بداخلاقی کے بعد بیٹی قتل ، بیوہ خاتون 8سالوں سے انصاف کیلئے دربدر

بداخلاقی کے بعد بیٹی قتل ، بیوہ خاتون 8سالوں سے انصاف کیلئے دربدر

  

 لاہور(کامران مغل )نجی سکول میں ملازمت کرنے والی میری بیٹی کو شادی کا جھانسہ دے کر ساتھی ملازم نے پہلے اس کے ساتھ ناجائزتعلقات استوار کئے ،بعد میں شادی کرنے کے اصرار پر میر ی بیٹی کو ملزم نے زہر دے کر قتل کردیا اور نعش بوری میں بند کرکے گندے نالے میں پھینک دی جو2روز بعد پولیس نے برآمد کی ،میں بیوہ ہوں اور 4بیٹیوں کی ماں ہوں ،پولیس نے ساز باز کرکے ملزم کی عدالت سے ضمانت کروارکھی ہے ،میرا دکھ کوئی سننے والا نہیں ،کیوں کہ گزشتہ96ماہ سے میں اپنی بیٹی کے قاتل کے خلاف مقدمہ کی پیروی کررہی ہوں،میری بیٹی کی عزت پامال کرنے اور اسے قتل کرنے والاشخص آج آزاد گھوم رہا ہے جبکہ میں عدالتوں میں انصاف کے لئے ماری ماری پھر رہی ہوں ۔پاکستان کی جانب سے "ایک دن ایک عدالت "کے سلسلے میں کئے جانے والے سروے کے دوران آرے بازار مکان نمبر3نزد کالٹیکس پمپ کی رہائشی بیوہ خاتون رخسانہ بی بی نے اپنے ساتھ ہونے والے ظلم وستم کے بارے میں بتایا کہ اس کی 4بیٹیاں ہیں ،میری بڑی بیٹی ثمینہ مقامی ایک نجی سکول میں استقبالیہ پر ڈیوٹی دیتی تھی جہاں اس کا ایک ساتھی عمران نامی شخص بھی کام کرتا تھا ،خاتو ن نے الزام عائد کیا ہے کہ عمران نے اس کی بیٹی کو شادی کا جھانسہ دے کر پہلے اس کے ساتھ ناجائز تعلقات استوارکئے جس کا مجھے تب پتہ چلا جب میری بیٹی کا عمران کے ساتھ شادی کی بات پر جھگڑا ہوا اوراس نے مجھے یہ سارا معاملہ بتایا جس پر میں نے عمران کو کہا کہ تم نے میری بیٹی کی زندگی برباد کردی ہے ،اگر تم نے میری بیٹی کے ساتھ اب شادی نہ کی تو میں تمہارے گھر والوں کو بتادوں گی جس پر عمران نے چند روز کی مہلت مانگی ،26مئی 2008ء کواس نے میری بیٹی ثمینہ کو فون کیا اور باہر ملنے کے لئے کہا جس پر میری بیٹی صبح 9بجے اسے ملنے کے لئے چلی گئی لیکن رات گئے تک گھر واپس نہ آئی جس پر مجھے تشویش لاحق ہوئی لیکن میری بیٹی اور عمران کے موبائل فون بند تھے جس کے باعث میرا رابطہ نہیں ہورہا تھا جس پر میں نے متعلقہ تھانے میں درخواست دی ،بعدازاں 2روز بعد پولیس کو ایک بوری بند نعش گلشن راوی گندے نالے سے ملی جس پر پولیس نے مجھے اطلاع دی تاہم نعش کو شناخت کیا گیا تو وہ میری بیٹی ثمینہ کی نعش تھی اور پوسٹمارٹم رپورٹ کے مطابق اسے زہریلی چیز کھلا کر قتل کیا گیا تھاجس کے بعد تھانہ جنوبی چھاؤنی پولیس نے مقدمہ نمبر826/08بجرم302/34درج کرلیا ۔متاثرہ بیو ہ خاتون کا کہنا ہے کہ میں گزشتہ8سالوں سے انصاف کے لئے سیشن عدالت کے چکر لگارہی ہوں ،اس دوران مذکورہ مقدمہ کئی بار مختلف ایڈیشنل سیشن کی عدالت میں ٹرانسفر بھی ہوا لیکن آج تک اس کا فیصلہ نہیں ہوسکا ہے ،دوسری جانب ملزم عمران عدالت سے ضمانت کروا چکا ہے لیکن میں آج بھی صرف مقدمہ کی پیشیاں بھگت رہی ہوں ، میں بیوہ خاتون ہوں اور 4بیٹیوں کی ماں ہوں ،میں پہلے ہی دکھوں کی دلدل میں پھنسی ہوئی ہوں ،خدارا میری آئے روز عدالتوں میں دھکے کھانے سے جان چھڑائی جائے اور مقدمہ کا فیصلہ کرکے میری بیٹی کے قاتل کو قرار واقع سزا دی جائے۔مقدمہ مدعی کے وکلاء کہا کہنا تھا کہ مذکورہ خاتون عرصہ دراز سے اپنی بیٹی کے قتل کے مقدمہ کی پیروی کررہی ہے لیکن اسے اب تک انصاف نہیں مل سکا ہے جوکہ افسوس ناک امر ہے ،وکلاء کا مزید کہنا تھا کہ اب اس مقدمہ کا ٹرائل باقاعدگی سے جاری ہے اور اس کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج ساحر اسلام کررہے ہیں ،فاضل جج نے اس کیس میں گواہان کو بیانات قلمبند کرنے کے لئے آئندہ سماعت پر طلب کررکھا ہے ۔

مزید :

علاقائی -