انقلاب ایران کے37 سال

انقلاب ایران کے37 سال
 انقلاب ایران کے37 سال

  



رب ذوالجلال نے نبی رحمت محمدمصطفی سرور انبیاﷺکے طفیل انسان کو عقل و عرفان کی دولت سے نواز کراسے تمام مخلوقات میں اشرف و ممتاز کر دیا، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انسان اس نعمت الٰہی کا شکر بجا لاتا اور عقل و دانش کو مخلوقِ خدا کی فلاح وبہبودکے لئے استعمال کرتا ،لیکن جبر و سطوت اور طاقت و آمریت کے نشے میں بدمست ہو کراس نے دوسرے انسانوں کی زندگی اجیرن بنا کر رکھ دی، خودفراموشی کے زعم میں اس نے عظمتِ انسانیت اور شرفِ آدمیت کو پامال کر دیا ، مجبور و مقہور عوام پر ظلم و ستم اور ان کی عزت و حرمت کی پامالی اس کے مشاغل ٹھہرے ، حق کے لئے اُٹھنے والی آواز کو طاقت سے د با دینا،مخالفت میں لکھنے والے ہاتھوں کو قلم کر دینااور آمریت کے دیوتا کے سامنے نہ جھکنے والے سروں کو تہ تیغ کر دینااس کا جزوِایمان بن گیا۔ روایات و اقدار کی پامالی،عوام پربے جا ظلم و ستم،بنیادی حقوق کو غصب کر لینا،مذہب کو نابود کرنے کی کوششیں،خسروانہ طور طریقے اور حد سے بڑھ کر مغرب نوازی۔۔۔شاید یہی وہ اسباب تھے جو شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کے خلاف امام خمینی کو میدان عمل میں لے آئے، پھر دنیا نے دیکھا کہ جاہ و حشمت اور نخوت و سطوت کا مجسم شاہ ایران اپنے تمام تر جبروت کے ساتھ انقلاب کا راستہ نہ روک سکا اور ایران کے گلی کوچوں میں " مرگ بر شاہ " اور " ورود بر خمینی" کے نعرے گونجنے لگے ، یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جب کوئی قوم اپنی حالت بدلنے کے لئے میدانِ عمل میں آجاتی ہے تو قدرت بھی اس کے لئے آسانیاں پیدا کرتی ہے، پھر اس کا راستہ روکنا جبر کے بس میں نہیں رہتا۔ بقول واصف علی واصف:طاقت خوف پیدا کرتی ہے، خوف نفرت کا سبب بنتاہے، نفرت بغا وت پر اُکساتی ہے اور بغاوت طاقت کو توڑ کر رکھ دیتی ہے"۔

اِنقلاب لمحوں میں وقوع پذیر نہیں ہوتے، بلکہ ان کے پیچھے صدیوں کی سوچ کار فرما ہوتی ہے۔ اِنقلاب افراد یا ان کے منصب کی تبدیلیوں سے ہرگز رونما نہیں ہوتے، بلکہ یہ انسانی احساسات و کمالات سے نمو پاتے ہیں۔کے یو خان اپنی کتاب " صحیفہ انقلاب " میں اس حوالے سے لکھتے ہیں: اِنقلاب ہمیشہ عوامی ضروریات اور جدید خواہشات کی کوکھ سے جنم لیتا ہے۔ اِنقلاب کے افکار و نظریات سے عوام کو اپنے دکھوں اور زخموں کی چارہ سازی کی جھلک نظر آجائے تو وہ اسے اپنی آرزؤں کی روح قرار دے کر اس کا ساتھ دیتے ہیں"۔

اِنقلاب دراصل ایک نظریے کا نام ہے، ایک ایسا نظریہ جو اپنے اندر فکر و عمل کی ایک پوری داستان رکھتا ہے، اِنقلاب اِیران کی سحر طلوع ہوئی تو اِنقلاب مخالف قوتوں نے اسے ناکام بنانے کی ہر ممکن کوشش کی، اِستعماریت نے سازشوں کے جال بچھائے، حتیٰ کہ اس پر عراق کی جانب سے جنگ مسلط کر دی گئی، اس طرح ملتِ اسلامیہ کو کمزور کرنے کی گھناؤنی سازش کی گئی، لیکن پھر بھی اِنقلاب کے اثرات کو زائل کیا جا سکا اور نہ ہی اسے پروان چڑھنے سے روکا جا سکا۔اِنقلاب اِیران نہ صرف نظریے کی فتح تھی، بلکہ کمزوروں اور محروموں کی صدائے حق کا آہنگ تھا۔ اِنقلاب اِیران نے دنیا کو حریت پسندی اورعزم و حوصلے سے جینے کا درس دیا، حالات چاہے جیسے بھی آئے استعماریت کی طرف سے لگائی گئی نام نہاد پابندیاں ہوں یا اس کے حواریوں کی طرف سے مسلط کی گئی جنگ،سازشی عناصر کی ریشہ دوانیاں ہوں یا ملک میں تنگدستی،افلاس اور بد حالی کے سائے ، اِنقلاب کے علمبردار کسی بھی حالت میں مایوس نہیں ہوئے۔ انہوں نے تمام مشکلات کا پامردی سے مقابلہ کیا۔ طاغوت کی تمام سازشیں اور اوچھے ہتھکنڈے ان کے عزم و حوصلے کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئے اور انہوں نے ایک آبرو مندانہ قوم کے طور پر اپنے تشخص کو برقرار رکھا ۔

