عمران خان کا سینما گھروں کی رونقیں بحال کرنے کا اعلان

عمران خان کا سینما گھروں کی رونقیں بحال کرنے کا اعلان

  

بابا گل سے:

خیبر پختونخوا حکومت نے وفاق کے خلاف پی آئی اے کے ملازمین کی ہڑتال کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے انہیں اپنے احتجاج کے لئے مکمل محفوظ ماحول فراہم کیا یوں پشاور ائیرپورٹ پر پی آئی اے کے ملازمین نے کسی گرفتاری اور تشدد سے بے خوف اپنا احتجاج کیا جو تادم تحریر جاری تھا، مگر اس کے برعکس محکمہ صحت کے ان ڈاکٹروں اور عملے کے دیگر ارکان کو ملازمتوں سے فارغ کرنے کی دھمکی دی گئی جو صوبائی حکومت کے خلاف احتجاج کررہے ہیں پشاور کے تمام بڑے ہسپتالوں کے ڈاکٹروں نرسوں اور پیرا میڈیکس نے لازمی سروس ایکٹ کے نفاذ سمیت صوبائی حکومت کے بعض اقدامات کے خلاف احتجاج اور ہڑتال کا اعلان کیا، جس پر علامتی طور پر عمل درآمد بھی شروع کردیا گیا وفاقی حکومت نے جب پی آئی اے ملازمین کے ساتھ مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے ہڑتالیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا بھی فیصلہ کیا بالکل اسی طرح صوبائی حکومت نے ڈاکٹروں کے ساتھ مزید مذاکرات کی بجائے احتجاجی ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ سمیت سخت ترین کارروائیوں کی دھمکی دی تو محکمہ صحت کے ملازمین صوبائی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف ڈٹ گئے اور اپنا احتجاج وہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ڈاکٹروں نرسوں اور پیرا میڈیکس نے ایمرجنسی کے سوا تمام سروسز بند کرنے کا بھی اعلان کیا۔ صوبائی حکومت اور محکمہ صحت کے ملازمین کے درمیان رسہ کشی جاری ہے اور آنے والے دنوں میں پتہ چل سکے گا کہ ہوا کا رخ کس جانب ہے اور کون سا فریق اپنی بات منوا کر اس رسہ کشی کااختتام کرتا ہے۔

تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے خیبرپختونخوا کے سنیما گھروں کی رونقیں بحال کرنے کااعلان کیا ہے انہوں نے یہ اعلان چڑ یا گھر کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیاعمران خان حسب معمول مسلم لیگ کی حکومت پر برستے رہے۔عمران خان نے خیبر پختونخوا کے سینما گھروں کی رونقیں بحال کرنے کااعلان ایک ایسے وقت میں کیا جب دہشت گردوں کے مسلح گروہ آئے روز ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے قبرستانوں کی رونقیں بحال کر رہے ہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پشاور میں ٹارگٹ کلنگ اور اغوا کی وارداتوں میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہونے والوں میں پولیس اہلکاروں کی بھاری اکثریت سرفہرست ہے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور ایلٹ فورس کے اہلکار خصوصی طور پر دہشت گردوں کا نشانہ بن رہے جس کی بظاہر یہی وجہ نظر آتی ہے کہ مذکورہ دونوں ادارئے دہشت گردوں کے لئے خطر ے کی گھنٹی ہیں اور ان کے خلاف کاروائیوں میں پیش پیش ہوتے ہیں افسوسناک بات یہ ہے کہ پولیس اپنے ہی اہلکاروں کے قتل میں ملوث کسی ملزم یا مجرم کو گرفتار کرکے میڈیا کے سامنے پیش کرنے میں ناکام رہی ہے جس کی وجہ سے پولیس اہلکاروں اور نچلے درجے کے افسران کا مورال بری طرح ڈاؤن ہوا ہے بیشتر پولیس اہلکار اس صورت حال سے سخت مایوس ہیں۔ دوسری طرف پشاور میں نیشنل ایکشن پلان سمیت حکومت کی طرف سے کوئی بھی ایسا اقدام نظر نہیں آتا جس سے عوام میں احساس تحفظ پیدا ہوتا ہو پولیس کے بعد ٹارگٹ کلنگ کاشکار ہونے والوں میں ایک مخصوص مسلک کے لوگ شامل ہیں جو دواسلامی ممالک کے درمیان سرد جنگ کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں ٹارگٹ کلنگ کی اس سنگین صورت حال میں حکومت کی جانب سے نہ تو مذمتی بیان جاری کیا گیا نہ ہی کوئی حکومتی اہلکار کسی مقتول کے گھر تعزیتی کے لئے جا سکا، جس کی وجہ سے مایوسی کی فضاء پھیلتی جارہی ہے اور اب اس امکان کو رد نہیں کیاجاسکتا کہ پشاور کے لوگ اپنے تحفظ کاحق لینے کے لئے سٹرکوں پر نکل آئیں اور دھرنے دینے لگیں جیسا کہ عمران خان وفاق کے خلاف کررہے ہیں اغواء برائے تاوان اور بھتہ مافیا کی سرگرمیوں میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یوں پشاور میں ڈاکٹروں کی ہڑتال ٹارگٹ کلنگ اور اغوا کی وارداتوں میں ا ضافے کے باوجود تحریک انصاف کے قائدین فخریہ طور پر اعلانات کر رہے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں تبدیلی آ گئی۔

خیبر پختونخوا کے سیاسی حلقوں میں اس وقت ہلچل پیدا ہوئی جب گورنر سردار مہتاب احمد خان نے اپنے منصب سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا اور وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کیساتھ ملاقات کرکے باضابطہ طور پر اپنا ا ستعفی پیش کیا سردار مہتاب گورنر شپ کے عہدئے سے مستعفی ہو کر واپس پارلیمانی سیاست میں شامل ہونا چاہتے تھے اور 2018ء کے انتخابات میں حصہ لینے کے لئے یہ بات لازم تھی کہ سردار مہتاب انتخابات سے 2سال قبل گورنری سے الگ ہوں۔ سردار مہتاب کے استعفے کی خبریں منظر عام پر آتے ہی بہت سارے خوابیدہ سیاست دان بیدار ہوگئے اور جاگنے میں گورنر بننے کے خواب دیکھنے لگے، مگر ان سیاستدانوں کو ان خوشگوار خوابوں کی دُنیا سے اس وقت نکلنا پڑا جس وقت وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے گورنر کا استعفیٰ نامنظور کرتے ہوئے سردار مہتاب کو اپنی خدمات جاری رکھنے کی ہدایت کی عین ممکن ہے کہ گورنر کے استعفے کے پیچھے کوئی اور بات بھی چھپی ہو جسے وہ منظر عام پر نہ لانا چاہتے ہوں بہر حال یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایبٹ آباد کے یخ بستہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے سردار مہتاب نے جب سے دنیائے سیاست میں قدم رکھا ہے وہ کبھی بھی الیکشن نہیں ہارے وہ ہمیشہ کامیاب ہوتے رہے ہیں ایم پی اے سے وزارتِ اعلیٰ کے منصب تک اور پھراپوزیشن لیڈر شپ سے گورنر تک اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام دیئے اور اپنا تمام سیاسی سفر ہمیشہ کامیابی کے ساتھ طے کیا اور وہ شاید اب مزید آگے جانے کاارادہ رکھتے ہیں جس کے با رے سوچنا ان کا حق ہے دوسری طرف وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے وفاقی حکومت کے خلاف راست اقدام کی دھمکی دیتے ہوئے تنبیہ کی کہ صوبائی حقوق کے لئے اس مرتبہ وہ وفاقی حکومت کے خلاف ایسا اقدام اٹھائیں گے جو نوازشریف کو حیران کردے گا عوامی حلقے تحریک انصاف کی طرف سے مسلم لیگ کے خلاف جارحانہ بیانات اور ممکنہ طور پر اٹھائے جانے والے اقدامات کو ایسی نظرسے دیکھتے ہیں جس طرح مرکز میں مسلم لیگ کے خلاف پیپلزپارٹی کی مخالفت کو دیکھا اور سمجھا جاتا ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -