈپٹی مئیر کے لیے انٹرویوز مکمل کر لئے،تین رکنی کمیٹی میں رکن قومی اسمبلی سعود عزیز ،عبدالسمیع اور رکن پنجاب اسمبلی منشاء بٹ شامل تھے ۔ مئیر کیلئے انٹر ویوز دینے والے پانچ امیدواروں میں سردار نسیم اور شیخ ارسلان مضبوط ترین امیدواران کے طورپرسامنے آئے ہیں اسی طرح ڈپٹی مئیرز کیلئے بارہ امیدواروں نے انٹرویوز دئیے جن میں سے خالد سعید بٹ ،عابد عباسی اور راجہ بشارت مضبوط ترین امیدواران سمجھے جارہے ہیں ،راولپنڈی کے سیاسی حلقوں کے مطابق راولپنڈی کے میئر کے طور پر قرعہ فال سردارنسیم کے نام نکلنے کے زیادہ امکانات ہیں،انٹرویوز میں امیدواروں سے ان کی پارٹی وابستگی کے بارے میں سوالات کئے گئے کہ وہ کب سے مسلم لیگ ن کے ساتھ ہیں ،اس کے علاوہ امیدواروں سے یہ بھی پوچھا گیا کہ ان کے خلاف کسی قسم کے مقدمات تو نہیں ہیں ،امیدواران نے اس موقع پر خیالات کااظہارکیا کہ راولپنڈی کے عوام کی خدمت ہمارا مشن ہے اور ہم اپنے قائدین وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف اور قائد پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی ولولہ انگیز قیادت میں عوام کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے ہم اپنی پارٹی کے ساتھ ایک کارکن کے طور پر ہیں ہمیں جو بھی ذمہ داری دی جائیگی ہم وہ ادا کریں گے پارٹی قائدین جو بھی فیصلہ کریں گے اس پر مسلم لیگ ن کا ہر فرد آمین کہے گا ، راولپنڈی میاں محمد نواز شریف اور میاں محمدشہباز شریف کے چاہنے والوں کا گڑھ ہے اور ان کی قیادت میں توانا پاکستان کا خواب پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی ہدایت پر غیر مجاز افسران کے ساتھ تعینات فرنٹیئر کانسٹیبلری(آیف سی) اور اسلام آباد پولیس کے250 کے قریب اہلکاراپنی ڈیوٹیوں پر واپس آگئے، باقی ماندہ اہلکاروں کو ایک ہفتے میں اپنی اصل ڈیوٹیوں پر رپورٹ نہ کرنے کی صورت میں نوکری سے برخاست کر نے کی ہدایات جاری کر دی گئیں۔ پیر کو ترجمان وزارت داخلہ کے مطابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی ہدایت پر غیر مجاز افسران کے ساتھ تعینات فرنٹیئر کانسٹیبلری(آیف سی) اور اسلام آباد پولیس کے250 کے قریب اہلکاراپنی ڈیوٹیوں پر واپس آگئے ہیں۔وزیر داخلہ نے باقی ماندہ اہلکاروں کو ایک ہفتے میں اپنی اصل ڈیوٹیوں پر رپورٹ نہ کرنے کی صورت میں نوکری سے برخاست کئے جانے کا نوٹس دیدیا۔واضح رہے کہ یہ اہلکار سرکاری تنخواہ دار ہونے کے باوجود سالہا سال سے بغیر کسی قانونی جواز کے سابق پولیس افسران کی گھریلو ڈیوٹیاں کر رہے تھے، جس کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے ایسے تمام غیر قانونی طور پر تعینات ان اہلکاروں کی واپسی کا نوٹس لیا اور تمام اہلکاروں کو واپس بلانے کی ہدایات جاری کیں۔

صوبہ خیبر پختونخواہ کے گورنر سردار مہتاب احمد خان پارلیمانی سیاست میں حصہ لینے کے لئے اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں صدر ممنون حسین نے وزیر اعظم کی سمری پر ان کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے ،سردرمہتاب احمد خان پرانے مسلم لیگی ہیں اور مسلم لیگ ن کے ساتھ ان کی وابستگی اورقربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں جب انہیں گورنر تعینات کیا جارہا تھا تو ہزارہ سے مسلم لیگ ن کے ایک اور رہنما پیرصابر شاہ نے تحفظات کااظہارکیا تھا اور وہ کچھ ناراض بھی نظرآرہے تھے مگر بعدمیں انہوں نے خاموشی اختیار کرتے ہوئے پارٹی قیادت کے فیصلے پرسرتسلیم خم کرلیا تھا اب ایک بارپھر سردارمہتاب کے استعفے کے بعد گورنر شپ کے حصول کیلئے لابنگ شروع ہوگئی ہے ،نئے گورنر خیبر پختون خواہ کیلئے پانچ ناموں پر غور شروع کر دیا گیا ہے، مسلم لیگ ن کے صوبائی صدر پیر صابر شاہ ،اقبال ظفر جھگڑا، انجینئر امیر مقام ، جنرل ریٹائرڈ صلاح الدین ترمذی اور لیفٹیننٹ جنرل ریٹارئرڈ طارق احسن کے نام نئے گورنر خیبر پختونخوا کیلئے زیرغور ہیں دیکھتے ہیں کہ اب کی بار قرعہ فال کس کے نام نکلتا ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -