لازمی سروسز ایکٹ کی خلاف ورزی، خیبر پختونخواہ میں محکمہ صحت کے 16ملازم نوکری سے فارغ، عمران خان کی امیر مقام کیخلاف مقدمہ کے اندراج کی ہدایت

لازمی سروسز ایکٹ کی خلاف ورزی، خیبر پختونخواہ میں محکمہ صحت کے 16ملازم نوکری ...

  

پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک )خیبرپختونخوا حکومت نے لازمی سروس ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے پر محکمہ صحت کے 16 ہڑتالی ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کردیا۔ تفصیلا ت کے مطا بق کے مطابق پشاور میں سرکاری ہسپتالوں میں لازمی سروس ایکٹ نافذ ہونے کے باوجود ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کی جانب سے ہڑتال اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جبکہ اس سلسلے میں صوبائی حکومت نے لازمی سروس ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے پر محکمہ صحت کے 16 ہڑتالی ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کردیا جن میں ڈاکٹرز اور نرسیں شامل ہیں۔صوبائی حکومت نے دیگر ملازمین کو بھی نوکری پر حاضر ہونے کی سختی سے ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ لازمی سروس ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔واضح رہے گزشتہ روز خیبرپختونخوا کے ہسپتالوں میں ہڑتال اور احتجاج کے سلسلے کو روکنے کے لیے لازمی سروسز ایکٹ کے نفاذ کے ساتھ ہڑتال کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم نامہ بھی جاری کیا گیا تھا

پشاور (آئی این پی، آ ن لا ئن، ما نیٹرنگ ڈیسک) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کو وزیراعظم کے مشیر انجینئرامیر مقام پر ہڑتالی ڈاکٹروں کو اکسانے کیخلاف مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی سیاسی شخصیت کا کوئی کام نہیں کہ وہ ہسپتالوں میں جائے ،خیبر پختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں میں اصلاحات لارہے ہیں اور تمام ہسپتالوں کو بورڈ آف ڈائریکٹرز کے تحت چلائیں گے،چند ڈاکٹرز نے معاہدے کی خلاف ورزی کرکے ہسپتالوں میں ہڑتال کی، جن کے خلاف ہم نے تاحال کوئی ایکشن نہیں لیا ،ہائیکورٹ کے حکم پر عملدرآمد کرائیں گے اور ہڑتالیوں کے خلاف بھرپور کارروائی کریں گے،95 فیصد ڈاکٹرز اس کے حق میں ہیں تاہم 5 فیصد اصلاحات کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں تاکہ ان کے پرائیویٹ کلینک چل سکیں،مسلم لیگ (ن) پی آئی اے کسی رشتہ دار کو دیدے گی،پی آئی اے پر 300ارب کا قرض ہے،کونسی پرائیویٹ کمپنی دے گی،مسلم لیگ (ن) منافع بخش ادارے فروخت کر رہی ہے۔وہ گزشتہ روز پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ عمران خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے ہسپتالوں میں اصلاحات کیلئے ایکٹ پاس کیا تو بہت سے ڈاکٹرز نے حکم امتناعی حاصل کرلیا، پشاور ہائیکورٹ نے 7 دسمبر 2015 کو تمام حکم امتناع ختم کرکے خیبر پختونخوا حکومت کو ایکٹ پر عمل کرانے کاحکم دیاتھا، پشاور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ڈاکٹرز ہسپتالوں میں ہڑتال نہیں کرسکیں گے اور اگر ایسا کیا گیا تو لازمی سروس ایکٹ کا نفاذ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے ڈاکٹروں سے ہڑتال نہ کرنے کا معاہدہ کیا، چند ڈاکٹرز نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہسپتالوں میں ہڑتال کی، جن کے خلاف ہم نے تاحال کوئی ایکشن نہیں لیا تاہم پشاور ہائیکورٹ کے حکم پر عملدرآمد کرائیں گے اور ہڑتالیوں کے خلاف بھرپور کارروائی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں بورڈ آف ڈائریکٹرزلارہے ہیں جس کے تحت ہسپتالوں کے نظام میں بہتری آئے گی اور سیاسی مداخلت سے پاک ہوجائیں گے، سرکاری ہسپتالوں کو پرائیویٹ ہسپتالوں کے برابر لانا چاہتے ہیں اور 95 فیصد ڈاکٹرز اس کے حق میں ہیں تاہم 5 فیصد لوگ اصلاحات کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں تاکہ ان کے پرائیویٹ کلینک چل سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پشاور میں 37 سی ٹی سکین مشینیں ہیں لیکن لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں صرف ایک مشین چل رہی ہے جس کی وجہ سے تمام فائدہ ہڑتالی ڈاکٹر اپنے پرائیویٹ کلینکس میں اٹھار ہے ہیں،پاکستان کی تاریخ میں کبھی اتنی تنخواہیں نہیں بڑھیں جتنی پختونخوا حکومت نے ڈاکٹرز کی بڑھائیں۔ عمران خان نے کہاکہ پی آئی اے کی نجکاری اور ملازمین پر فائرنگ کی سخت مذمت کرتا ہوں۔پی آئی اے کی نجکاری کا معاملہ پارلیمنٹ میں لانا مسلم لیگ (ن) کی ذمہ داری تھی لیکن حکومت نے پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق کوئی بات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ نجکاری کے حوالے سے ن لیگ کی تاریخ بھری پڑی ہے ۔ عمران خان نے کہا کہ منصوبہ بندی کے تحت 2 مختلف ایشوز کو ملایا جارہا ہے ہم خیبر پختونخوا کے ہسپتالوں کی نجکاری نہیں کررہے بلکہ مینجمنٹ تبدیل کررہے ہیں اسی طرح کالجوں میں بھی اصلاحات لارہے ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -