ہاتھ پکڑ کے۔۔۔!

ہاتھ پکڑ کے۔۔۔!
 ہاتھ پکڑ کے۔۔۔!

  

چھ ماہ بعد میرے ساتھ وہی حادثہ دوبارہ ہو گیا۔ وہی شہر، وہی لوگ،وہی منظر، وہی راستہ وہی حادثہ اور وہی مَیں۔ تو پھر بدلا کون ہے؟ میں بدلا ہوں، یہ شہر بدلاہے یا پھر یہاں کے باسی بدل گئے ہیں۔ حالات بھی پہلے سے بہتر ہیں، افرا تفری اور دہشت گردی کے واقعات بھی ختم ہو گئے ہیں، اعتماد فضا بحال ہو رہی ہے۔ پھر مجھے کیوں محسوس ہو رہا ہے کہ آج میں کسی اجنبی دیس میں آ گیا ہوں؟؟ یہ شہر لاہور ہے جس کے شہری بڑے دل والے ہیں۔ چھ ماہ قبل راقم السطور کا اقبال ٹاؤن میں ایک سیمینار میں شرکت کے لئے جاناہوا۔ شام کے سات بجے واپسی کے لئے موٹر سائیکل کو کِک ماری تو محترمہ کو ہمارا دیر سے آنا پسند نہ آیا اور اس نے ناراض ہو کر ساتھ گھر جانے سے معذرت کر لی۔پلگ چیک کرنے کے لئے ہاتھ آگے بڑھایا ہی تھا کہ پلگ نے کہا جناب آپ کیوں زحمت کرتے ہیں ہم خود آپ کے پاس آجاتے ہیں۔ پلگ خود بخود ہاتھ میں آگیا اور اکیلے بھی نہیں آیا بلکہ انجن کے ہیڈ سے چوڑیاں بھی ساتھ ہی اتار لایا۔ یہ حادثہ وحدت روڈ پر اقبال ٹاؤن کریم مارکیٹ کے اشارے پر پیش آیا۔ موٹر سائیکل کا پلگ ہاتھ میں پکڑے بندہ قریبی سروس سنٹرپہنچا تو پلگ کو دیکھتے ہی مکینیک نے کہا کہ بھائی ہیڈ کھلے گا۔ خرادیے سے ہیڈ کی چوڑیاں ڈلوائیں گے۔ تین سے چار گھنٹے لگیں گے اور کم از کم ایک ہزار کا خرچہ ہو گا۔

مَیں نے عرض کی جناب کوئی جگاڑ لگا دیں تا کہ میں گھر تک چلا جاؤں، باقی کام کل کروا لوں گا۔ وہ کہنے لگا اس کا کوئی جگاڑ نہیں آپ یا تو کام کروا لیں یا پھر موٹر سائیکل کو چنگ چی رکشہ پر رکھیں اور گھر لے جائیں۔ اس عجیب سے جواب کے بعد میں نے جیب سے پرس نکالا ، یہ دیکھنے کے لئے کہ جیب میں کتنے پیسے ہیں حالانکہ مجھے پتا تھا کہ ایک سو بیس ہیں اوراتنے ہی نکلے۔ میں نے پرس واپس جیب میں رکھ لیا۔ تھوڑی دیر سوچا کہ اب کیاکیا جائے۔ کسی دوست کو مدد کے لئے بلا نے کا آپشن بھی موجود تھاتاہم کسی کو زحمت دینا مناسب نہ سمجھا۔

مجھے جوہر ٹاؤن ایکسپو سنٹر کے پاس اپنے غریب خانہ پرپہنچنا تھا، اقبال ٹاؤن کریم مارکیٹ سے یہ فاصلہ کوئی 10 کلومیٹر بنتا ہے۔ اب میر ے پاس کوئی چارا نہ تھا۔ چنانچہ اللہ کا نام لیا اور 10 کلومیٹر کا یہ فاصلہ اپنی ناکارہ ہمسفر کے ساتھ پیدل طے کرنے کا تہیہ کر لیا۔ یہ ایک کٹھن فیصلہ تھا لیکن دل میں ایک یقین تھا کہ راستے میں کوئی مدد مل جائے گی۔ کریم مارکیٹ اقبال ٹاؤن سے نہر کی طرف جانے والی نئی سڑک پر پیدل موٹر سائیکل کو کھینچتے ہوئے کوئی آدھا کلومیٹر ہی چلا تھا کہ کسی خدا کے بندے کو ترس آیا اور اس نے میرے پاس موٹر سائیکل روک کر مدد کی پیش کش کی، جسے مَیں نے خدائی مدد سمجھ کر فوراً قبول کر لیا۔ مَیں اپنی بند موٹر سائیکل پر سوار ہوا اور مددگار نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ وہ مجھے موٹر سائیکل سمیت کھینچتے ہوئے جناح ہسپتال تک لے آیا۔ جناح ہسپتال سے آگے کینال روڈ پر پھر پیدل چلنا شروع کر دیا۔ کوئی دو منٹ ہی پیدل چلاہوں گا کہ ایک اور نوجوان موٹرسائیکلسٹ نے مدد کی پیش کش کی۔ اس مددگار نے ہاتھ پکڑ کر مجھے کھوکھر چوک، جوہر ٹاؤن تک پہنچا دیا۔ کھوکھر چوک سے آگے میرے گھر کا سفر کوئی ڈیڑھ کلومیٹر بنتا ہے ۔ یہاں سے آگے میں نے ایک چنگ چی رکشہ کی مدد لی اور ایک ہاتھ سے چنگ چی رکشہ کو پکڑ کر جوہر ٹاؤن ایکسپوسنٹر کے پاس اپنے گھر پہنچ گیا۔ یوں تو اکثر لوگوں کو موٹر سائیکل پر کسی کا ہاتھ پکڑ کر کھینچتے دیکھا ہے لیکن میرا یہ پہلا تجربہ تھا۔ میں نے 10 کلومیٹر کا فاصلہ کوئی چالیس منٹ میں طے کیا اور شروع میں بہت مشکل نظر آنے والا یہ سفر دو موٹرسائیکلسٹس اور ایک چنگ چی رکشہ کی مدد سے آسان سفر بن گیا اور میں بخیروعافیت خراب موٹرسائیکل سمیت گھر پہنچ گیا ۔ یہ واقعہ 19 اگست 2015 ء کی رات کا ہے۔

گزشتہ ہفتے مجھے شام کے وقت اسی راستے پر اقبال ٹاؤن جانا پڑ گیا۔ اقبال ٹاؤن میں پھر موٹر سائیکل نے جواب دے دیا اور اس دفعہ مسئلہ پہلے سے بھی بڑا تھا۔ موٹرسائیکل کا انجن جیم ہو گیا اور جیب ہماری اس طرح کی ایمرجنسی کے لئے ہمیشہ تیار نہیں ہوتی۔ رات کے آٹھ کا وقت اور سردی بھی زوروں پر۔ سوچا کہ آج پھر اللہ کو یاد کر کے ہمت کرتے ہیں کوئی نہ کوئی ہاتھ پکڑنے والا مل جائے گا لیکن اس بار دل میں عجیب سا کھٹکا تھا۔ یہ وسوسہ تھا کہ آج مجھے کوئی نہیں پوچھے گا اور وہی ہوا۔ میں موٹرسائیکل کو پیدل کھینچتے ہوئے اقبال ٹاؤن سے جناح ہسپتال تک پہنچ گیا لیکن کسی نے مدد کی پیش کش نہیں کی۔ ہمت جواب دے گئی۔ ٹانگیں تھکن سے چور ہو گئیں اور شدید سردی میں بھی پینے چھوٹنے لگے۔ حالات کو بھانپتے ہوئے ایک چنگ چی رکشے کو روکا اور اس سے منہ مانگی دام طے کر کے موٹر سائیکل کو چنگ چی رکشہ پر لوڈ کیا اور گھر پہنچ کر ادائیگی کی۔ اس دوسرے واقعہ نے میرا بھرم توڑ دیا۔ چھ ماہ پہلے جب میرے ساتھ پہلا واقعہ پیش آیا تب مجھے یقین تھا کہ مجھے رستے میں مدد مل جائے گی لیکن اس بار مجھے چلنے سے پہلے یقین نہیں تھا۔وجہ یہ کہ چھ ماہ قبل جب اسی رستے پر لوگ مجھے مدد کی آفرز کر رہے تھے تب میں نے تھری پیس سوٹ پہنا ہوا تھا اور وضع قطع سے کوئی بڑا افسر، وکیل یا بزنس مین لگ رہا تھا لیکن دوسرے واقعہ میں عام سے کپڑوں میں ملبوس عام سا آدمی تھا۔ وضع قطع عاجزانہ اور مفلسانہ تھی۔

ان دونوں واقعات کو زیرقرطاس کرنے کا مقصد ہمارے بدلے ہوئے معیارات کی نشاہدہی کرنا ہے۔ مادیت پرستی اور جدت پسندی کے دور میں ہمدردی، مدد، ایثار، قربانی، باہمی پیار اور محبت کے جذبات معدوم ہو گئے ہیں اگر کہیں ہیں تو وہ ضرورت کے تحت ہیں۔ مرعوب ہونے کا معیار بھی امارت ٹھہرا ہے،پیسے اور ظاہری رکھ رکھاؤ کی عزت ہے۔ غریب اور لاچار کا کوئی ہاتھ نہیں پکڑتا۔ کسی غریب کا ہاتھ پکڑ کے اسے منزل تک پہنچانے والے لوگ آج نظر نہیں آتے۔ پہلے واقعہ کے بعد میں رات دیر تک اپنے مدد گاروں کو دعائیں دیتا رہا اوریہ سوچتا رہا کہ کس طرح کسی کی معمولی سی مددسے مشکل ترین بلکہ ناممکن کام آسانی سے ہو جاتے ہیں۔میرے ذہن میں اپنی زندگی کی ساری فلم چل گئی اور وہ تمام مناظر اور محسنین یاد آگئے جنہوں نے بدترین حالات میں ہاتھ پکڑ کر میرا مشکل سفر آسان بنایا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ زندگی آج بھی اسی طریقے سے چل رہی ہے۔ ہرروز کوئی نہ کوئی مشکل درپیش آتی ہے اور اللہ کی مدد سے کوئی ہاتھ پکڑ کر اس مشکل سے نکال لیتا ہے۔ لیکن ان دونوں واقعات سے ہماری اجتماعی معاشرتی سوچ اور معیارات کی عکاسی ہوتی ہے۔ اگست 2015 کی شام سوٹڈ بوٹڈ جینٹل مین کو بھلے کوئی مدد کی پیش کش نہ کرتا لیکن 30 جنوری 2016 کی رات خراب موٹر سائیکل کے ساتھ پیدل چلنے والے عام سے بندے کا ہاتھ کسی کو ضرور پکڑنا چاہیے تھا۔

مزید :

کالم -