ایران کی ہر شعبے میں تیز رفتار ترقی نہ صرف اِنقلاب کی مرہونِ منت ہے، بلکہ اقوام عالم کے لئے بھی قابل رشک ہے۔ تعلیم کا شعبہ ہو یا کھیل کا میدان، سیاست ہو یا ثقافت، صحت ہو یا صنعت و حرفت ،سیاحت ہو یا معیشت، داخلہ امور ہوں یا خارجہ، دفاعی ٹیکنالوجی ہو یا سائنسی کمالات، الغرض ہر شعبہ اپنی مثال آپ ہے۔ تعلیم،دفاع اورصنعت و حرفت سمیت مختلف شعبوں میں دنیا کی بہت سی اقوام ایرانی ٹیکنالوجی سے استفادہ کر رہی ہیں، ایرانی دانشور،انجینئر،ماہر اقتصادیات،فلاسفر اور سائنسدان دنیا کے کئی ممالک میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھا رہے ہیں۔ حسنِ سلوک اور رواداری کے حوالے سے بھی ایرانی قوم اخلاق کی اعلیٰ بلندیوں پر دکھائی دیتی ہے۔ دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے،غربت و افلاس کے خاتمے اور حقوقِ انسانی کے لئے ایران کی کاوشیں عالمی فورم پر اس کے کردار کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔ اِنقلاب کی بدولت اِیران کو Indigenous فلاسفرمیسر آئے جو بعد میں اس کی خوشحالی اور ترقی کے ضامن بنے۔ اقوامِ مغرب کے نظریات سے متاثر ہونے کی بجائے انہوں نے ایرانی قوم کو ایک نئے جہان سے روشناس کرایا ۔ تعلیم و تربیت کی مختلف جہتیں متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ فکر و عمل کی نئی راہیں متعین کیں ۔ آج ایران فکر و عمل اور علم و ہنر کے جس مقام پر ہے وہ انہی Indigenous کاوشوں کا ثمر ہے جو بلاشبہ اقوام عالم کے لئے ایک روشن مثال ہے۔

ایران کی طرف سے ایٹم بم اور میزائل ٹیکنالوجی پر جرأت مندانہ مؤقف اس کے غیرت مند قوم ہونے کی دلیل ہے۔ ایک ایسی قوم جو نہ صرف حوصلہ مند ہے، بلکہ اپنی قوت بازو پر بھروسہ کرتی ہے جو عالمی سامراج کی کسی بھی دھمکی ، دھونس ، لالچ اور ہتھکنڈوں کو خاطر میں نہیں لاتی ، یہی روش اسے دنیا کی باقی اقوام سے ممتاز کرتی ہے۔ اِنقلاب ایران کو وقوع پذیر ہوئے11فروری 2016ء کو 37سال ہوجائیں گے، لیکن یہ داستان اپنے ابتدائی دنوں کی طرح آج بھی تروتازہ ہے، اس کی عظمتوں کے نشان آج بھی ذہنوں میں نقش ہیں اور اِنقلاب پسندوں کے دلوں کو طمانیت بخش رہے ہیں۔ اِنقلاب کی تابناکیاں طاغوت کی تمام تر سازشوں کے باوجودبھی ماند نہیں پڑ سکیں۔ اِنقلاب ایران کا آفتاب عالمی اُفق پر پوری آب و تاب سے دمک رہا ہے اور اس کی کرنیں دنیا کو بالعموم اور عالمِ اسلام کو بالخصوص منّور کر رہی ہیں۔ بلاشبہ انقلاب سے بہرہ منداِیران آزاد اور خودمختار قوموں میں اپنی ایک منفرد شناخت رکھتا ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ ہمہ قسمی وسائل سے مالا مال یہ خطہ اپنی مخصوص جغرافیائی پوزیشن کی بدولت دنیا کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو بے جا نہ ہو گا، شاید اسی لئے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے فرمایا تھا:

تہران ہو گر عالم مشرق کا جنیوا

شاید کرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے

مزید : کالم


loading...