پیپلزپارٹی کا نعرہ اب کیا ہو گا؟

پیپلزپارٹی کا نعرہ اب کیا ہو گا؟
 پیپلزپارٹی کا نعرہ اب کیا ہو گا؟

  

جناب مجیب الرحمن شامی جب صحافت میں داخل ہوئے تھے تو اُنہیں ایک عجیب معاملے کا سامنا ہوا۔ حیرت انگیز طور پر اسلامی جمعیت طلبہ کی یونین کے لوگ 1967ء سے1970ء تک تقریباً بوکھلا سے گئے، پورے پاکستان میں تمام یونیورسٹیوں اور کالجوں میں ہمیشہ کی طرح طلبہ کی تنظیمیں تو اُن کی جیت رہی تھیں، لیکن 30نومبر1967ء کو قائم ہو جانے والی ایک نئی سیاسی پارٹی پاکستان پیپلزپارٹی کا ڈنکا چار سُو بچ رہا تھا۔ پارٹی کا باقی منشور ایک طرف، صرف اس کا ایک نعرہ ہی ریڑھی، رکشہ، مزدور اور ہر محنت کش کے لئے کافی تھا کہ روٹی ، کپڑا، مکان ہم دیں گے، یعنی ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی دے گی۔یہ ایک ایسا اطمینان انگیز نعرہ تھا جوآنے والے سال، یعنی2017ء کی30نومبر کو اس پیپلزپارٹی کے نئے چیئرمین بلاول کے لئے انتہائی رسوا کن لمحات لے کر آئے گا، کیونکہ اُن کا باپ تو پاکستان میں موجود نہیں ہو گا۔ آصف علی زرداری مسٹر ٹین پرسنٹ اور پھر مسٹر ہنڈرڈ پرسنٹ کے سوا مرتے دم تک دوسری کوئی پہچان پاکستان کی تاریخ سے حاصل نہیں کر سکیں گے۔

جب پی پی پی قائم ہوئی اس وقت ایوب خان کا زمانہ تھا، یعنی جس شکل میں بھی بنیادی جمہوریت امریکہ کے کہنے پر رائج کی گئی تھی، وہ اس کی اصل شکل نہیں تھی اور در پردہ وہی علامتیں تھیں جو آگے چل کر جنرل ضیاء الحق نے غیر جماعتی الیکشن کروا کر اور سندھڑی کے پرائم منسٹر محمد خان جونیجو کو وزیراعظم منتخب کروا کر امریکہ کا کہنا مان لیا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب میاں محمد نواز شریف پنجاب کے وزیر خزانہ سے وزیراعلیٰ پنجاب بن گئے تھے۔ اُنہیں یہ علم تھا کہ نہ تو ضیاء الحق کی حکومت اپنے پیروں پر کھڑی ہے، بلکہ ہر دم امریکہ بہادر کی غلام ہے ۔

جنرل ضیاء الحق نے اس حد تک مدد کی کہ اُنہیں لاہور کے منشی ہسپتال میں تقریر کے دوران میں اپنی بھی عمر دے دینے کا اعلان کر دیا۔ ادھر میاں نواز شریف، ذوالفقار علی بھٹو کے اس نعرے کے خلاف علمائے کرام سے یہ رائے لے چکے تھے کہ روٹی، کپڑااورمکان صرف خدا دیتا ہے۔ کوئی شخص یا کوئی سیاسی پارٹی ہر گز نہیں دے سکتی۔پھر پنجاب کے محکمہ تعلقات عامہ کی سینکڑوں گاڑیاں پاکستان کے چاروں صوبوں کے دیہات میں پھیلا دی گئیں کہ لوگو!ذوالفقارعلی بھٹو کی بات صریحاً غلط ہے۔ روٹی ، کپڑا اور مکان دینے کی قدرت صرف اللہ کریم کی ہے، اگر کوئی سیاسی پارٹی ایسا کرنے کا دعویٰ کرے تو اس پر لعنت بھیجو، چنانچہ جلوسوں میں ذوالفقار علی بھٹو کے اس نعرے پر لعنت بھیجی گئی۔ پی پی پی نے اس کا کبھی میڈیا توڑ نہیں سوچا۔

میاں نواز شریف اس وقت ملک کے وہ واحد لیڈر ہیں، جنہوں نے اپنے جلسوں میں ذوالفقار علی بھٹوکو بے نقاب کیا تھا اور وہ بھی ایسے کہ ایک اسلامی مُلک میں آخر مسلمانوں نے یہ مان کیسے لیاکہ روٹی،کپڑا اور مکان کوئی سیاسی پارٹی دے سکتی ہے؟دفعہ کریں روس اور چین کے فلسفے کو۔۔۔ ہمارے پاکستانی بھائی ذوالفقار علی بھٹو کے اس پُر فریب نعرے پر اس قدر فریفتہ کیوں ہوگئے؟ شاید ایوب خان کی ڈکٹیٹر شپ سے تنگ تھے، اس لئے نہ آگے سوچا نہ پیچھے۔میرے میڈیا کے ساتھی آج اگر غور کریں تو جس روز میاں محمد نواز شریف نے کہہ دیا تھا کہ یہ روٹی،کپڑا، مکان کسی پارٹی کا منشور نہیں ہو سکتا ، یہ صرف خدا دیتا ہے، اُسی دن سے پی پی پی ختم ہو گئی تھی۔ اُن کا لیڈر بیرسٹر تھا، کرپٹ نہیں تھا، خوشامد پسند نہیں تھا، رات تین بجے تک محض خوشامدی لوگوں میں نہیں جاگتا تھا، اِس لئے وہ 1972ء سے1977ء ایک ٹرم حکومت کر گیا تھا۔ دوسری ٹرم اس کو محض اِس لئے نہیں مل سکی تھی کہ وہ ضرورت سے زیادہ مقبول ہو گیا تھا اور اپنا متبادل بھی وہ خود تھا، اِس لئے دوسری ٹرم ملنے میں رخنہ پڑ گیا اور پھر روٹی، کپڑا، مکان والی حکومت چلی گئی۔

مزید :

کالم -