افغانستان میں امریکی کمان سے سبکدوش ہونے والے جنرل جان کیمبل کے مشاہدات

افغانستان میں امریکی کمان سے سبکدوش ہونے والے جنرل جان کیمبل کے مشاہدات

  

افغانستان میں امریکی فوج کی کمان سے سبکدوش ہونے والے جنرل جان کیمبل نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ سال دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم اقدامات کئے، پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف بہت جرأت مند اور دلیر فوجی ہیں، جن کی بدولت فوجی آپریشن میں یہ اقدامات کئے گئے، آپریشن ضربِ عضب کی وجہ سے بڑی تعداد میں دہشت گرد بھاگ کر افغانستان آ گئے، واشنگٹن میں آرمڈ سروسز کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے جنرل جان کیمبل نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان مل کر کام کر رہے ہیں، دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان مشترکہ دشمن سے نپٹنے پر بات چیت ہوئی ہے، انہوں نے دونوں افواج کے درمیان تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا، کیونکہ پاکستان اور افغانستان میں ایسی بہت سی جگہیں ہیں، جن پر حکومتوں کی عمل داری نہیں ہے۔ یہ برسوں سے مسئلہ رہا ہے، اس کا ایک ہی راستہ ہے کہ ہم دشمن سے لڑنے کے لئے افغان فورسز کی صلاحیت میں اضافہ کریں۔ افغانستان میں امن کے قیام کے لئے امریکہ کو طویل عرصے تک افغان سیکیورٹی فورسز کی مدد کرنا ہو گی۔ طالبان اور حقانی نیٹ ورک کا مستقبل کے افغانستان میں کوئی کردار نہیں۔

جنرل جان کیمبل نے18ماہ افغانستان میں گزارے، اب وہ کمان سے سبکدوش ہو رہے ہیں اور اُن کی جگہ نئے امریکی جنرل کا تقرر بھی ہو چکا ہے،آرمڈ سروسز کمیٹی کو انہوں نے جو بریفنگ دی ہے، اس کی روشنی میں افغان افواج کا افغانستان میں آئندہ لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔ پروگرام کے مطابق تو اس برس کے آخر تک تمام امریکی افواج کو افغانستان سے چلے جانا تھا، لیکن اب جنرل کیمبل نے اپنے تجربات کی روشنی میں اپنی حکومت کو یہی مشورہ دیا ہے کہ اگر تمام افواج واپس چلی گئیں تو اس سے افغان فوج کی تربیت کا پروگرام متاثر ہو گا، اِس لئے2016ء کے بہت بعد تک بھی امریکی افواج کو افغانستان میں رہنا چاہئے اور افغان فوج کی لڑنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا چاہئے۔ جنرل جان کیمبل نے آرمڈ فورسز کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کی وجہ سے بہت سے دہشت گرد افغانستان میں آ چکے ہیں۔

جنرل جان کیمبل نے جو بات کمیٹی کو نہیں بتائی یا اگر بتائی تو میڈیا میں رپورٹ نہیں ہوئی، وہ یہ ہے کہ جو دہشت گرد پاکستان سے بھاگ کر افغانستان جا چکے ہیں، انہوں نے وہاں بعض مقامی عناصر کی مدد سے اپنے ٹھکانے اور نیٹ ورک بنا لئے ہیں اور وہاں سے پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں۔ پاکستان نے چار سدہ میں حالیہ دہشت گردی میں افغان سرزمین اور افغانستان سے دہشت گردوں کو کنٹرول کرنے اور افغان ٹیلی کمیونی کیشن استعمال ہونے کے بارے میں شواہد افغان حکام کے حوالے کر دیئے ہیں۔ ابھی چند روز پہلے ہی پاکستان اور افغانستان کے انٹیلی جنس حکام کا اجلاس بھی اسلام آباد میں ہوا ہے جس میں معلومات کا تبادلہ ہوا ہے ۔جنرل جان کیمبل نے بالکل درست کہا ہے کہ دشمن سے لڑنے کے لئے افغان فورسز کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ضروری ہے، ابھی دو روز پہلے طالبان نے صوبہ ہلمند کے شہر سنگین میں کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے اور افغان سپاہیوں کا کہنا ہے کہ اُن کی سپلائی لائن بھی بحال نہیں، یہاں تک کہ انہیں کھانا بھی مانگ کر کھانا پڑ رہا ہے، اب ایسی فوج کے سپاہی کیا لڑائی لڑ سکتے ہیں؟

پاکستان افغانستان میں امن کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے، کیونکہ یہ بات تو طے شدہ ہے کہ اگر افغانستان میں امن نہیں ہو گا تو پاکستان میں بھی امن قائم کرنا مشکل ہو گا،اِس لئے پاکستان نے واضح کیا ہے کہ افغانستان کا دشمن پاکستان کا دشمن ہے اور پاکستان کسی صورت اپنی زمین افغانستان کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ پاکستان یہ بھی کوشش کر رہا ہے کہ افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات جلد شروع ہو جائیں، اس مقصد کے لئے چار ملکی رابطہ گروپ کا اگلا اجلاس23فروری کو کابل میں ہونے والا ہے۔اس گروپ کی کوشش ہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے مذاکرات جلد سے جلد شروع ہوں تاکہ افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی سے پہلے وہاں امن کا قیام ممکن بنایا جا سکے۔ پاکستان کی یہ کوشش بھی ہے کہ طالبان کے تمام گروپ مذاکرات میں شریک ہو جائیں، تاہم اگر ایسا نہ ہو سکا تو مذاکرات کے حامی گروپ کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کر دیا جائے گا۔

جنرل جان کیمبل نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو ایک بہادر اور دلیر جرنیل قرار دے کر اُن کی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کو سراہا ہے۔ یہ ایک ایسے جرنیل کا خراج تحسین ہے جو اٹھارہ ماہ سے افغانستان میں موجود تھا اور پاکستان کے آرمی چیف کی کامیاب حکمتِ عملی کا مشاہدہ کر رہا تھا، اُن کے اس بیان میں ان امریکیوں کے لئے بھی ایک سبق پوشیدہ ہے جو پاکستان سے ’’ڈو مور‘‘ کا مطالبہ کرتے رہے ہیں اور معروضی حقائق سے آگاہ نہیں ہیں۔جنرل جان کیمبل نے افغانستان میں رہ کر جو جنگی تجربات حاصل کئے ہیں اور معروضی حالات سے جو واقفیت حاصل کی ہے، اِس کے پیشِ نظر اُن کے مشاہدات حقیقت کے قریب تر ہیں۔

سبکدوش ہونے والے جرنیل سے اس طرح کی بریفنگ کا مقصد آئندہ پالیسیوں کی تشکیل میں مدد لینا ہوتا ہے۔جنرل جان کیمبل نے جو بریفنگ دی ہے، اس سے لگتا ہے کہ ابھی امریکی فوج مزید کئی سال تک افغانستان میں رہے گی اور افغان فوج کی صلاحیتوں میں اضافے کے لئے کام کرتی رہے گی،کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو امریکیوں کے جانے کے بعد افغان افواج کے لئے طالبان کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ افغان فوج کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ جو عناصر پاکستان سے جا کر افغانستان میں اپنے ٹھکانے بنا چکے ہیں،اُن کے خلاف کارروائی کرے تاکہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں نہ کر سکیں اور پاکستان و افغانستان مل کر امن و امان قائم کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔

مزید :

اداریہ -