اے سی آزاد مکمل نہ ہونے سے ہزاروں سرکاری ملازمین کی ترقیاں التواکا شکار

اے سی آزاد مکمل نہ ہونے سے ہزاروں سرکاری ملازمین کی ترقیاں التواکا شکار

  

 لاہور(شہبازاکمل جندران)پنجاب بھر کے سرکاری ملازمین کے لیے کارکردگی رپورٹس کی تکمیل بڑا مسئلہ بن گئی ۔ اے سی آرز مکمل نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں چھوٹے بڑے ملازمین کی ترقیاں التوا کا شکار ہوگئیں۔ جس پر سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے صوبے کے تمام انتظامی سیکرٹریوں کو ملازمین کی کارکردگی رپورٹس کی تیاری میں باقاعدگی لانے کے لیے خط لکھ دیاہے۔جس میں ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ تمام ملازمین کی پرفارمنس رپورٹس بروقت مکمل کی جائیں۔اور ایسا نہ کرنے والے افسروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔معلوم ہواہے کہ گورنمنٹ سرونٹس رولز 1964اور گوررنمنٹ سرونٹس (ایفی شنسی اینڈ ڈسپلن )رولز1973کے تحت صوبے کے تمام سرکاری اداروں میں کام کرنے والے چھوٹے بڑے تمام ملازمین کی سالانہ کارکردگی رپورٹس یا اے سی آرزہر سال مکمل ہونی چاہیں۔ لیکن علم میں آیا ہے کہ مختلف صوبائی سرکاری اداروں کے ہزاروں چھوٹے بڑے ملازمین کی سالانہ کارکردگی کی رپورٹس نامکمل ہیں۔جس کی وجہ سے ان ملازمین کی ترقیاں التوا کا شکار ہیں۔ایسے ملازمین متعلقہ افسروں کے دفاتر میں چکر لگاتے نظر آتے ہیں۔ لیکن مصروفیت اور لاپرواہی کی وجہ سے اکثر افسران ان کی بات نہیں سنتے ۔یہ بھی معلوم ہواہے کہ بہت سے افسرتبدیل ہوکر دیگر شہروں میں تعینات ہوجاتے ہیں۔لیکن وہ ماتحت ملازمین کی بروقت اے سی آرز مکمل نہیں کرتے ۔ جس کی وجہ سے ایسے ملازمین کو اے سی آرز کی تکمیل کے لیے ان افسروں کے پیچھے دوسرے شہروں کی خاک چھاننا پڑتی ہے۔ یہ بھی علم میں آیا ہے کہ زیادہ تر افسر اے سی آرز میں سب اچھا لکھنے کے لیے رشوت بھی لیتے ہیں۔اور رشوت نہ دینے والے اہلکار کو حیلوں بہانوں سے ٹالا جاتا ہے۔ اور خوار کیا جاتا ہے۔یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کسی سرکاری اہلکار کی اے سی آر مکمل نہ ہو تو ڈیپارٹمنٹ پروموش کمیٹی یا صوبائی سلیکشن بورڈ اسے اس وقت تک ترقی دینے کی سفارش نہیں کرتے اور دوران اجلاس ایسے ملازمین کے پرموشن کیس ڈراپ کردیتے ہیں۔جن کی اے سی آرز نامکمل ہوتی ہیں۔ذرائع کے مطابق مختلف سرکار ی اداروں کے ملازمین کی ترقیوں کے ہونے والے اجلاسوں میں بار بار ایسی صورتحال سامنے آنے پر ایس اینڈ جی اے ڈی پنجاب نے ایک خط تمام صوبائی سیکرٹریوں کو لکھا ہے ۔جس میں ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ تمام افسران اپنے ماتحت ملازمین کی سالانہ کارکردگی رپورٹس بلاتاخیر مکمل کریں۔

مزید :

علاقائی -